📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا (ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه) 🏷️ باب: باب: غسل کے لیے پانی کی تحدید نہ ہونے کا ذکر۔
عربی:
اردو:
145: بَابُ : ذِكْرِ الدِّلاَلَةِ عَلَى أَنَّهُ لاَ وَقْتَ فِي ذَلِكَ
باب: غسل کے لیے پانی کی تحدید نہ ہونے کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَهُوَ قَدْرُ الْفَرَقِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دونوں ) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے ، اور وہ فرق کے بقدر ہوتا تھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 232]
💡 وضاحت:
۱؎: فرق ایک پیمانہ ہے جس میں سولہ رطل کی سمائی ہوتی ہے جو اہل حجاز کے نزدیک ۱۲ مد یا تین صاع کے برابر ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16533، 16666)، من طریق معمر وحدہ، مسند احمد 6/127، 173، ومن طریق معمر وابن جریج مقرونین، مسند احمد 6/199 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #232
230 231 232 233 234
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ