سنن النسائي حدیث نمبر: 219
Sunan an-Nasa'i 219
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
138: بَابُ : الْفَرْقِ بَيْنَ دَمِ الْحَيْضِ وَالاِسْتِحَاضَةِ
باب: حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: قالت فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں ، کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے ، حیض کا خون نہیں ہے ، جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو ، پھر جب اس کے بقدر ایام گزر جائیں تو خون دھو لو ، اور ( غسل کر کے ) نماز پڑھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 219]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحیض 8 (306)، سنن ابی داود/فیہ 109 (283)، (تحفة الأشراف: 17149)، موطا امام مالک/الطہارة 29 (104)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (801)، ویأتی عند المؤلف برقم: 366 (صحیح)