سنن النسائي حدیث نمبر: 191
Sunan an-Nasa'i 191
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
129: بَابُ : وُجُوبِ الْغُسْلِ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ
باب: مرد و عورت کے ختنے مل جانے پر غسل کے واجب ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ اجْتَهَدَ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب مرد ، اس ( عورت ) کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھے ، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 191]
💡 وضاحت:
۱؎: ”شاخوں کے درمیان بیٹھے“ اس سے مراد عورت کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں یا دونوں پیر اور دونوں ران ہیں، اور ایک قول ہے کہ اس کی شرمگاہ کے چاروں اطراف مراد ہیں۔ ”پھر کوشش کرے“ کوشش کرنے سے کنایہ دخول کی جانب ہے، یعنی عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ میں داخل کر دے۔ ”غسل واجب ہو جاتا ہے“ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ غسل کے وجوب کا دارومدار دخول پر ہے اس کے لیے انزال شرط نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الغسل 28 (291)، صحیح مسلم/الحیض 22 (348)، سنن ابی داود/الطہارة 84 (216)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 111 (610)، (تحفة الأشراف: 14659)، مسند احمد 2/234، 347، 393، 471، 520، سنن الدارمی/الطہارة 75 (788) (صحیح)