سنن النسائي حدیث نمبر: 200
Sunan an-Nasa'i 200
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
133: بَابُ : الْفَصْلِ بَيْنَ مَاءِ الرَّجُلِ وَمَاءِ الْمَرْأَةِ
باب: مرد اور عورت کی منی میں فرق کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاءُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ كَانَ الشَّبَهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مرد کی منی گاڑھی اور سفید ہوتی ہے ، اور عورت کی منی پتلی زرد ہوتی ہے ، تو دونوں میں جس کی منی سبقت کر جائے ۱؎ بچہ اسی کی ہم شکل ہوتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 200]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی منی رحم میں پہلے پہنچ جائے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ «سَبَقَ» ، «غَلَبَ» کے معنی میں ہے یعنی جس کی منی غالب آ جائے اور مقدار میں طاقتور ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر رقم 195، (تحفة الأشراف: 1181) (صحیح)