📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا (ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه) 🏷️ باب: باب: تیمم کی ایک اور قسم۔
عربی:
اردو:
202: بَابُ : نَوْعٍ آخَرَ
باب: تیمم کی ایک اور قسم۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِد الْمَاءَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ثُمَّ صَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَكْفِيكَ، وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ". شَكَّ سَلَمَةُ، وَقَالَ: لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ. قَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ. قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ يَقُولُ الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ: مَا تَقُولُ؟ فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ أَحَدٌ غَيْرُكَ، فَشَكَّ سَلَمَةُ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي ذَكَرَ الذِّرَاعَيْنِ أَمْ لَا.
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : میں جنبی ہو گیا ہوں ، اور مجھے پانی نہیں ملا ( کیا کروں ؟ ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ( جب تک پانی نہ ملے ) تم نماز نہ پڑھو ، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : امیر المؤمنین ! کیا آپ کو یاد نہیں ؟ جب میں اور آپ دونوں ایک سریہ میں تھے ، تو ہم جنبی ہو گئے ، اور ہمیں پانی نہیں ملا ، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی ، لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا ، پھر میں نے نماز پڑھ لی ، تو جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا “ ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنے دونوں ہاتھ مارے ، پھر ان میں پھونک ماری ، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا ۔ سلمہ نے شک کیا اور کہا : مجھے نہیں معلوم کہ ( میرے شیخ ذر نے دونوں کہنیوں تک مسح کا ذکر کیا یا دونوں ہتھیلیوں تک ) ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس سلسلہ میں جو تم کہہ رہے ہو اس کی ذمہ داری ہم تمہارے ہی سر ڈالتے ہیں شعبہ کہتے ہیں : سلمہ دونوں ہتھیلیوں ، چہرے اور دونوں بازؤوں کا ذکر کر رہے تھے ، تو منصور نے ان سے کہا : یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ آپ کے سوا کسی اور نے بازؤوں کا ذکر نہیں کیا ہے ، تو سلمہ شک میں پڑ گئے اور کہنے لگے مجھے نہیں معلوم کہ ( ذر نے ) بازؤوں کا ذکر کیا یا نہیں ؟ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 320]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 313 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #320
318 319 320 321 322
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ