سنن النسائي حدیث نمبر: 280
Sunan an-Nasa'i 280
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
177: بَابُ : مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ وَالشُّرْبِ مِنْ سُؤْرِهَا
باب: حائضہ کے ساتھ کھانے اور اس کا جھوٹا پینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، سَأَلْتُهَا: هَلْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا وَهِيَ طَامِثٌ؟ قالت: نَعَمْ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْعُونِي فَآكُلُ مَعَهُ وَأَنَا عَارِكٌ، وَكَانَ يَأْخُذُ الْعَرْقَ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ فَأَعْتَرِقُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَعْتَرِقُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْعَرْقِ، وَيَدْعُو بِالشَّرَابِ فَيُقْسِمُ عَلَيَّ فِيهِ قَبْلَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهُ فَآخُذُهُ فَأَشْرَبُ مِنْهُ ثُمَّ أَضَعُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَشْرَبُ مِنْهُ وَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ وَضَعْتُ فَمِي مِنَ الْقَدَحِ".
شریح ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ کھا سکتی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے تو میں آپ کے ساتھ کھاتی اور میں حائضہ ہوتی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہڈی لیتے پھر اس کے سلسلہ میں آپ مجھے قسم دلاتے ، تو میں اس میں سے دانت سے نوچتی پھر میں اسے رکھ دیتی ، تو آپ لے لیتے اور اس میں سے نوچتے ، اور آپ اپنا منہ ہڈی پر اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا ، آپ پانی مانگتے ، اور پینے سے پہلے مجھے اس سے پینے کی قسم دلاتے ، چنانچہ میں لے کر پیتی ، پھر اسے رکھ دیتی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور پیتے ، اور اپنا منہ پیالے میں اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 280]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ ایسا اظہار محبت اور بیان جواز کے لیے کرتے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 70 (صحیح الإسناد)