سنن النسائي حدیث نمبر: 197
Sunan an-Nasa'i 197
کتاب #4: ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
131: بَابُ : غُسْلِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ
باب: احتلام ہونے پر عورت کے غسل کا بیان۔
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ غُسْلٌ إِذَا هِيَ احْتَلَمَتْ؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ"، فَضَحِكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: أَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَفِيمَ يُشْبِهُهَا الْوَلَدُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ حق بات ( بیان کرنے ) سے نہیں شرماتا ہے ( اسی لیے میں ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتی ہوں ) ، عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر غسل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، جب منی دیکھ لے “ ، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا ( یہ سن کر ) ہنس پڑیں ، اور کہنے لگیں : کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر لڑکا کس چیز کی وجہ سے اس کے مشابہ ( ہم شکل ) ہوتا ہے ؟ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 197]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم50 (130)، الغسل 22 (282)، الأنبیاء 1 (3328)، الأدب 67 (6091)، وباب 79 (6121)، صحیح مسلم/الحیض 7 (313)، سنن الترمذی/الطھارة 90 (122)، سنن ابن ماجہ/فیہ 107 (600)، (تحفة الأشراف: 18264)، موطا امام مالک/فیہ 21 (84)، مسند احمد 6/ 292، 302، 306 (صحیح)