📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا (ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه) 🏷️ باب: باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا اور اس سے غسل کرنا منع ہے۔
عربی:
اردو:
140: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْبَوْلِ، فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ وَالاِغَتِسَالِ مِنْهُ
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا اور اس سے غسل کرنا منع ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے ، پھر یہ کہ اسی سے غسل بھی کرے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 222]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ ٹھہرا ہوا پانی اگر تھوڑا ہے تو پیشاب کرنے سے نجس (ناپاک) ہو جائے گا، اور اگر زیادہ ہے تو نجس (ناپاک) تو نہیں ہو گا لیکن پانی خراب ہو جائے گا، اور اس کے پینے سے لوگوں کو نقصان پہنچے گا، اس لیے اگر پانی تھوڑا ہو تو نہی تحریمی ہے اور زیادہ ہو تو تنزیہی۔ یعنی تھوڑے پانی میں پیشاب کے ممانعت کا مطلب اس فعل کا حرام ہونا ہے، اور زیادہ پانی ہو تو اس ممانعت کا مطلب نزاہیت و صفائی و ستھرائی مطلوب ہے، حرمت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 13392)، مسند احمد 2/394، 464 ویأتی عند المؤلف برقم: 399 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #222
220 221 222 223 224
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ