سنن النسائي حدیث نمبر: 240
Sunan an-Nasa'i 240
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
148: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: جنبی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءِ وَاحِدٍ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ، حَتَّى يَقُولَ: دَعِي لِي، وَأَقُولُ أَنَا: دَعْ لِي". قَالَ سُوَيْدٌ: يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ، فَأَقُولُ: دَعْ لِي، دَعْ لِي.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے ، ( کبھی ) آپ مجھ سے سبقت کر جاتے ، اور کبھی میں آپ سے سبقت کر جاتی ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” میرے لیے چھوڑ دو “ ، اور میں کہتی : میرے لیے چھوڑ دیجئیے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 240]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحیض 10 (321)، (تحفة الأشراف: 17969)، مسند احمد 6/91، 103، 118، 123، 161، 171، 172، 193، 235، 265، ویأتي عند المؤلف برقم: 414 (صحیح)