سنن النسائي حدیث نمبر: 231
Sunan an-Nasa'i 231
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
144: بَابُ : ذِكْرِ الْقَدْرِ الَّذِي يَكْتَفِي بِهِ الرَّجُلُ مِنَ الْمَاءِ لِلْغُسْلِ
باب: کتنا پانی آدمی کے غسل کے لیے کافی ہو گا؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قال: تَمَارَيْنَا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ جَابِرٌ: " يَكْفِي مِنَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ مِنْ مَاءٍ"، قُلْنَا: مَا يَكْفِي صَاعٌ وَلَا صَاعَانِ، قَالَ جَابِرٌ: " قَدْ كَانَ يَكْفِي مَنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكُمْ وَأَكْثَرَ شَعْرًا".
ابو جعفر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے پاس غسل کے سلسلہ میں جھگڑ پڑے ، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : غسل جنابت میں ایک صاع پانی کافی ہے ، اس پر ہم نے کہا : ایک صاع اور دو صاع کافی نہیں ہو گا ، تو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات گرامی کو کافی ہوتا تھا ۱؎ جو تم سے زیادہ اچھے ، اور زیادہ بالوں والے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 231]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الغسل 3 (252)، (تحفة الأشراف: 2641) (صحیح)