📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا (ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه) 🏷️ باب: باب: کافر جب اسلام لانے کا ارادہ کرے تو پہلے غسل کرے۔
عربی:
اردو:
127: بَابُ : تَقْدِيمِ غُسْلِ الْكَافِرِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُسْلِمَ
باب: کافر جب اسلام لانے کا ارادہ کرے تو پہلے غسل کرے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: إِنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ الْحَنَفِيَّ انْطَلَقَ إِلَى نَجْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، يَا مُحَمَّدُ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الْأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ، فَمَاذَا تَرَى؟" فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ مُخْتَصِرٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ثمامہ بن اثال حنفی ۱؎ مسجد نبوی کے قریب پانی کے پاس آئے ، اور غسل کیا ، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، اے محمد ! اللہ کی قسم میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرہ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا ، اور اب آپ کا چہرہ میرے لیے تمام چہروں سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو گیا ہے ، اور آپ کے گھوڑ سواروں نے مجھے گرفتار کر لیا ہے ، اور حال یہ ہے کہ میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں تو اب آپ کا کیا خیال ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بشارت دی ، اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کر لیں ، ( یہ حدیث یہاں مختصراً مذکور ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 189]
💡 وضاحت:
۱؎: یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک فرد تھے، اپنی قوم کے سردار بھی تھے، عمرہ کی ادائیگی کے لیے نکلے تھے، راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گشتی سواروں نے گرفتار کر لیا، اور انہیں مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے آئے، اور انہیں مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا گیا، تین دن کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا جس سے متاثر ہو کر وہ اسلام لے لائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 76 (462) مختصرًا، الخصومات 7 (2422) مختصرًا، المغازي 70 (4372) مطولاً، صحیح مسلم/الجھاد 19 (1764)، سنن ابی داود/الجھاد 124 (2679)، (تحفة الأشراف: 13007)، مسند احمد 2/452، 483، وسیأتی بعضہ برقم: 713 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #189
187 188 189 190 191
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ