سنن النسائي حدیث نمبر: 228
Sunan an-Nasa'i 228
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
144: بَابُ : ذِكْرِ الْقَدْرِ الَّذِي يَكْتَفِي بِهِ الرَّجُلُ مِنَ الْمَاءِ لِلْغُسْلِ
باب: کتنا پانی آدمی کے غسل کے لیے کافی ہو گا؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْرَ صَاعٍ، فَسَتَرَتْ سِتْرًا فَاغْتَسَلَتْ، فَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اور ان کے رضائی بھائی بھی آئے ، تو انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے متعلق پوچھا ؟ ، تو آپ رضی اللہ عنہا نے ایک برتن منگایا جس میں ایک صاع کے بقدر پانی تھا ، پھر ایک پردہ ڈال کر غسل کیا ، اور اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 228]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الغسل 3 (251)، صحیح مسلم/الحیض10 (320)، (تحفة الأشراف: 17792)، مسند احمد 6/71، 72، 143، 144، 173 (صحیح)