سنن النسائي حدیث نمبر: 261
Sunan an-Nasa'i 261
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
167: بَابُ : وُضُوءِ الْجُنُبِ وَغَسْلِ ذَكَرِهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ
باب: جنبی کے سونے کا ارادہ کرنے پر اپنا عضو مخصوص دھونے اور وضو کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: ذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نَمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ رات میں جنبی ہو جاتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وضو کر لو اور اپنا عضو مخصوص دھو لو ، پھر سو جاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 261]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الغسل 27 (290)، صحیح مسلم/الحیض 6 (306)، سنن ابی داود/الطھارة 87 (221)، (تحفة الأشراف: 7224)، موطا امام مالک/الطہارة 19 (76)، مسند احمد 1/50، 46، 56، 64، 75، 116، 2/64 (صحیح)