سنن النسائي حدیث نمبر: 322
Sunan an-Nasa'i 322
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
204: بَابُ : التَّيَمُّمِ بِالصَّعِيدِ
باب: مٹی سے تیمم کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قال: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، أَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُعْتَزِلًا لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: " يَا فُلَانُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ، قَالَ: " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو الگ تھلگ بیٹھا دیکھا ، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے فلاں ! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا ؟ “ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے اور پانی نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( پانی نہ ملنے پر ) ” مٹی کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تمہارے لیے کافی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 322]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التیمم 6 (344)، 9 (348)، (تحفة الأشراف 10876)، مسند احمد 4/ 334 (صحیح)