📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا (ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه) 🏷️ باب: باب: حائضہ کو احرام کے غسل کے وقت چوٹی کھولنے کا حکم۔
عربی:
اردو:
151: بَابُ : ذِكْرِ الأَمْرِ بِذَلِكَ لِلْحَائِضِ عِنْدَ الاِغْتِسَالِ لِلإِحْرَامِ
باب: حائضہ کو احرام کے غسل کے وقت چوٹی کھولنے کا حکم۔
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا أَشْهَبُ، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، وَهِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ حَدَّثَاهُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْتُ بِالْعُمْرَةِ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ"، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، لَمْ يَرْوِهِ أَحَدٌ إِلَّا أَشْهَبُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا ، پھر میں مکہ پہنچی تو حائضہ ہو گئی ، تو میں نہ خانہ کعبہ کا طواف کر سکی ، نہ صفا و مروہ کے بیچ سعی ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا سر کھول لو ، کنگھی کر لو ، حج کا احرام باندھ لو ، اور عمرہ چھوڑ دو “ ، چنانچہ میں نے ( ایسا ہی ) کیا ، تو جب ہم نے حج پورا کر لیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا ( وہاں سے میں عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ آئی اور ) میں نے عمرہ کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تیرے اس عمرہ کی جگہ ہے “ ( جو حیض کی وجہ سے تجھ سے چھوٹ گیا تھا ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی رحمہ اللہ ) کہتے ہیں : ہشام بن عروہ کے واسطے سے مالک کی یہ حدیث غریب ہے ، مالک سے یہ حدیث صرف اشہب نے ہی روایت کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 243]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: حدیث مالک عن بن شہاب أخرجہ، صحیح البخاری/18 (319)، الحج 31 (1556)، 77 (1638)، المغازي 77 (4395)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/فیہ 23 (1781)، (تحفة الأشراف: 16591)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 38 (3000)، موطا امام مالک/ الحج 74 (223)، مسند احمد 6/ 86، 164، 168، 169، 77ا، 191، 246، وحدیث مالک عن ہشام بن عروة، تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 17175)، ویأتي عند المؤلف برقم: 2765 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #243
241 242 243 244 245
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ