سنن النسائي حدیث نمبر: 251
Sunan an-Nasa'i 251
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
158: بَابُ : ذِكْرِ مَا يَكْفِي الْجُنُبَ مِنْ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى رَأْسِهِ
باب: سر پر کتنا پانی بہانا جنبی کے لیے کافی ہو گا؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قال: تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِنِّي لَأَغْسِلُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل کے سلسلے میں جھگڑ پڑے ، قوم کا ایک شخص کہنے لگا : میں اس اس طرح غسل کرتا ہوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہا میں تو میں اپنے سر پر تین لپ پانی بہاتا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 251]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الغسل 4 (254) مختصرًا، صحیح مسلم/الحیض 11 (327)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (239)، سنن ابن ماجہ/فیہ 95 (575)، (تحفة الأشراف: 3186)، صحیح مسلم/81، 84، 85، ویأتي عندالمؤلف برقم: 425 (صحیح)