📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا (ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه) 🏷️ باب: باب: حضر میں (دوران اقامت) تیمم کا بیان۔
عربی:
اردو:
196: بَابُ : التَّيَمُّمِ فِي الْحَضَرِ
باب: حضر میں (دوران اقامت) تیمم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، قال عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا تَذْكُرُ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ". وَسَلَمَةُ شَكَّ، لَا يَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ: نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ، ( کیا کروں ؟ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ( غسل کئے بغیر ) نماز نہ پڑھو ، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا : امیر المؤمنین ! کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ دونوں ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے ، تو ہم جنبی ہو گئے ، اور ہمیں پانی نہیں ملا ، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی ، اور رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز پڑھ لی ، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ سے ہم نے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارا ، پھر ان میں پھونک ماری ، پھر ان دونوں سے اپنے چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا - سلمہ کو شک ہے ، وہ یہ نہیں جان سکے کہ اس میں مسح کا ذکر دونوں کہنیوں تک ہے یا دونوں ہتھیلیوں تک - ( عمار رضی اللہ عنہ کی بات سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : جو تم کہہ رہے ہو ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 313]
💡 وضاحت:
ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ مجھے یہ یاد نہیں اس لیے میں یہ بات نہیں کہہ سکتا تم اپنی ذمہ داری پر اسے بیان کرنا چاہو تو کرو، عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما دونوں کی رائے یہ ہے کہ جنبی کے لیے تیمم درست نہیں، ان کے علاوہ باقی تمام صحابہ کرام اور اکثر علماء اور مجتہدین کا قول ہے کہ تیمم محدث (جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو) اور جنبی (جسے احتلام ہوا ہو) دونوں کے لیے ہے، اس قول کی تائید کئی مشہور حدیثوں سے ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التیمم 4 (338)، صحیح مسلم/الحیض 28 (368)، سنن ابی داود/الطھارة، سنن الترمذی/فیہ 110 (144)، سنن ابن ماجہ/فیہ 91 (569)، (تحفة الأشراف 10362)، مسند احمد 4/263، 265، 319، 320، سنن الدارمی/الطہارة66 (772) مختصرًا، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 317، 318، 319، 320 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #313
311 312 313 314 315

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#314 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِ...
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ چرا رہا تھا کہ میں جنبی ہو گیا ، اور مجھے پانی نہیں...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ