📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا (ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه) 🏷️ باب: باب: برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے جنبی کے اپنے دونوں ہاتھ دھونے کا بیان۔
عربی:
اردو:
152: بَابُ : ذِكْرِ غَسْلِ الْجُنُبِ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الإِنَاءَ
باب: برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے جنبی کے اپنے دونوں ہاتھ دھونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وُضِعَ لَهُ الْإِنَاءُ، فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، حَتَّى إِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ، ثُمَّ صَبَّ بِالْيُمْنَى وَغَسَلَ فَرْجَهُ بِالْيُسْرَى، حَتَّى إِذَا فَرَغَ صَبَّ بِالْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ مِلْءَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جَسَدِهِ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو آپ کے لیے پانی کا برتن رکھا جاتا ، آپ برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالتے ، یہاں تک کہ جب اپنے ہاتھ دھو لیتے تو اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے ، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے پانی ڈالتے اور بائیں سے اپنی شرمگاہ دھوتے ، یہاں تک کہ جب فارغ ہو جاتے تو داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور دونوں ہاتھ دھوتے ، پھر تین بار کلی کرتے ، اور ناک میں پانی ڈالتے ، پھر اپنے لپ بھربھر کر تین بار اپنے سر پر پانی ڈالتے ، پھر اپنے پورے جسم پر ( پانی ) بہاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 244]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17737)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 1 (248)، 15 (272)، صحیح مسلم/الحیض 9 (316)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (242)، سنن الترمذی/الطھارة 76 (103)، مسند احمد 6/ 96، 115، 143، 161، 173، موطا امام مالک/الطھارة 17 (67)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 245، 246، 247 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #244
242 243 244 245 246
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ