سنن النسائي حدیث نمبر: 188
Sunan an-Nasa'i 188
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
126: بَابُ : ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لاَ يُوجِبُهُ - غُسْلُ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ
باب: کافر جب اسلام لائے تو اس کے غسل کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَغَرِّ وَهوَ ابْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ" فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ".
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اسلام لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 188]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ غسل کفر کی گندگی کے ازالہ اور نجاست کے احتمال کے دفعیہ کے لیے ہے، اکثر علماء کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے اور بعض کے نزدیک وجوبی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطھارة 131 (355)، سنن الترمذی/الصلاة 303 (605)، (تحفة الأشراف: 11100)، مسند احمد 5/61 (صحیح)