📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا (ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه) 🏷️ باب: باب: کافر جب اسلام لائے تو اس کے غسل کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
126: بَابُ : ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لاَ يُوجِبُهُ - غُسْلُ الْكَافِرِ إِذَا أَسْلَمَ
باب: کافر جب اسلام لائے تو اس کے غسل کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَغَرِّ وَهوَ ابْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ" فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ".
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اسلام لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 188]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ غسل کفر کی گندگی کے ازالہ اور نجاست کے احتمال کے دفعیہ کے لیے ہے، اکثر علماء کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے اور بعض کے نزدیک وجوبی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 131 (355)، سنن الترمذی/الصلاة 303 (605)، (تحفة الأشراف: 11100)، مسند احمد 5/61 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #188
186 187 188 189 190
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ