سنن النسائي حدیث نمبر: 303
Sunan an-Nasa'i 303
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
189: بَابُ : بَوْلِ الصَّبِيِّ الَّذِي لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ
باب: دودھ پینے والے بچے کے پیشاب کا حکم۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا ، تو اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا ، اور اس سے کپڑے پر چھینٹا مار ، اور اسے دھویا نہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 303]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 59 (223)، الطب 10 (5693)، صحیح مسلم/الطہارة 31 (287)، سنن ابی داود/الطھارة 137 (374)، سنن الترمذی/الطھارة 54 (71)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 77 (524)، (تحفة الأشراف: 18342)، موطا امام مالک/الطھارة 30 (110)، مسند احمد 6/355، 356، سنن الدارمی/الطھارة 63 (768) (صحیح)