سنن النسائي حدیث نمبر: 212
Sunan an-Nasa'i 212
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
135: بَابُ : ذِكْرِ الأَقْرَاءِ
باب: قرء کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَاكِ قُرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّ، فَإِذَا مَرَّ قُرْؤُكِ فَتَطَهَّرِي ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقُرْءِ إِلَى الْقُرْءِ، هَذَا الدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْأَقْرَاءَ حَيْضٌ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَا ذَكَرَ الْمُنْذِرُ.
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، اور آپ سے خون آنے کی شکایت کی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ، تو دیکھتی رہو جب حیض ( کا دن ) آ جائے تو نماز چھوڑ دو ، پھر جب تمہارے حیض ( کے دن ) گزر جائیں ، اور تم پاک ہو جاؤ ، تو پھر دونوں حیض کے درمیان نماز پڑھو “ ۱؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : یہ حدیث ہشام بن عروہ نے عروہ سے روایت کی ہے ۲؎ انہوں نے اس چیز کا ذکر نہیں کیا جس کا ذکر منذر نے کیا ہے ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 212]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس حیض کے ختم ہونے سے لے کر دوسرے حیض کے آنے تک نماز پڑھو، اور جب دوسرا حیض آ جائے تو چھوڑ دو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ «قروء» سے مراد حیض ہے۔ ۲؎: مصنف نے اس جملہ کو اس بات کی دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے کہ قرآن مجید میں «قرء» سے مراد حیض ہے، محققین علماء کی رائے ہے کہ یہ لفظ اضداد میں سے ہے، حیض اور طہر دونوں کے لیے بولا جاتا ہے، خطابی کہتے ہیں کہ «قرء» دراصل اس وقت کو کہتے ہیں جس میں حیض یا طہر لوٹتا ہے، اسی وجہ سے حیض اور طہر دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ ۳؎: یعنی ہشام نے عروہ کے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سماع کا ذکر نہیں کیا ہے، اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس حدیث میں انقطاع ہے کیونکہ ہشام نے بیان کیا ہے کہ ان کے والد عروہ نے فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کے واقعہ کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے، ان کی روایت سند اور متن دونوں اعتبار سے منذر بن مغیرہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، لیکن بقول امام ابن القیم: عروہ نے فاطمہ سے سنا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (280) ابن ماجه (620) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 201، (تحفة الأشراف: 18019) (صحیح)