📖 سنن ابن ماجه (Sunan Ibn Majah) • تمام کتب ↗

كتاب الأطعمة

کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل

کتاب #33 • کل احادیث: 121
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : إِطْعَامِ الطَّعَامِ
باب: کھانا کھلانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، انْجَفَلَ النَّاسُ قِبَلَهُ، وَقِيلَ: قَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ، قَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ، ثَلَاثًا، فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ , عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ تَكَلَّمَ بِهِ , أَنْ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ".
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف تیزی سے بڑھے ، اور کہا گیا کہ اللہ کے رسول آ گئے ، اللہ کے رسول آ گئے ، اللہ کے رسول آ گئے ، یہ تین بار کہا ، چنانچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ پہنچا تاکہ ( آپ کو ) دیکھوں ، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اچھی طرح دیکھا تو پہچان گیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا ، اس وقت سب سے پہلی بات جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنی وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! سلام کو عام کرو ، کھانا کھلاؤ ، رشتوں کو جوڑو ، اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز ادا کرو ، ( ایسا کرنے سے ) تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3251]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب یہ سارے اچھے کام کرو گے تو ضرور تم کو جنت ملے گی، سبحان اللہ کیا عمدہ نصیحتیں ہیں، اور یہ سب اصولی ہیں، سعادت و نیک بختی اور خوش اخلاقی کے ناتے جوڑنا، یعنی اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ عمدہ سلوک کرنا، امام نووی کہتے ہیں کہ ابتداً سلام کرنا سنت ہے اور سلام کا جواب دینا واجب ہے، اگر جماعت کو سلام کرے تو بعضوں کا جواب دینا کافی ہو گا، اور افضل یہ ہے کہ جماعت میں ہر ایک ا بتداء سلام کرے، اور ہر ایک جواب ضروری دے اور کم درجہ یہ ہے کہ السلام علیکم کہے اور کامل یہ ہے کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے، اور السلام علیکم تو اتنی آواز سے کہنا کہ مخاطب سنے، اسی طرح سلام کا فوری جواب دینا ضروری ہے، جب کوئی شخص غائب کی طرف سے سلام پہنچائے اور بہتر ہے کہ یوں کہے علیک وعلیہ السلام، السلام علیکم الف ولام کے ساتھ افضل ہے، سلام علیکم بغیر الف اورلام کے بھی درست ہے، اور قرآن شریف میں ہے: «سلام عليكم طبتم فادخلوها خالدين» (سورة الزمر: 73)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: أنظرحدیث رقم: 1334، (تحفة الأشراف: 5331) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , كَانَ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَكُونُوا إِخْوَانًا، كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلام کو پھیلاؤ ، کھانا کھلاؤ ، اور بھائی بھائی ہو جاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3252]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7670، ومصباح الزجاجة: 1117)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/156) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 587)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا اسلام بہتر ہے ۱؎ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھانا کھلانا ، ہر شخص کو سلام کرنا ، چاہے اس کو پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3253]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسلام میں کون سا عمل بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان 6 (12)، 20 (28)، الاستئذان 9 (6236)، صحیح مسلم/الإیمان 14 (39)، سنن ابی داود/الأدب 142 (5194)، سنن النسائی/الإیمان 12 (5003)، (تحفة الأشراف: 8927)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/156) (صحیح)
2: بَابُ : طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ
باب: ایک شخص کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ، وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک شخص کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے ، اور چار کا کھانا آٹھ افراد کے لیے کافی ہوتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3254]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب ایک آدمی پیٹ بھر کھاتا ہو، تو وہ دو آدمیوں کو کافی ہو جائے گا، اس پر گزارہ کر سکتے ہیں گو خوب آسودہ نہ ہوں، بعضوں نے کہا: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب کھانے کی قلت ہو، اور مسلمان بھوکے ہوں، تو ہر ایک آدمی کو مستحب ہے کہ اپنے کھانے میں ایک اور بھائی کو شریک کرے، اس صورت میں دونوں زندہ رہ سکتے ہیں اور کم کھانے میں فائدہ بھی ہے کہ آدمی چست چالاک رہتا ہے اور صحت عمدہ رہتی ہے، بعضوں نے کہا: مطلب یہ ہے کہ جب آدمی کے کھانے میں دو بھائی مسلمان شریک ہوں گے، اور اللہ تعالی کا نام لے کر کھائیں گے، تو وہ کھانا دونوں کو کفایت کر جائے گا، اور برکت ہوگی، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 33 (2059)، (تحفة الأشراف: 2828)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 21 (1820)، مسند احمد (2/407، 3/301، 305، 382)، سنن الدارمی/الأطعمة 14، 2087) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَإِنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ، وَإِنَّ طَعَامَ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الْخَمْسَةَ وَالسِّتَّةَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے کافی ہوتا ہے ، دو کا کھانا تین اور چار کے لیے کافی ہوتا ہے ، اور چار کا کھانا پانچ اور چھ کے لیے کافی ہوتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3255]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عمرو بن دينار قھرمان آل الزبير ضعيف ¤ و الحديث السابق (الأصل: 3255) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10535، ومصباح الزجاجة: 1118) (ضعیف جدا) (سند میں عمرو بن دینار ہیں، جنہوں نے سالم سے منکر احادیث روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 561)
3: بَابُ : الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
باب: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنت میں کھاتا ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن ایک آنت میں کھاتا ہے ، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3256]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ کافر کئی طرح کا کھانا کھاتا ہے، سود کا، رشوت کا، غبن کا، چوری کا، ڈاکہ کا، بددیانتی کا، ملاوٹ کا، اور مومن صرف حلال کا کھانا کھاتا ہے۔ حدیث کا مقصود یہ ہے کہ کافر بہت کھاتا ہے اور مومن کم کھاتا ہے نیز یہ بات بطور اکثر کے ہے یہ مطلب نہیں کہ بہت کھانے والے کافر ہی ہوتے ہیں بعض مسلمان بھی بہت کھاتے ہیں شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ کافر کی تمام تر حرص پیٹ ہوتا ہے اور مومن کا اصل مقصود آخرت ہوا کرتی ہے پس مومن کی شان ہے کہ وہ کھانا کم کھاتا ہے اور زیادہ کھانے کی حرص کفر کی خصلت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 12 (5376، 5397)، (تحفة الأشراف: 13412)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة 34 (2062، 2063)، سنن الترمذی/الأطعمة 20 (1818، 1819)، موطا امام مالک/صفة النبی صلی اللہ علیہ وسلم 6 (9)، مسند احمد (2/21، 43، 74، 145، 257، 415، 435، 437، 455، 3/333، 346، 357، 392، 4/336، 5/370، 6/335، 397)، سنن الدارمی/الأطعمة 13 (2086) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ، اور مومن صرف ایک آنت میں کھاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3257]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 34 (2060)، (تحفة الأشراف: 7950)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 12 (5394، 5395)، سنن الترمذی/الأطعمة 20 (1818)، مسند احمد (2/21)، سنن الدارمی/الأطعمة 13 (2084) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن صرف ایک آنت میں کھاتا ہے ، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3258]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 34 (2061)، (تحقة الأشراف: 9050)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 20 (1818) (صحیح)
4: بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُعَابَ الطَّعَامُ
باب: کھانے میں عیب نکالنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: نُخَالِفُ فِيهِ، يَقُولُونَ: عَنْ أَبِي حَازِمٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا ، اگر آپ کو کھانا اچھا لگتا تو اسے کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3259]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 35 (2064)، (تحفة الأشراف: 15465)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: نُخَالِفُ فِيهِ، يَقُولُونَ: عَنْ أَبِي حَازِمٍ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ ہم اس سلسلے میں لوگوں کی مخالفت کرتے ہیں ، لوگ « ( الأعمش عن أبي حازم ( عن أبي هريرة ) » کہتے ہیں ( اس کے بجائے میں «الأعمش عن أبي يحيى عن أبي هريرة» روایت کرتا ہوں ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3259M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 35 (2064)، (تحفة الأشراف: 15465)
5: بَابُ : الْوُضُوءِ عِنْدَ الطَّعَامِ
باب: کھانے کے وقت وضو کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُكْثِرَ اللَّهُ خَيْرَ بَيْتِهِ، فَلْيَتَوَضَّأْ إِذَا حَضَرَ غَدَاؤُهُ وَإِذَا رُفِعَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو یہ پسند کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں خیر و برکت زیادہ کرے ، اسے چاہیئے کہ وضو کرے جب دوپہر کا کھانا آ جائے ، اور جب اسے اٹھا کر واپس لے جایا جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3260]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ كثير بن سليم: ضعيف ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1445، ومصباح الزجاجة: 1119) (ضعیف) (سند میں جبارہ بن المغلس اور کثیر بن سلیم دونوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 117)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا صَاعِدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا آتِيكَ بِوَضُوءٍ؟ قَالَ: " أُرِيدُ الصَّلَاةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو کھانا لایا گیا ، ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں آپ کے لیے وضو کا پانی نہ لاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں نماز ادا کرنا چاہتا ہوں “ ؟ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3261]
💡 وضاحت:
۱؎: جو وضو ضروری ہو، معلوم ہوا کہ کھانے سے پہلے وضو ضروری نہیں صرف ہاتھ دھونا ہی کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14229، ومصباح الزجاجة: 1120) (حسن صحیح) (سند میں صاعد بن عبید مقبول ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
6: بَابُ : الأَكْلِ مُتَّكِئًا
باب: ٹیک لگا کر کھانا کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا آكُلُ مُتَّكِئًا".
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3262]
💡 وضاحت:
۱؎: تکیہ لگا کر کھانا تکبر اور گھمنڈ کی نشانی ہے، اس وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پرہیز کیا، اور بعضوں نے کہا: عجمیوں کی نشانی ہے جو تکلف میں پھنسے ہوئے ہیں، اور آپ عرب میں پیدا ہوئے تھے بے تکلفی کو پسند کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 13 (5398، 5399)، سنن ابی داود/الأطعمة 17 (3769)، سنن الترمذی/الاطعمة 28 (1830)، (تحفة الأشراف: 11801)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/308، 309)، سنن الدارمی/الأطعمة 31 (2115) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ ، قَالَ: أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً , فَجَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ يَأْكُلُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟ فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے کھانے لگے ، اس پر ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے کہا : بیٹھنے کا یہ کون سا انداز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مہربان و شفیق بندہ بنایا ہے ، ناکہ مغرور اور عناد رکھنے والا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3263]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی دونوں زانو کھڑے کر کے بیٹھنا عاجزی اور انکساری کی علامت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بیٹھ کر کھانا پسند فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5202، ومصباح الزجاجة: 1121)، وقد أخرج بعضہ: سنن ابی داود/الأطعمة 18 (3773) (صحیح)
7: بَابُ : التَّسْمِيَةِ عِنْدَ الطَّعَامِ
باب: کھانے کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا أَنَّهُ لَوْ كَانَ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ، فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا , فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ، فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) آیا ، اور اس نے اسے دو لقموں میں کھا لیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ، اگر یہ شخص «بسم الله» کہہ لیتا ، تو یہی کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا ، لہٰذا تم میں سے جب کوئی کھانا کھائے تو چاہیئے کہ وہ ( «بسم الله» ) کہے ، اگر وہ شروع میں ( «بسم الله» ) کہنا بھول جائے تو یوں کہے : «بسم الله في أوله وآخره» “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3264]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ تعالی کا نام لیتا ہوں شروع اور اخیر دونوں میں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16267، ومصباح الزجاجة: 1122)، وقد أخر جہ: سنن ابی داود/الأطعمة 16 (3767)، سنن الترمذی/الأطعمة 47 (1858)، مسند احمد (6/143، 207، 246، 265)، سنن الدارمی/الأطعمة 1 (2063) (صحیح) (عبد بن عبید بن عمیر اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان سند میں انقطاع ہے، لیکن حدیث امیہ بن مخشی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1965)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آكُلُ: " سَمِّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب میں کھانے جا رہا تھا تو مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کا نام لو ، ، یعنی «بسم الله» کہہ کر کھانا شروع کرو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3265]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأطعمة 47 (1857)، (تحفة الأشراف: 10685)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 2 (5376)، صحیح مسلم/الأشربة 13 (2022)، سنن ابی داود/الأطعمة 20 (3777)، موطا امام مالک/صفة النبیﷺ 10 (32)، مسند احمد (4/27)، سنن الدارمی/الأطعمة 1 (2062) (صحیح)
8: بَابُ : الأَكْلِ بِالْيَمِينِ
باب: دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لِيَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِيَمِينِهِ، وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، وَلْيَأْخُذْ بِيَمِينِهِ، وَلْيُعْطِ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ، وَيُعْطِي بِشِمَالِهِ، وَيَأْخُذُ بِشِمَالِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھائے ، دائیں ہاتھ سے پیئے ، دائیں ہاتھ سے لے ، دائیں ہاتھ سے دے ، اس لیے کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے ، بائیں ہاتھ سے پیتا ہے ، بائیں ہاتھ سے دیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3266]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15420، ومصباح الزجاجة: 1123)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/349) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، سَمِعَهُ مِنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِي: " يَا غُلَامُ سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ".
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تربیت تھا ، میرا ہاتھ پلیٹ میں چاروں طرف چل رہا تھا ۱؎ ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” لڑکے ! «بسم الله» کہو ، دائیں ہاتھ سے کھاؤ ، اور اپنے قریب سے کھاؤ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3267]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی میں ہر طرف سے اٹھا اٹھا کر کھا رہا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 2 (5376)، صحیح مسلم/الإشربة 13 (2022)، سنن النسائی/الیوم و اللیلة (278، 279، 280)، (تحفة الأشراف: 10688)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبیﷺ 10 (32)، مسند احمد (4/ 26)، سنن الدارمی/الأطمة 1 (2062) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بائیں ہاتھ سے مت کھاؤ ، اس لیے کہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3268]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 13 (2019)، اللباس 20 (2099)، (تحفة الأشراف: 2917)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/اللباس 44 (4137)، موطا امام مالک/صفة النبیﷺ 4 (5)، مسند احمد (3/334، 349) (صحیح)
9: بَابُ : لَعْقِ الأَصَابِعِ
باب: (کھانے کے بعد) انگلیاں چاٹنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا"، قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ قَيْسٍ يَسْأَلُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ: أَرَأَيْتَ حَدِيثَ عَطَاءٍ، لَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا، عَمَّنْ هُوَ؟ قَالَ: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَإِنَّهُ حُدِّثْنَاهُ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ جَابِرٌ عَلَيْنَا، وَإِنَّمَا لَقِيَ عَطَاءٌ جَابِرًا فِي سَنَةٍ جَاوَرَ فِيهَا بِمَكَّةَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ نہ پونچھے یہاں تک کہ وہ چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے ، سفیان ( ابن عیینہ ) کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن قیس کو عمرو بن دینار سے سوال کرتے سنا کہ عطا کی حدیث : ” تم میں سے کوئی اپنا ہاتھ نہ صاف کرے یہاں تک کہ وہ اسے چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے “ کے بارے میں بتاؤ ، وہ کس سے مروی ہے ؟ عمرو بن دینار نے کہا : ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے ، عمرو بن دینار نے کہا : ہم نے یہ حدیث عطاء سے اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یاد کی ہے ، اور یہ بات جابر رضی اللہ عنہ کے ہمارے پاس آنے سے پہلے کی ہے جب کہ عطاء کی ملاقات جابر رضی اللہ عنہ سے اس سال ہوئی جب وہ مکہ میں قیام پزیر ہوئے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3269]
💡 وضاحت:
۱؎: اپنی بیوی یا بچہ یا لونڈی یا غلام کو، امام نووی کہتے ہیں کہ کھانے کی سنت میں سے یہ ہے کہ انگلیاں چاٹنا، اور تین انگلیوں سے کھانا، اور انگلیاں نہ چاٹنا کھانا ضائع کرنا ہے، اور شیطان کو دینا ہے، اور تکبر کی نشانی ہے، اسی طرح جو لقمہ دسترخوان پرگر جائے اس کا اٹھا لینا سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: حدیث جابر تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2467)، وحدیث ابن عباس أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 52 (5456)، صحیح مسلم/الأشربة 18 (2031)، (تحفة الأشراف: 5942)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة 52 (3847)، مسند احمد (1/293، 346، 370)، سنن الدارمی/الأطعمة 6 (2069) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَمْسَحْ أَحَدُكُمْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ کو صاف نہ کرے یہاں تک کہ اسے چاٹ لے ، اس لیے کہ اسے نہیں معلوم کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3270]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ سنت ہے گو اس زمانہ میں بعض متکبر دنیا دار اس کو تہذیب کے خلاف سمجھتے ہیں، وہ خود بے تہذیب ہیں، جب آدمی پاک صاف ہو، اور ہاتھ دھو کر کھانا کھائے، تو انگلیاں چاٹنے میں کیا قباحت ہے، البتہ ہاتھ نجس ہو اور چمچہ سے کھانا کھائے تو نہ چاٹے، اس سے پہلا ادب یہ بتلایا گیا ہے کہ «بسم اللہ» پڑھ کر کھانے یا پینے کا آغاز کیا جائے، دوسرا ادب یہ کہ داہنے ہاتھ سے کھایا جائے، اور تیسرا ادب یہ ہے کہ اپنے سامنے اور اپنے قریب سے کھایا جائے،اس صورت میں ہے کہ جب کھانا کسی بڑے برتن (طباق سینی یا تھالی وغیرہ) میں ہو اور بیک وقت کئی افراد مل کر کھا رہے ہوں، اور کھانا بھی ایک ہی قسم کا ہو اگر مختلف اقسام کی چیزیں ہوں، تو پھر دوسرے لوگوں کی طرف سے بھی ہاتھ بڑھا کر چیز لینا جائز ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 18 (2033)، (تحفة الأشراف: 2745)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/301، 331، 337، 365، 393) (صحیح)
10: بَابُ : تَنْقِيَةِ الصَّحْفَةِ
باب: کھانے کے بعد پلیٹ صاف کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْبَرَّاءُ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ، فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ فَلَحِسَهَا، اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ".
ام عاصم بیان کرتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام نبیشہ رضی اللہ عنہ آئے ، اس وقت ہم ایک بڑے پیالے میں کھانا کھا رہے تھے ، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” جو شخص کسی بڑے پیالے میں کھاتا ہے پھر چاٹ کر صاف کرتا ہے ، اس کے لیے یہ پیالہ استغفار کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3271]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ [3271۔3272] إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1804) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأطعمة 11 (1804)، (تحفة الأشراف: 11588)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/76)، سنن الدارمی/الأطمة 7 (2070) (ضعیف) (سند میں ام عاصم مجہول الحال ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُ: نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ لَنَا، فَقَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا، اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ".
معلی بن راشد ابوالیمان بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری دادی نے ہذیل کے نبیشہ الخیر نامی شخص سے نقل کیا کہ ایک بار جب ہم اپنے ایک بڑے پیالے میں کھا رہے تھے نبیشہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو شخص کسی پیالے میں کھائے ، اور اسے چاٹ کر صاف کر لے تو یہ پیالہ اس کے لیے استغفار کرے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3272]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ۔3272] إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1804) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
تخریج دارالدعوہ: أنظر ما قبلہ (ضعیف) (سند میں ام عاصم مجہول الحال ہیں)
11: بَابُ : الأَكْلِ مِمَّا يَلِيكَ
باب: (برتن میں اور دستر خوان پر) اپنے قریب سے کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلْيَأْكُلْ مِمَّا يَلِيهِ، وَلَا يَتَنَاوَلْ مِنْ بَيْنِ يَدَيْ جَلِيسِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دستر خوان لگایا جائے تو ہر شخص کو اس جانب سے کھانا چاہیئے جو اس سے قریب ہو ، وہ اپنے ساتھی کے سامنے سے نہ کھائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3273]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث الآتي (3295) ¤ عبد الأعلي بن أعين: ضعيف (تقريب: 3729) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7327، ومصباح الزجاجة: 1124) (ضعیف جدا) (عبدالاعلی بن اعین نے ابن ابی کثیر سے منکر احادیث روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 4254)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي السَّوِيَّةِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ ، عَنْ أَبِيهِ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَدَكِ , فَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا، فَخَبَطْتُ يَدِي فِي نَوَاحِيهَا، فَقَالَ: " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ"، ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنَ الرُّطَبِ، فَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ، وَقَالَ: " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ، فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ".
عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک لگن لایا گیا جس میں بہت سا ثرید اور روغن تھا ، ہم سب اس میں سے کھانے لگے ، میں اپنا ہاتھ پیالے میں ہر طرف پھرا رہا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عکراش ! ایک جگہ سے کھاؤ ، اس لیے کہ یہ پورا ایک ہی کھانا ہے “ ، پھر ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف اقسام کی تازہ کھجوریں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ طبق میں چاروں طرف گھومنے لگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عکراش ! جہاں سے جی چاہے کھاؤ ، اس لیے کہ اس میں کئی طرح کی کھجوریں ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3274]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1848) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأطعمة 41 (1848)، (تحفة الأشراف: 10016) (ضعیف) (علاء بن فضل ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5098)
12: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ الأَكْلِ مِنْ ذُرْوَةِ الثَّرِيدِ
باب: ثرید کے اونچے حصہ سے کھانا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ الْيَحْصَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا، وَدَعُوا ذُرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے اطراف سے کھاؤ ، اور اس کی چوٹی یعنی درمیان کو چھوڑ دو کہ اس میں برکت ہوتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3275]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأطعمة 18 (3773)، (تحفة الأشراف: 5199) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ الدَّرَفْسِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي قَسِيمَةَ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِ الثَّرِيدِ , فَقَالَ: " كُلُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا، وَاعْفُوا رَأْسَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَأْتِيهَا مِنْ فَوْقِهَا".
واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثرید کے اونچے حصہ پر ہاتھ رکھا ، اور فرمایا : ” بسم اللہ کہہ کر اس کے اطراف سے کھاؤ ، اور اس کے اونچے حصہ کو چھوڑ دو ، اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصے سے ہی آتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3276]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11743، ومصباح الزجاجة: 1125)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/490) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَخُذُوا مِنْ حَافَتِهِ، وَذَرُوا وَسَطَهُ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کھانا رکھ دیا جائے تو اس کے کنارے سے لو ، اور درمیان کو چھوڑ دو ، اس لیے کہ برکت اس کے درمیان میں نازل ہوتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3277]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأطعمة 18 (3772)، سنن الترمذی/الأطعمة 12 (1805)، (تحفة الأشراف: 5566)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/270، 300، 343، 343، 345، 364)، سنن الدارمی/الأطعمة 16 (2090) (صحیح)
13: بَابُ : اللُّقْمَةِ إِذَا سَقَطَتْ
باب: ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَتَغَدَّى , إِذْ سَقَطَتْ مِنْهُ لُقْمَةٌ , فَتَنَاوَلَهَا فَأَمَاطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى فَأَكَلَهَا، فَتَغَامَزَ بِهِ الدَّهَاقِينُ، فَقِيلَ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، إِنَّ هَؤُلَاءِ الدَّهَاقِينَ يَتَغَامَزُونَ مِنْ أَخْذِكَ اللُّقْمَةَ وَبَيْنَ يَدَيْكَ هَذَا الطَّعَامُ، قَالَ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِهَذِهِ الْأَعَاجِمِ، " إِنَّا كُنَّا نَأْمُرُ أَحَدُنَا , إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَتُهُ , أَنْ يَأْخُذَهَا فَيُمِيطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى وَيَأْكُلَهَا، وَلَا يَدَعَهَا لِلشَّيْطَانِ".
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دوپہر کا کھانا کھانے کے دوران ایک لقمہ ان سے گر گیا ، تو انہوں نے اسے اٹھایا ، اور اس میں لگے کچرے کو صاف کیا ، پھر اسے کھا لیا ( یہ دیکھ کر ) عجمی کسان ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کرنے لگے ، لوگوں نے کہا : اللہ امیر کا بھلا کرے ، آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہوتے ہوئے اس لقمے کو آپ کے اٹھانے پر یہ کسان لوگ آنکھوں سے باہم اشارے کر رہے ہیں ، وہ بولے : ان عجمیوں کی ( چہ مہ گوئیوں اور اشارے بازیوں کی ) وجہ سے میں اس بات کو ترک کرنے والا نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، ہم میں سے جب کسی کا لقمہ گر جاتا تو ہم اس سے کہتے کہ وہ اسے اٹھا لے اور اس میں لگی گندگی کو صاف کر لے پھر اسے کھا لے ، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے ا؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3278]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیثیں جن میں شیطان کے کھانے کا ذکر ہے اپنے ظاہری معنوں پر ہیں، اور مجازی معنی مراد نہیں ہے، اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے جو علم اپنے نبی کو دیا تھا، اس میں یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں اور شیاطین کا حال بھی جانتے تھے، اور ان کا پھرنا زمین میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد والمرفوع منه صحيح من حديث جابر وأنس م
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”منقطع،قال أبو حاتم: الحسن لم يسمع من معقل بن يسار“ ¤ والحديث الآتي في سنن ابن ماجه (الأصل:3279) يُغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11469، ومصباح الزجاجة: 1126)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 8 (2072) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کا سماع معقل بن یسار سے نہیں ہے، اس لئے انقطاع کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث جابر و انس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَقَعَتِ اللُّقْمَةُ مِنْ يَدِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَمْسَحْ مَا عَلَيْهَا مِنَ الْأَذَى، وَلْيَأْكُلْهَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے ، تو اسے چاہیئے کہ اس پر جو گندگی لگ گئی ہے اسے پونچھ لے اور اسے کھا لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3279]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 18 (2033)، سنن الترمذی/الأطعمة 11 (1802)، (تحفة الأشراف: 2305)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/315) (صحیح)
14: بَابُ : فَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ
باب: دیگر کھانوں پر ثرید کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ , وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ , كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردوں میں بہت سے لوگ کامل ہوئے لیکن عورتوں میں سوائے مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے کوئی کامل نہیں ہوئی ، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت دوسری عورتوں پر ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3280]
💡 وضاحت:
۱؎: ثرید بلا دقت بن جاتا ہے، اور اس کے ساتھ جلدی ہضم ہونے والا، خوش ذائقہ، مقوی، اور بے حد نفع بخش ہے، ایسے ہی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسلمانوں کو بہت فوائد حاصل ہوئے، اور سیکڑوں مسئلے معلوم ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأنبیاء 32 (3411)، 46 (3433)، فضائل الصحابة 30 (4769)، الأطعمة 25 (5418)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 12 (2431)، سنن الترمذی/الأطعمة 31 (1834)، سنن النسائی/عشرة النساء 3 (3399)، (تحفة الأشراف: 9029)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/394، 409) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہی ہے جیسے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3281]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة 30 (3770)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2446)، سنن الترمذی/المناقب 62 (3887)، (تحفة الأشراف: 970)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/156، 264)، سنن الدارمی/الأطعمة 29 (2113) (صحیح)
15: بَابُ : مَسْحِ الْيَدِ بَعْدَ الطَّعَامِ
باب: کھانے کے بعد ہاتھ پونچھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيُّ أَبُو الْحَارِثِ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا زَمَانَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَلِيلٌ مَا نَجِدُ الطَّعَامَ، فَإِذَا نَحْنُ وَجَدْنَاهُ , لَمْ يَكُنْ لَنَا مَنَادِيلُ إِلَّا أَكُفُّنَا وَسَوَاعِدُنَا وَأَقْدَامُنَا، ثُمَّ نُصَلِّي وَلَا نَتَوَضَّأُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: غَرِيبٌ لَيْسَ إِلَّا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں کھانا کم ہی میسر ہوتا تھا ، اور جب ہمیں کھانا میسر ہو جاتا تو ہمارے پاس رومال اور تولیے نہیں ہوتے تھے ، سوائے اپنی ہتھیلیوں ، بازوؤں اور پاؤں کے ، پھر ہم نماز پڑھتے ، اور دوبارہ وضو نہیں کرتے ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، یہ صرف محمد بن سلمہ سے مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3282]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 53 (5457)، (تحفة الأشراف: 2251)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 75 (191)، سنن الترمذی/الطہارة 59 (80) (صحیح) (ابن ماجہ کے سند کی البانی صاحب نے تضعیف کی ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابن ماجہ، و سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5675، اور ابن حجر نے محمد بن ابی یحییٰ کی تعیین فرمائی ہے کہ وہ ابن فلیح ہیں، اور ان فلیح کی کنیت ابو یحییٰ ہے، کیونکہ دونوں روایتوں کا سیاق ایک ہی ہے، فتح الباری 9/579)
16: بَابُ : مَا يُقَالُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الطَّعَامِ
باب: جب کھانے سے فارغ ہو تو کیا دعا پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ رِيَاحِ بْنِ عَبِيدَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا، قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھا لیتے تو یہ دعا پڑھتے : «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» یعنی ” حمد و ثناء ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3283]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ بڑی نعمت ہے کہ دین حق کی توفیق بخشی، اگر دنیا بہت ہو اور دین تباہ ہو تو بڑی مصیبت کی بات ہے، چند روز میں یہاں سے جانا ہے، ساری دنیا پڑی رہ جا ئے گی ہم چل دیں گے، ہمارے ساتھ جو جائے گا، وہ ہمارا دین ہے، یا اللہ! تو اپنے فضل سے سچے دین پر ہمیشہ قائم رکھ اور خاتمہ بالخیر فرما، «آمین یارب العالمین» ۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3457) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الدعوات 57 (3457)، (تحفة الأشراف: 4442)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة 53 (3850)، مسند احمد (3/32، 98) (ضعیف) (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز مولی ابو سعید مبہم ہیں ملاحظہ ہو: المشکاة: 4304)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا رُفِعَ طَعَامُهُ أَوْ مَا بَيْنَ يَدَيْهِ , قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا، غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب کھانا یا جو کچھ سامنے ہوتا اٹھا لیا جاتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا» ” اللہ تعالیٰ کی بہت بہت حمد و ثناء ہے ، وہ نہایت پاکیزہ اور برکت والا ہے ، وہ سب کو کافی ہے اس کے لیے کوئی کافی نہیں ، اسے نہ چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی بے نیاز ہوسکتا ہے ، اے ہمارے رب ! ( ہماری دعا سن لے ) “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3284]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 54 (5458)، سنن ابی داود/الأطعمة 53 (3849)، سنن الترمذی/الدعوات 57 (3456)، (تحفة الأشراف: 4856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/252، 256، 261، 267)، سنن الدارمی/الأطعمة 3 (2066) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ أَكَلَ طَعَامًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کھانا کھا کر یہ دعا پڑھے : «الحمد لله الذي أطعمني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه» ” حمد و ثناء اور تعریف ہے اس اللہ کی جس نے مجھے یہ کھلایا ، اور بغیر میری کسی طاقت اور زور کے اسے مجھے عطا کیا “ تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3285]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس 1 (4023)، سنن الترمذی/الدعوات 56 (3458)، (تحفة الأشراف: 11297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/439) (حسن)
17: بَابُ : الاِجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ
باب: ایک ساتھ کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَدَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالُوا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ وَحْشِيٍّ ، أنهم قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ: " فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُتَفَرِّقِينَ"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ".
وحشی بن حرب حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شاید الگ الگ متفرق ہو کر کھاتے ہو “ ، لوگوں نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھانا مل جل کر ایک ساتھ کھاؤ ، اور اللہ کا نام لیا کرو ، تو اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3286]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا اجتماعی کھانا شکم سیری اور حصول برکت کا سبب ہے اور اس سے گریز بے برکتی کا باعث ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3764) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأطعمة 15 (3764)، (تحفة الأشراف: 1179)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/501) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 97)۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ الْجَمَاعَةِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سب مل کر کھانا کھاؤ ، اور الگ الگ ہو کر مت کھاؤ ، اس لیے کہ برکت سب کے ساتھ مل کر کھانے میں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3287]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا والجملة الأولى ثابتة
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (3255) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10535، ومصباح الزجاجة: 1127) (ضعیف جدا) (عمرو بن دینار قہرمان آل الزبیر نے سالم سے منکر احادیث روایت کی ہے، اس لئے حدیث ضعیف ہے، لیکن پہلا جملہ كلوا جميعا ولا تفرقوا ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2691، تراجع الألبانی: رقم: 361)
18: بَابُ : النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ
باب: کھانے میں پھونک مارنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفُخُ فِي طَعَامٍ، وَلَا شَرَابٍ، وَلَا يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کی چیزوں میں نہ پھونک مارتے تھے ، اور نہ ہی برتن کے اندر سانس لیتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3288]
قال الشيخ الألباني: ضعيف وقد صح من قوله صلى الله عليه وسلم
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ شريك بن عبد اللّٰه القاضي عنعن ¤ و رواه أبو داود (3728) والحميدي (526) من طريق آخر عن عبدالكريم الجزري به بلفظ: ”نھي رسول اللّٰه ﷺ أن يتنفس في الإناء أو ينفخ فيه“ و سنده صحيح وھو يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأشربة 20 (3728)، سنن الترمذی/الأشربة 15 (1888)، (تحفة الأشراف: 6149)، وقد أخرجہ: حم1/220، 309ھ 357)، سنن الدارمی/الأشربة 27 (2180) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی سئی الحفظ ہیں، جنہوں نے حدیث کو فعل رسول بنا دیا، جب کہ یہ قول رسول سے ثابت ہے کہ آپ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے، جب کہ مؤلف کے یہاں: (3429) نمبر پر آ رہا ہے)
19: بَابُ : إِذَا أَتَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ
باب: خادم کھانا لے کر آئے تو اس میں سے کچھ اسے بھی دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ , فَلْيُجْلِسْهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ، فَإِنْ أَبِي فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے پاس اس کا خادم کھانا لے کر آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ خادم کو اپنے ساتھ بیٹھائے اور اس کے ساتھ کھائے ، اور اگر اپنے ساتھ کھلانا پسند نہ کرے تو اسے چاہیئے کہ وہ کھانے میں سے اسے بھی دے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3289]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ مروت اور احسان ہے اگرچہ اس خادم کے لئے کھانا مقرر نہ ہو، نقد ہو یا اس کا کھانا الگ ہو خادم سے عام مراد ہے لونڈی ہو یا غلام مزدور یا نوکر یا خدمت کرنے والا وغیرہ، سبحان اللہ، اسلام کے اور مسلمانوں کے مثل کس شریعت اور کس قوم میں اخلاق ہیں کہ مالک اور غلام دونوں ایک ساتھ مل کر کھائیں، اور دونوں ایک سا کپڑا پہنیں اگرچہ اب بعض مغرور متکبر مسلمان ان پر عمل نہ کرتے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12935)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 55 (5460)، صحیح مسلم/الإیمان 10 (1663)، سنن الترمذی/الأطعمة 44 (1853)، سنن ابی داود/الأطعمة 51 (3846)، مسند احمد (2/316)، سنن الدارمی/الأطعمة 33 (2117) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَحَدُكُمْ قَرَّبَ إِلَيْهِ مَمْلُوكُهُ طَعَامًا، قَدْ كَفَاهُ عَنَاءَهُ وَحَرَّهُ , فَلْيَدْعُهُ فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيَجْعَلْهَا فِي يَدِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کا غلام جب اس کے سامنے کھانا پیش کرے جس کو تیار کرنے میں اس نے اس کی طرف سے تکلیف اور گرمی برداشت کی ہے ، تو اسے چاہیئے کہ اسے بھی بلائے تاکہ وہ بھی اس کے ساتھ کھائے ، اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کو چاہیئے کہ ایک لقمہ لے کر اس کے ہاتھ پر رکھ دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3290]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13642)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق 18 (2557)، صحیح مسلم/الأیمان 10 (1663)، سنن الترمذی/الأطعمة 44 (1853)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/245) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ , فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ، وَلِيُنَاوِلْهُ مِنْهُ، فَإِنَّهُ هُوَ الَّذِي وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کا غلام کھانا لے کر آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ غلام کو اپنے ساتھ بٹھائے ، یا یہ کہ اس میں سے اسے بھی دے ، اس لیے کہ وہی تو ہے جس نے اس کی گرمی اور اس کے دھوئیں کی تکلیف اٹھائی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3291]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9494، ومصباح الزجاجة: 1128)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 446) (حسن صحیح) (سند میں ابراہیم بن مسلم الہجری ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 104- 1043)
20: بَابُ : الأَكْلِ عَلَى الْخِوَانِ وَالسُّفْرَةِ
باب: میز اور دستر خوان پر کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ الْإِسْكَافِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ، وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ، قَالَ: فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: عَلَى السُّفَرِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوان ( میز ) پر کبھی نہیں کھایا ، اور نہ «سکرجہ» ( چھوٹی طشتری ) ۱؎ میں کھایا ۔ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے ؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : دستر خوان پر ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3292]
💡 وضاحت:
۱؎: «سکرجہ» (چھوٹی طشتری) میں چٹنی اور کھٹائی وغیرہ رکھی جاتی ہے جس سے کھانے کی خواہش بڑھتی ہے یہ عیش پسندوں کا طریقہ ہے آپ کو یہ چیز پسند نہیں تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 8 (5386)، 23 (5415)، سنن الترمذی/الأطعمة 1 (1788)، (تحفة الأشراف: 1444)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/130) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَكَلَ عَلَى خِوَانٍ حَتَّى مَاتَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دستر خوان پر کھاتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3293]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 8 (5385)، الرقاق 16 (6450)، سنن الترمذی/الأطعمة 1 (1888)، الزہد 38 (2363)، (تحفة الأشراف: 1174)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/130) (صحیح)
21: بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُقَامَ عَنِ الطَّعَامِ حَتَّى يُرْفَعَ وَأَنْ يَكُفَّ يَدَهُ حَتَّى يَفْرُغَ الْقَوْمُ
باب: کھانا اٹھا لیے جانے سے پہلے اٹھنا اور لوگوں کے کھا لینے سے پہلے ہاتھ روک لینا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُنِيرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " نَهَى أَنْ يُقَامَ عَنِ الطَّعَامِ حَتَّى يُرْفَعَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ لوگ کھانا اٹھائے جانے سے پہلے اٹھ جائیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3294]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الوليد بن مسلم عنعن ¤ ومنير بن الزبير الشامي: ضعيف (تقريب: 6920) ومكحول عن عائشة: منقطع والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17668، ومصباح الزجاجة: 1129) (ضعیف جدا) (سند میں ولید بن مسلم مدلس اور مکحول ضعیف اور منیر بن زبیر کثیر الارسال راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 294)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلَا يَقُومُ رَجُلٌ حَتَّى تُرْفَعَ الْمَائِدَةُ , وَلَا يَرْفَعُ يَدَهُ , وَإِنْ شَبِعَ حَتَّى يَفْرُغَ الْقَوْمُ , وَلْيُعْذِرْ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يُخْجِلُ جَلِيسَهُ فَيَقْبِضُ يَدَهُ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ لَهُ فِي الطَّعَامِ حَاجَةٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب دستر خوان لگا دیا جائے تو کوئی شخص اس کے اٹھائے جانے سے پہلے نہ اٹھے ، اور نہ ہی اپنا ہاتھ کھینچے گرچہ وہ آسودہ ہو چکا ہو جب تک کہ دوسرے لوگ بھی کھانے سے فارغ نہ ہو جائیں ، ( اور اگر ایسا کرنا ضروری ہو ) تو عذر پیش کر دے ، اس لیے کہ آدمی اپنے ساتھی سے شرماتا ہے تو اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ابھی اس کو کھانے کی حاجت ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3295]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (3273) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7327، ومصباح الزجاجة: 1130) (ضعیف جدا) (سند میں عبدالاعلی ہیں جنہوں نے ابن أبی کثیر سے منکر حدیثیں روایت کی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 238)
22: بَابُ : مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ
باب: رات سو کر اٹھنے والے کے ہاتھ میں (کھانے یا گوشت کی) چکنائی کی بو ہو تو کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَسِيمٍ الْجَمَّالُ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا , لَا يَلُومَنَّ امْرُؤٌ إِلَّا نَفْسَهُ، يَبِيتُ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! وہ شخص خود اپنے ہی کو ملامت کرے جو رات اس طرح گزارے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3296]
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18042، ومصباح الزجاجة: 1131) (حسن) (سند میں جبارہ ضعیف ہے، لیکن ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ , فَلَمْ يَغْسِلْ يَدَهُ , فَأَصَابَهُ شَيْءٌ، فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص جب اس حالت میں سوئے کہ اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو ، اور اس نے اپنا ہاتھ نہ دھویا ہو ، پھر اسے کسی چیز نے نقصان پہنچایا تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3297]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12730)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة 54 (3852)، سنن الترمذی/الأطعمة 48 (1860)، مسند احمد (2/ 263، 537)، سنن الدارمی/الأطعمة 27 (2107) (صحیح)
23: بَابُ : عَرْضِ الطَّعَامِ
باب: کھانا پیش کیے جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ , فَعَرَضَ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: لَا نَشْتَهِيهِ، فَقَالَ: " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کھانے کو کہا ، ہم نے عرض کیا : ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ بھوک اور غلط بیانی کو اکٹھا نہ کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3298]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ کوئی کھانے کو کہے تو بھوک رکھ کر یوں کہتے ہیں: مجھے خواہش نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، اگر بھوک ہے تو کھانا کھا لینا چاہیے ورنہ غلط بیانی میں بھوکا رہے، اور عذاب میں مبتلا ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: آداب الزفاف: 92، المشکاة: 3256)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ: " ادْنُ فَكُلْ"، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَيَا لَهْفَ نَفْسِي! هَلَّا كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ ( جو قبیلہ بنی عبدالاشہل کے ایک شخص ہیں ) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آؤ کھانا کھاؤ “ ، ، میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں ، تو ہائے افسوس کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھا لیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3299]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: أنظر حدیث رقم: (1667) (حسن صحیح)
24: بَابُ : الأَكْلِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيَّ ، يَقُولُ: " كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي الْمَسْجِدِ , الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ".
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد میں روٹی اور گوشت کھایا کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3300]
💡 وضاحت:
۱؎: مسجد کے اندر کھانے میں کچھ حرج نہیں خصوصاً مسافروں کے لئے اور جن لوگوں کے گھر نہیں ہیں،لیکن یہ ضرور ہے کہ مسجد کو آلودہ، اور گندہ، اور غلیظ نہ کریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5238، ومصباح الزجاجة: 1133) (صحیح)
25: بَابُ : الأَكْلِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَأْكُلُ وَنَحْنُ نَمْشِي، وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چلتے پھرتے کھاتے تھے ، اور کھڑے کھڑے پیتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3301]
💡 وضاحت:
۱ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھڑے رہ کر یا چلتے چلتے کھانا پینا درست ہے بعضوں نے اس کو مکروہ کہا ہے، اور زمزم کے پانی کو خاص کیا ہے کہ اس کا کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے، باقی سب پانیوں کو بیٹھ کر پینا بہتر ہے، انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع کیا ہے، البانی صاحب سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ (۲۸۹ ؍۱) میں فرماتے ہیں کہ اس باب میں علماء کا اختلاف ہے، جمہور کے نزدیک یہ نہی تنزیہی ہے، (یعنی کھڑے ہو کر نہ پینا زیادہ بہترہے) اور کھڑے ہو کر پینے والے سے جو آپ نے قے کرنے کے لیے کہا تو یہ مستحب ہے، لیکن ابن حزم نے ان کی مخالفت کی اور کھڑے ہو کر پینے کو حرام کہا، شاید کہ یہی مذہب صحت سے زیادہ قریب ہے، کھڑے ہو کر پینے والی احادیث کے بارے میں اس بات کا امکان ہے کہ ان کو عذر پر محمول کیا جائے، جیسے جگہ کا تنگ ہونا یا مشک کا لٹکا ہوا ہونا بعض احادیث میں اس کی طرف اشارہ بھی ہے، واللہ اعلم۔ (ملاحظہ ہو: الأختیارات الفقہیۃ للأمام الألبانی ۴۷۷)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأشربة 11 (1880)، (تحفة الأشراف: 7821)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/108، 12، 24، 29)، سنن الدارمی/ الأشربة 23 (2171) (صحیح)
26: بَابُ : الدُّبَّاءِ
باب: کدو کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، أَنْبَأَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْقَرْعَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کدو پسند فرماتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3302]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 730)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 30 (2092)، الأطعمة 4 (5379)، 25 (5420)، صحیح مسلم/الأشربة 21 (2041)، سنن الترمذی/الأطعمة 42 (1850)، موطا امام مالک/النکاح 21 (51)، سنن الدارمی/الأطعمة 19 (2095) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ أَجِدْهُ , وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ دَعَاهُ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا , فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ، قَالَ: " فَدَعَانِي لِآكُلَ مَعَهُ، قَالَ: وَصَنَعَ ثَرِيدَةً بِلَحْمٍ، وَقَرْعٍ، قَالَ: فَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ فَأُدْنِيهِ مِنْهُ، فَلَمَّا طَعِمْنَا مِنْهُ، رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ، وَوَضَعْتُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَقْسِمُ , حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا بھیجا ، جس میں تازہ کھجور تھے ، میں نے آپ کو نہیں پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک غلام کے پاس قریب میں تشریف لے گئے تھے ، اس نے آپ کو دعوت دی تھی ، اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا ، آپ کھا رہے تھے کہ میں بھی جا پہنچا تو آپ نے مجھے بھی اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلایا ، ( غلام نے ) گوشت اور کدو کا ثرید تیار کیا تھا ، میں دیکھ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو بہت اچھا لگ رہا ہے ، تو میں اس کو اکٹھا کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھانے لگا ، پھر جب ہم اس میں سے کھا چکے ، تو آپ اپنے گھر واپس تشریف لائے ، میں نے ( تازہ کھجور کا ) ٹوکرا آپ کے سامنے رکھ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے لگے اور آپ تقسیم بھی کرتے جاتے تھے ، یہاں تک کہ اسے بالکل ختم کر دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3303]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 759، ومصباح الزجاجة: 1134) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ , وَعِنْدَهُ هَذَا الدُّبَّاءُ، فَقُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ هَذَا؟ قَالَ: " هَذَا الْقَرْعُ، هُوَ الدُّبَّاءُ نُكْثِرُ بِهِ طَعَامَنَا".
جابر ( جابر بن طارق ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے گھر گیا ، آپ کے پاس یہ کدو رکھا ہوا تھا تو میں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ «قرع» یعنی کدو ہے ، ہم اس سے اپنے کھانے زیادہ کرتے ہیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3304]
💡 وضاحت:
۱؎: سالن بڑھاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ شمائل الترمذي(160) ¤ إسماعيل بن أبي خالد عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2211، ومصباح الزجاجة: 1135)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/153، 177، 206) (صحیح)
27: بَابُ : اللَّحْمِ
باب: گوشت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي مَشْجَعَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيِّدُ طَعَامِ أَهْلِ الدُّنْيَا وَأَهْلِ الْجَنَّةِ، اللَّحْمُ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اہل دنیا اور اہل جنت کے کھانوں کا سردار گوشت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3305]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ سليمان بن عطاء الجزري: منكر الحديث (تقريب: 2594) ¤ وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (302/2) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10975، ومصباح الزجاجة: 1136) (ضعیف جدا) (سلیمان جزری منکر الحدیث ہیں، اس حدیث کو ابن الجوزی نے الموضوعات میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3724)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي مَشْجَعَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: " مَا دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى لَحْمٍ قَطُّ , إِلَّا أَجَابَ، وَلَا أُهْدِيَ لَهُ لَحْمٌ قَطُّ , إِلَّا قِبَلَهُ".
ابوالدرد۱ء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت کی دعوت دی گئی ہو اور اسے آپ نے قبول نہ کیا ہو ، اور نہ ہی ایسا ہوا کہ آپ کو گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا ہو اور آپ نے اسے قبول نہ فرمایا ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3306]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ انظر الحديث السابق (3305) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10976) (ضعیف جدا) (سلیمان بن عطاء منکر الحدیث راوی ہے)
28: بَابُ : أَطَايِبِ اللَّحْمِ
باب: جانور کا کس جگہ کا گوشت سب سے عمدہ اور لذیذ ہوتا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ، فَنَهَسَ مِنْهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دن گوشت آیا ، تو آپ کو دست کا گوشت پیش کیا گیا ، اس لیے کہ وہ آپ کو بہت پسند تھا تو آپ نے اس میں سے دانت سے نوچ کر کھایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3307]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر القرآن سورة 17 (4712)، صحیح مسلم/الإیمان 84 (194)، سنن الترمذی/الأطعمة 34 (1837)، القیامة 10 (2434)، (تحفة الأشراف: 14927)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/331، 435) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ فَهْمٍ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ يُسَمَّى مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، يُحَدِّثُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، وَقَدْ نَحَرَ لَهُمْ جَزُورًا أَوْ بَعِيرًا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: وَالْقَوْمُ يُلْقُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّحْمَ , يَقُولُ: " أَطْيَبُ اللَّحْمِ، لَحْمُ الظَّهْرِ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے جنہوں نے لوگوں کے لیے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے سنا ہے جب لوگ آپ کے لیے گوشت ڈال رہے تھے : ” سب سے عمدہ اور لذیذ پٹھے کا گوشت ہوتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3308]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5227، ومصباح الزجاجة: 1137)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/204، 205) (ضعیف) (محمد بن عبد اللہ کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2813)
29: بَابُ : الشِّوَاءِ
باب: بھنے ہوئے گوشت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى شَاةً سَمِيطًا، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھنی ہوئی بکری دیکھی ہو یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3309]
💡 وضاحت:
۱؎: «سمیط» وہ بکری جس کو بال نکال کر کھال سمیت بھونا گیا ہو، یہ امیروں کا کھانا ہے، اور دوسرے لوگ کھال نکال کر گوشت بھونتے ہیں، اور مطلب اس کا یہ ہے کہ مکمل بھنی ہوئی بکری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیکھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرقاق 17 (6457)، الأطعمة 26 (5385)، (تحفة الأشراف: 1406)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/128، 134، 250) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: " مَا رُفِعَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ شِوَاءٍ قَطُّ , وَلَا حُمِلَتْ مَعَهُ طِنْفِسَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے بچا ہوا بھنا گوشت نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی آپ کے ساتھ کبھی دری ( چٹائی ) لے جائی گئی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3310]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ جبارة وكثير بن سليم مجروحان ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1446، ومصباح الزجاجة: 1138) (ضعیف) (جبارہ اور کثیر بن سلیم دونوں ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ زِيَادٍ الْحَضْرَمِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الجَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ , قَالَ: " أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِي الْمَسْجِدِ , لَحْمًا قَدْ شُوِيَ , فَمَسَحْنَا أَيْدِيَنَا بِالْحَصْبَاءِ , ثُمَّ قُمْنَا فُصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بھنا ہوا گوشت کھایا ، پھر ہم نے اپنے ہاتھ کنکریوں سے پونچھ لیے ، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہم نے ( پھر سے ) وضو نہیں کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3311]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون مسح الأيدي
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن لھيعة اختلط و لم يحدث بھذا اللفظ قبل اختلاطه ¤ والحديث السابق (الأصل: 3300) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5232، ومصباح الزجاجة: 1139)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/191) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف راوی ہیں، فمسحنا أيدينا بالحصباء کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی دادو: 187)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3300)
30: بَابُ : الْقَدِيدِ
باب: سوکھے گوشت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ , فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُ , فَقَالَ لَهُ: " هَوِّنْ عَلَيْكَ , فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ , إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ" , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: إِسْمَاعِيل وَحْدَهُ , وَصَلَهُ.
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، آپ نے اس سے گفتگو کی تو ( خوف کی وجہ سے ) اس کے مونڈھے کانپنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : ” ڈرو نہیں ، اطمینان رکھو ، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں ، میں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی ۱؎ ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں : صرف اسماعیل نے اسے موصول بیان کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3312]
💡 وضاحت:
۱؎: «قدید» : ایسے گوشت کو کہتے ہیں جسے نمک لگا کر دھوپ میں سکھایا گیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ إسماعيل بن أبي خالد عنعن في ھذا السند ¤ و صرح بالسماع في الرواية المرسلة عند الخطيب (278/6) والمرسل أصح كما قال الدار قطني وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10006، ومصباح الزجاجة: 1140) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ , أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَيَأْكُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ قربانی کے گوشت میں سے پائے اکٹھا کر کے رکھ دیتے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ روز کے بعد انہیں کھایا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3313]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 27 (5423)، سنن الترمذی/الأضاحي 14 (1511)، (تحفة الأشراف: 16165)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/128، 136)، (حدیث مکرر ہے، د یکھے: 3159) (صحیح)
31: بَابُ : الْكَبِدِ وَالطِّحَالِ
باب: کلیجی اور تلی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ , فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ , وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کر دئیے گئے ہیں : رہے دونوں مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہے ، اور رہے دونوں خون : تو وہ جگر ( کلیجی ) اور تلی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3314]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ دونوں بھی خون ہیں گو جمے ہوئے سہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (3218) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6738، ومصباح الزجاجة: 1141)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/97) (صحیح) (سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہے، سلیمان بن بلال نے ان کی متابعت کی ہے لیکن عمر رضی اللہ عنہ پر موقوف کیا ہے، اور وہ حکما مرفوع ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1118)
32: بَابُ : الْمِلْحِ
باب: نمک کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى , عَنْ رَجُلٍ أُرَاهُ مُوسَى , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيِّدُ إِدَامِكُمُ الْمِلْحُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے سالنوں کا سردار نمک ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3315]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ عيسي الحناط:متروك ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1618، ومصباح الزجاجة: 1142) (ضعیف) (عیسیٰ بن ابی عیسیٰ متروک ہے)
33: بَابُ : الاِئْتِدَامِ بِالْخَلِّ
باب: سرکہ کو سالن کے طور پر استعمال کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3316]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 30 (2051)، سنن الترمذی/الأطعمة 35 (1840)، (تحفة الأشراف: 16943)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 18 (2093) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ , عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3317]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ قَالَ:
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأطعمة 40 (3820)، سنن الترمذی/الأطعمة 35 (1842)، (تحفة الأشراف: 2579)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة الأطعمة 30 (2052)، سنن النسائی/الأیمان والنذور 20 (3827)، مسند احمد (3/304، 371، 389، 390، سنن الدارمی/الأطعمة 18 (2092) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَعْدٍ , قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَأَنَا عِنْدَهَا , فَقَالَ: " هَلْ مِنْ غَدَاءٍ" , قَالَتْ: عِنْدَنَا خُبْزٌ وَتَمْرٌ وَخَلٌّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ , اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي الْخَلِّ , فَإِنَّهُ كَانَ إِدَامَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي , وَلَمْ يَفْتَقِرْ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ".
ام سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، میں انہیں کے پاس تھی ، آپ نے سوال کیا : ” کیا کچھ کھانے کو ہے “ ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : ہمارے پاس روٹی ، کھجور اور سرکہ ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے ، اے اللہ ! سر کے میں برکت عطا فرما ، اس لیے کہ مجھ سے پہلے انبیاء کا سالن یہی تھا ، اور ایسا گھر کبھی فقر کا شکار نہیں ہوا جس میں سرکہ موجود ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3318]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ عنبسة: متروك متهم و محمد بن زاذان: متروك ¤ وأصله في صحيح مسلم (2052) دون قوله: ’’اللھم بارك في الخل فإنه كان إدام الأنبياء قبلي“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18321، ومصباح الزجاجة: 1143) (موضوع) (عنبسہ بن عبدالرحمن اور محمد بن زاذان کی وجہ سے یہ موضوع ہے، لیکن پہلا جملہ ثابت ہے، جیسا کہ اوپر گذرا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2220)
34: بَابُ : الزَّيْتِ
باب: زیتون کے تیل کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْتَدِمُوا بِالزَّيْتِ وَادَّهِنُوا بِهِ , فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زیتون کا تیل بطور سالن استعمال کرو ، اور اس کو اپنے سر اور بدن میں لگاؤ اس لیے کہ یہ مبارک درخت سے نکلتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3319]
💡 وضاحت:
۱؎: اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس کو شجرہ مبارکہ فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأطعمة 43 (1851)، (تحفة الأشراف: 10392)، وقد أخرخہ: مسند احمد (3/497) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ , فَإِنَّهُ مُبَارَكٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زیتون کا تیل بطور سالن استعمال کرو ، اور اس کو سر اور بدن میں لگاؤ ، اس لیے کہ یہ بابرکت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3320]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا بزيادة فإنه طيب وقال عنه ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ عبد اللّٰه بن سعيد المقبري: متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14338، ومصباح الزجاجة: 1144) (ضعیف جدا) (عبد اللہ بن سعید متروک ہیں، اور حدیث کا معنی ثابت ہے، کماتقدم)
35: بَابُ : اللَّبَنِ
باب: دودھ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْدٍ الرَّاسِبِيِّ , حَدَّثَتْنِي مَوْلَاتِي أُمُّ سَالِمٍ الرَّاسِبِيَّةُ , قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِلَبَنٍ , قَالَ: " بَرَكَةٌ أَوْ بَرَكَتَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب دودھ آتا تو فرماتے : ” ایک برکت ہے یا دو برکتیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3321]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أم سالم: مجهولة (التحرير: 8733) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17981، ومصباح الزجاجة: 1145)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/145) (ضعیف) (جعفر بن برد اور ام سالم الراسبیہ دونوں ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ , وَارْزُقْنَا خَيْرًا مِنْهُ , وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا , فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ , وَزِدْنَا مِنْهُ , فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کو اللہ تعالیٰ کھانا کھلائے اسے چاہیئے کہ وہ یوں کہے : «اللهم بارك لنا فيه وارزقنا خيرا منه» ” اے اللہ ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا کر اور ہمیں اس سے بہتر روزی مزید عطا فرما “ اور جسے اللہ تعالیٰ دودھ پلائے تو چاہیئے کہ وہ یوں کہے «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه» ” اے اللہ ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور مزید عطا کر “ کیونکہ سوائے دودھ کے کوئی چیز مجھے نہیں معلوم جو کھانے اور پینے دونوں کے لیے کافی ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3322]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن جريج حجازي وعنعن ¤ ورواية إسماعيل بن عياش عن الحجازيين ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5859)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 21 (3730)، سنن الترمذی/الدعوات 55 (3451) (حسن)
36: بَابُ : الْحَلْوَاءِ
باب: حلوا (مٹھائی) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلوا ( شیرینی ) اور شہد پسند فرماتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3323]
💡 وضاحت:
۱؎: فطری طور پر میٹھا انسان کو پسند ہے، اور شہد میٹھا بھی ہے اور اس کے ساتھ مفید بھی، قرآن مجید میں ہے: «فيه شفاء للناس» (سورة النحل: 69) شہد میں لوگوں کے لئے شفاء ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطلاق 8 (5267)، الأطعمة 32 (5431)، الأشربة 10 (5599)، 15 (5614)، الطب 4 (5682)، الحیل 12 (6972)، صحیح مسلم/الطلاق 3 (1474)، سنن ابی داود/الأشربة 11 (3715)، سنن الترمذی/الأطعمة 29 (1831)، (تحفة الأشراف: 16796)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/59)، سنن الدارمی/الأطعمة 34 (2119) (صحیح)
37: بَابُ : الْقِثَّاءِ وَالرُّطَبِ يُجْمَعَانِ
باب: ککڑی اور تازہ کھجور کو ملا کر کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَانَتْ أُمِّي تُعَالِجُنِي لِلسُّمْنَةِ تُرِيدُ أَنْ تُدْخِلَنِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا اسْتَقَامَ لَهَا ذَلِكَ، حَتَّى أَكَلْتُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ فَسَمِنْتُ كَأَحْسَنِ سِمْنَةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میری ماں میرے موٹا ہونے کا علاج کرتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کر سکیں ، لیکن کوئی تدبیر بن نہیں پڑی ، یہاں تک کہ میں نے ککڑی کھجور کے ساتھ ملا کر کھائی ، تو میں اچھی طرح موٹی ہو گئی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3324]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ ککڑی کھجور کے ساتھ بدن کو موٹا کرتی ہے، اور مزیدار بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17339) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى , قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تر کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے دیکھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3325]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 39 (5440)، صحیح مسلم/الأشربة 23 (2043)، سنن ابی داود/الأطعمة 45 (3835)، سنن الترمذی/الأطعمة 37 (1844)، (تحفة الأشراف: 5219)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/203)، سنن الدارمی/الأطعمة 24 (2102) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ الْمَدَنِيُّ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْكُلُ الرُّطَبَ بِالْبِطِّيخِ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تر کھجور تربوز کے ساتھ ملا کر کھایا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3326]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4792، ومصباح الزجاجة: 1146) (صحیح) (سند میں یعقوب بن ولید ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 57- 98 مختصر الشمائل المحدیہ: 170)
38: بَابُ : التَّمْرِ
باب: کھجور کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ , جِيَاعٌ أَهْلُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ گھر والے بھوکے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3327]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد اہل مدینہ اور وہ لوگ ہیں جن کی خوراک کھجور ہو، اس سے مقصود کھجور کی اہمیت بتانا ہے، کیونکہ کھجور ہی عرب کی غالب غذا ہے ہر شخص کے گھر میں رہتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم ¤ حَدَّ
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 26 (2046)، سنن ابی داود/الأطعمة 42 (3831)، سنن الترمذی/الأطعمة 17 (1815)، (تحفة الأشراف: 16942)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 26 (2105) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ , كَالْبَيْتِ لَا طَعَامَ فِيهِ".
سلمیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ اس گھر کی طرح ہے جس میں کھانا ہی نہ ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3328]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15895، ومصباح الزجاجة: 1147) (حسن) (عبیداللہ متکلم فیہ اور ہشام بن سعد ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1776)
39: بَابُ : إِذَا أُتِيَ بِأَوَّلِ الثَّمَرَةِ
باب: موسم کے پہلے پھل کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا أُتِيَ بِأَوَّلِ الثَّمَرَةِ , قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا , وَفِي ثِمَارِنَا , وَفِي مُدِّنَا , وَفِي صَاعِنَا بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ" , ثُمَّ يُنَاوِلُهُ أَصْغَرَ مَنْ بِحَضْرَتِهِ مِنَ الْوِلْدَانِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب موسم کا پہلا پھل آتا تو فرماتے : «اللهم بارك لنا في مدينتنا وفي ثمارنا وفي مدنا وفي صاعنا بركة مع بركة» یعنی ” اے اللہ ! ہمارے شہر میں ، ہمارے پھلوں میں ، ہمارے مد میں ، اور ہمارے صاع میں ، ہمیں برکت عطا فرما ، پھر آپ اپنے سامنے موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو وہ پھل عنایت فرما دیتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3329]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 85 (1373)، (تحفة الأشراف: 12707)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 54 (3454)، موطا امام مالک/الجامع 1 (2)، مسند احمد (1/116، 169، 183، 2/124، 126، 330، 3/35، 47)، سنن الدارمی/الأطعمة 32 (2116) (صحیح)
40: بَابُ : أَكْلِ الْبَلَحِ بِالتَّمْرِ
باب: کچی کھجور کو خشک کھجور کے ساتھ ملا کر کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَدَنِيُّ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا الْبَلَحَ بِالتَّمْرِ , كُلُوا الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَغْضَب , وَيَقُولُ: بَقِيَ ابْنُ آدَمَ حَتَّى أَكَلَ الْخَلَقَ بِالْجَدِيدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کچی کھجور اور خشک کھجور کو ملا کر کھاؤ ، اور پرانی کو نئی کے ساتھ ملا کر کھاؤ ، اس لیے کہ شیطان کو غصہ آتا ہے اور کہتا ہے : آدم کا بیٹا زندہ ہے یہاں تک کہ اس نے پرانی اور نئی دونوں چیزیں کھا لیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3330]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد فيه أبو زكير يحيي بن محمد بن قيس وھو ضعيف“ وھو: ضعيف يعتبر به (التحرير: 7639) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17334، ومصباح الزجاجة: 1148) (موضوع) (یحییٰ بن محمد بن قیس کی احادیث ٹھیک ہیں، صرف چار احادیث صحیح نہیں ہیں، ایک یہ حدیث بھی ان موضوع احادیث میں سے ہے، اس حدیث کو ابن جوزی نے موضوعات میں شامل کیا ہے، نیز ملاحظہ: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 231)
41: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ قِرَانِ التَّمْرِ
باب: دو دو تین تین کھجوریں ایک ساتھ کھانے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ , سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ".
جبلہ بن سحیم سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے ، یہاں تک کہ وہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3331]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المظالم 14 (2455)، الشرکة 4 (2489)، صحیح مسلم/الأشربة 25 (2045)، سنن ابی داود/الأطعمة 44 (3834)، سنن الترمذی/الأطعمة 16 (1814)، (تحفة الأشراف: 6667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/7، 44، 36، 60، 74، 81، 103، 131)، سنن الدارمی/الأطعمة 25 (2103) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ , وَكَانَ سَعْدٌ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ يُعْجِبُهُ حَدِيثُهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ , يَعْنِي: فِي التَّمْرِ".
ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام سعد رضی اللہ عنہ ( جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے ، اور آپ کو ان کی گفتگو اچھی لگتی تھی ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا ، یعنی کھجوروں کو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3332]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4452، ومصباح الزجاجة: 1149)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/199) (صحیح)
42: بَابُ : تَفْتِيشِ التَّمْرِ
باب: اچھی اچھی کھجوریں تلاش کر کے کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ , عَنْ هَمَّامٍ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُتِيَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ , فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے پاس پرانی کھجوریں لائی گئیں ، تو آپ اس میں سے اچھی کھجوریں چھانٹنے لگے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3333]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس میں سے اچھی اچھی کھجوریں نکال کر کھاتے تھے، ابوداود کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کیڑے سسریاں نکالتے تھے، دوسری روایت میں کھجور چھانٹنے سے منع فرمایا، اور یہ محمول ہے اس حالت پر جب نئی کھجور ہو تو اس وقت چھانٹنے کی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأطعمة 43 (3832، 3833)، (تحفة الأشراف: 215) (صحیح)
43: بَابُ : التَّمْرِ بِالزُّبْدِ
باب: مکھن کے ساتھ کھجور کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ , حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ , قَالَا: " دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا تَحْتَهُ قَطِيفَةً , لَنَا صَبَبْنَاهَا لَهُ صَبًّا , فَجَلَسَ عَلَيْهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْوَحْيَ فِي بَيْتِنَا، وَقَدَّمْنَا لَهُ زُبْدًا وَتَمْرًا , وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
بسر سلمی کے دو بیٹے ( رضی اللہ عنہما ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم نے آپ کے نیچے اپنی ایک چادر بچھائی جسے ہم نے پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رکھا تھا ، آپ اس پر بیٹھ گئے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے گھر میں آپ پر وحی نازل فرمائی ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکھن پسند فرماتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3334]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 519، ومصباح الزجاجة: 1150)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة 45 (3837) (صحیح)
44: بَابُ : الْحُوَّارَى
باب: میدہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ هَلْ رَأَيْتَ النَّقِيَّ؟ قَالَ: " مَا رَأَيْتُ النَّقِيَّ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , فَقُلْتُ: فَهَلْ كَانَ لَهُمْ مَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " مَا رَأَيْتُ مُنْخُلًا , حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , قُلْتُ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: " نَعَمْ , كُنَّا نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ , وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ".
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے میدہ دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک میدہ نہیں دیکھا تھا ، تو میں نے پوچھا : کیا لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چھلنیاں نہ تھیں ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے کوئی چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ، میں نے عرض کیا : آخر کیسے آپ لوگ بلا چھنا جو کھاتے تھے ؟ فرمایا : ہاں ! ہم اسے پھونک لیتے تو اس میں اڑنے کے لائق چیز اڑ جاتی اور جو باقی رہ جاتا اسے ہم گوندھ لیتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3335]
💡 وضاحت:
۱؎: اور گوندھ کر روٹی پکا لیتے، غرض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں آٹا چھاننے کی اور میدہ کھانے کی رسم نہ تھی، یہ بعد کے زمانے کی ایجاد ہے، اور اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے، آٹا جب چھانا جائے، اور اس کا بھوسی بالکل نکل جائے، تو وہ ثقیل اور دیر ہضم ہو جاتا ہے، اور پیٹ میں سدہ اور قبض پیدا کرتا ہے، آخر یہ چھاننے والے لوگ اتنا غور نہیں کرتے کہ رب العالمین نے جو حکیم الحکماء ہے گیہوں میں بھوسی بیکار نہیں پیدا فرمائی، پس بہتر یہی ہے کہ بے چھنا ہوا آٹا کھائے، اور اگر چھانے بھی تو تھوڑی سی موٹی بھوسی نکال ڈالے لیکن میدہ کھانا بالکل خطرناک اور باعث امراض شدیدہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4731، ومصباح الزجاجة: 1151)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 22 (5410)، سنن الترمذی/الزہد 38 (2364)، مسند احمد (5/332، 6/71) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ , أَنَّ حَنَشَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ , عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ ، أَنَّهَا غَرْبَلَتْ دَقِيقًا , فَصَنَعَتْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِيفًا , فَقَالَ: " مَا هَذَا؟" , قَالَتْ: طَعَامٌ نَصْنَعُهُ بِأَرْضِنَا , فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَصْنَعَ مِنْهُ لَكَ رَغِيفًا , فَقَالَ: " رُدِّيهِ فِيهِ ثُمَّ اعْجِنِيهِ".
ام ایمن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے آٹا چھانا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کی روٹی بنائی ، آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ وہ کھانا ہے جو ہم اپنے علاقہ میں بناتے ہیں ، میں نے چاہا کہ اس سے آپ کے لیے بھی روٹی تیار کروں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے ( چھان کر نکالی گئی بھوسی ) اس میں ڈال دو ، پھر اسے گوندھو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3336]
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18303، ومصباح الزجاجة: 1152) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَمَاهِرِ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: " مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِيفًا مُحَوَّرًا , بِوَاحِدٍ مِنْ عَيْنَيْهِ , حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ کی روٹی ایک آنکھ سے بھی نہیں دیکھی ، یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ سے جا ملے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3337]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سعيد بن بشير:ضعيف ¤ وقتادة عنعن إن صح السند إليه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1167) (ضعیف) (سعید بن بشیر ضعیف راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّحَّاسُ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ , عَنْ ابْنِ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: " زَارَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَوْمَهُ بَيِنَنَا , فَأَتَوْهُ بِرُقَاقٍ مِنْ رُقَاقِ الْأُوَلِ , فَبَكَى , وَقَالَ: " مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا بِعَيْنِهِ قَطُّ".
عطا کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کی زیارت کی یعنی راوی کا خیال ہے کہ ینانامی بستی میں تشریف لے گئے ، وہ لوگ آپ کی خدمت میں پہلی بار کی پکی ہوئی چپاتیوں میں سے کچھ باریک چپاتیاں لے کر آئے ، تو وہ رو پڑے اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ روٹی اپنی آنکھ سے کبھی نہیں دیکھی ( چہ جائے کہ کھاتے ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3338]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باریک روٹی نہیں دیکھی یعنی چپاتی کیونکہ یہ روٹی موٹے آٹے کی نہیں پک سکتی بلکہ اکثر میدے کی پکاتے ہیں، بلکہ آپ ہمیشہ موٹی روٹی وہ بھی اکثر جو کی کھایا کرتے، اور بے چھنے آٹے کی وہ بھی روز پیٹ بھر کر نہ ملتی تھی، ایک دن کھایا، تو ایک دن فاقہ «سبحان اللہ» ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ حال تھا، اور ہم روز کیسے کیسے عمدہ کھانے خوش ذائقہ اور نئی ترکیب کے جن کو اگلے لوگوں نے نہ دیکھا تھا نہ سنا تھا کھاتے ہیں، اور وہ بھی ناکوں ناک پیٹ بھر کر وہ بھی اسی طرح سے کہ حلال حرام کا کچھ خیال نہیں، مشتبہ کا تو کیا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ضعفه البوصيري من أجل عثمان بن عطاء بن أبي مسلم الخراساني ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14205، ومصباح الزجاجة: 1153) (ضعیف) (ابن عطاء یہ عثمان بن عطاء ہیں اور ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , قَالَ: كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , قَالَ إِسْحَاق: وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ , وَقَالَ الدَّارِمِيُّ: وَخِوَانُهُ مَوْضُوعٌ , فَقَالَ يَوْمًا: كُلُوا , فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا بِعَيْنِهِ , حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ , وَلَا شَاةً سَمِيطًا قَطُّ".
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے ( اسحاق کی روایت میں یہ اضافہ ہے : اس وقت ان کا نان بائی کھڑا ہوتا تھا ، اور دارمی نے اس اضافے کے ساتھ روایت کی ہے کہ ان کا دستر خوان لگا ہوتا تھا یعنی تازہ روٹیوں کا کوئی اہتمام نہ ہوتا ) ، ایک دن انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : کھاؤ ، مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھ سے باریک چپاتی دیکھی بھی ہو ، یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ، اور نہ ہی آپ نے کبھی مسلّم بھنی بکری دیکھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3339]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 26 (5385)، (تحفة الأشراف: 1406)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/128، 134، 250) (صحیح)
46: بَابُ : الْفَالُوذَجِ
باب: فالودہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ السُّلَمِيُّ أَبُو الْحَارِثِ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: أَوَّلُ مَا سَمِعْنَا بِالْفَالُوذَجِ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام , أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ تُفْتَحُ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ، فَيُفَاضُ عَلَيْهِمْ مِنَ الدُّنْيَا , حَتَّى إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الْفَالُوذَجَ , قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا الْفَالُوذَجُ" , قَالَ: يَخْلِطُونَ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ جَمِيعًا , فَشَهِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ شَهْقَةً.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سب سے پہلے ہم نے «فالوذج» کا نام اس وقت سنا جب جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے ، اور عرض کیا : تمہاری امت ملکوں کو فتح کرے گی ، اور اس پر دنیا کے مال و متاع کا ایسا فیضان ہو گا کہ وہ لوگ «فالوذج» کھائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا : ” «فالوذج» کیا ہے “ ؟ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا : لوگ گھی اور شہد ایک ساتھ ملائیں گے ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3340]
قال الشيخ الألباني: منكر الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال ابن الجوزي في الموضوعات (21/3): ”ھذا حديث باطل لا أصل له“ ¤ و عثمان: مجهول (التحرير: 4528) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5875، ومصباح الزجاجة: 1154) (موضوع) (سند منکر اور متن موضوع ہے، عبدالوہاب سلمی کے یہاں عجائب و غرائب ہیں، نیز محمد بن طلحہ ضعیف، اور عثمان بن یحییٰ مجہول ہیں، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں درج کیا ہے)
47: بَابُ : الْخُبْزِ الْمُلَبَّقِ بِالسَّمْنِ
باب: گھی میں چپڑی روٹی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ , حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ" وَدِدْتُ لَوْ أَنَّ عِنْدَنَا خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةٍ بِسَمْنٍ نَأْكُلُهَا"، قَالَ: فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَيْهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا السَّمْنُ؟" , قَالَ: فِي عُكَّةِ ضَبٍّ , قَالَ: فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا : ” میری خواہش ہے کہ اگر ہمارے پاس گھی میں چپڑی ہوئی گیہوں کی سفید روٹی ہوتی ، تو ہم اسے کھاتے ، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ بات انصار میں ایک شخص نے سن لی ، تو اس نے یہ روٹی تیار کی ، اور اسے لے کر آپ کے پاس آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : یہ گھی کس چیز میں تھا ؟ اس نے جواب دیا : گوہ کی کھال کی کپی میں ، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3341]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ سنن أبي داود (3818) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأطعمة 38 (3818)، (تحفة الأشراف: 7551) (ضعیف) (سند میں حسین بن واقد وہم و خطا والے راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: صَنَعَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزَةً , وَضَعَتْ فِيهَا شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ , ثُمَّ قَالَتْ: اذْهَبْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَادْعُهُ , قَالَ: فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: أُمِّي تَدْعُوكَ , قَالَ: فَقَامَ وَقَالَ لِمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنَ النَّاسِ: " قُومُوا"، قَالَ: فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " هَاتِي مَا صَنَعْتِ" , فَقَالَتْ: إِنَّمَا صَنَعْتُهُ لَكَ وَحْدَكَ , فَقَالَ: " هَاتِيهِ" , فَقَالَ: " يَا أَنَسُ أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً عَشَرَةً" , قَالَ: فَمَا زِلْتُ أُدْخِلُ عَلَيْهِ عَشَرَةً عَشَرَةً , فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَكَانُوا ثَمَانِينَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( میری والدہ ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روٹی تیار کی ، اور اس میں تھوڑا سا گھی بھی لگا دیا ، پھر کہا : جاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لاؤ ، میں نے آپ کے پاس آ کر عرض کیا کہ میری ماں آپ کو دعوت دے رہی ہیں تو آپ کھڑے ہوئے اور اپنے پاس موجود سارے لوگوں سے کہا کہ ” اٹھو ، چلو “ ، یہ دیکھ کر میں ان سب سے آگے نکل کر ماں کے پاس پہنچا ، اور انہیں اس کی خبر دی ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سارے لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں ) اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ پہنچے ، اور فرمایا : ” جو تم نے پکایا ہے ، لاؤ “ ، میری ماں نے عرض کیا کہ میں نے تو صرف آپ کے لیے بنایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لاؤ تو سہی “ ، پھر فرمایا : ” اے انس ! میرے پاس لوگوں میں سے دس دس آدمی اندر لے کر آؤ “ ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دس دس آدمی آپ کے پاس داخل کرتا رہا ، سب نے سیر ہو کر کھایا ، اور وہ سب اسّی کی تعداد میں تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3342]
💡 وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ! کھانا ایک آدمی کا اور اسی ۸۰ آدمیوں کو کافی ہو گیا، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بڑے معجزہ کا ذکر ہے، اور اس قسم کے کئی بار اور کئی موقعوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزے صادر ہوئے ہیں، عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ایسا ہی معجزہ انجیل میں مذکور ہے، اور یہ کچھ عقل کے خلاف نہیں ہے، ایک تھوڑی سی چیز کا بہت ہو جانا ممکن ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے سامنے نہایت سہل ہے، وہ اگر چاہے تو دم بھر میں رتی کو پہاڑ کے برابر کر دے، اور پہاڑ کو رتی کے برابر، اور جن لوگوں کے عقل میں فتور ہے، وہ ایسی باتوں میں شک و شبہ کرتے ہیں، ان کو اب تک ممکن اور محال کی تمیز نہیں ہے، اور جو امور ممکن ہیں ان کو وہ نادانی سے محال سمجھتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے شر سے ہر مسلمان کو بچائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 731)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 6 (5381)، صحیح مسلم/الأشربة 20 (2040)، سنن الترمذی/المناقب 6 (3630)، موطا امام مالک/صفة النبی صفة 10 (19)، مسند احمد (1/159، 198، 3/11، 147، 163، 218) (صحیح)
48: بَابُ : خُبْزِ الْبُرِّ
باب: گیہوں کی روٹی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ الْحِنْطَةِ , حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل تین روز تک کبھی گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3343]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی برابر تین دن تک کبھی گیہوں کی روٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ملی، اس طرح کہ پیٹ بھر کر کھائے ہوں، ہر روز بلکہ کبھی ایک دن گیہوں کی روٹی کھائی، تو دوسرے دن جو کی ملی، اور کبھی پیٹ بھر کر نہیں ملی، غرض ساری عمر تکلیف اور فقر و فاقہ ہی میں کٹی، سبحان اللہ! شہنشاہی میں فقیری یہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الزہد 1 (2976)، سنن الترمذی/الزہد 38 (2358)، (تحفة الأشراف: 13440)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 1 (5374)، مسند احمد (2/434) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ , حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے جب سے وہ مدینہ آئے ہیں ، کبھی بھی تین دن مسلسل گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی ، یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3344]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 23 (5416)، 27 (5423)، الأضاحي 16 (5570)، (تحفة الأشراف: 15986)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزہد 1 (2970)، سنن الترمذی/الأضاحي 14 (1510)، سنن النسائی/الضحایا 36 (4437)، مسند احمد (6/102، 209، 277) (صحیح)
49: بَابُ : خُبْزِ الشَّعِيرِ
باب: جو کی روٹی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَا فِي بَيْتِي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ , إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي , فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ، اور حال یہ تھا کہ میرے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہ تھی جسے کوئی جگر والا کھاتا ، سوائے تھوڑے سے جو کے جو میری الماری میں پڑے تھے ، میں انہیں میں سے کھاتی رہی یہاں تک کہ وہ ایک مدت دراز تک چلتے رہے ، پھر میں نے انہیں تولا تو وہ ختم ہو گئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3345]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخمس 3 (3097)، الرقاق 16 (6454)، صحیح مسلم/الزہد (2970)، (تحفة الأشراف: 15986)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/108، 277) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ , حَتَّى قُبِضَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال نے کبھی بھی جو کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3346]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الزہد 1 (2970)، سنن الترمذی/الزہد 38 (2357)، الشمائل (143)، (تحفة الأشراف: 14014)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/98، 434، 4/442، 6/128، 156، 187، 255، 277) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ , حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَبِيتُ اللَّيَالِي الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا , وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ الْعَشَاءَ , وَكَانَ عَامَّةَ خُبْزِهِمْ خُبْزُ الشَّعِيرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کئی راتیں بھوکے گزارتے ، اور ان کے اہل و عیال کو رات کا کھانا میسر نہیں ہوتا ، اور اکثر ان کے کھانے میں جو کی روٹی ہوتی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3347]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الزہد 38 (2357)، (تحفة الأشراف: 16014)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الرقاق (2970) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: " لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّوفَ , وَاحْتَذَى الْمَخْصُوفَ , وَقَالَ: أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِعًا وَلَبِسَ خَشِنًا" , فَقِيلَ لِلْحَسَنِ: مَا الْبَشِعُ؟ قَالَ: غَلِيظُ الشَّعِيرِ مَا كَانَ يُسِيغُهُ إِلَّا بِجُرْعَةِ مَاءٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اون کا لباس اور پیوند لگا جوتا پہن لیتے تھے اور فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موٹا کھایا اور موٹا پہنا ۔ حسن بصری سے پوچھا گیا کہ موٹا کھانے سے کیا مراد ہے ؟ جواب دیا : جو کی موٹی روٹی جو پانی کے گھونٹ کے بغیر حلق سے نیچے نہیں اترتی تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3348]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ انظر الحديث الآتي (3556) ¤ يوسف بن أبي كثير: مجهول (تقريب: 7877) ¤ وقال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف نوح بن ذكوان متفق علي ضعفه“ ونوح بن ذكوان: ضعيف (تقريب: 7206) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 542، ومصباح الزجاجة: 1155) (ضعیف) (نوح بن ذکوان ضعیف راوی ہیں)
50: بَابُ : الاِقْتِصَادِ فِي الأَكْلِ وَكَرَاهِيَةِ الشِّبَعِ
باب: کھانے میں میانہ روی کا بیان اور بھر پیٹ کھانے کی کراہت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ , حَدَّثَتْنِي أُمِّي , عَنْ أُمِّهَا , أَنَّهَا سَمِعَتْ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِ يكَرِبَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ , حَسْبُ الْآدَمِيِّ لُقَيْمَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ , فَإِنْ غَلَبَتِ الْآدَمِيَّ نَفْسُهُ , فَثُلُثٌ لِلطَّعَامِ , وَثُلُثٌ لِلشَّرَابِ , وَثُلُثٌ لِلنَّفَسِ".
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا ، آدمی کے لیے کافی ہے کہ وہ اتنے لقمے کھائے جو اس کی پیٹھ سیدھی رکھ سکیں ، لیکن اگر آدمی پر اس کا نفس غالب آ جائے ، تو پھر ایک تہائی پیٹ کھانے کے لیے ، ایک تہائی پینے کے لیے ، اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3349]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ خواہش نفس کی اتباع سے دور ہیں وہ تہائی پیٹ سے بھی کم کھاتے ہیں، اور تہائی پیٹ سے زیادہ کھانا سنت کے خلاف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11578)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزہد 47 (2380)، مسند احمد (4/132) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو يَحْيَى , عَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: تَجَشَّأَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " كُفَّ جُشَاءَكَ عَنَّا , فَإِنَّ أَطْوَلَكُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ , أَكْثَرُكُمْ شِبَعًا فِي دَارِ الدُّنْيَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ڈکار لی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی ڈکار کو ہم سے روکو ، اس لیے کہ قیامت کے دن تم میں سب سے زیادہ بھوکا وہ رہے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ سیر ہو کر کھا تا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3350]
💡 وضاحت:
۱؎: جو آدمی کھاتا ہے اس کو اگر کھانا نہ ملے تو اس کو بڑی تکلیف ہوتی ہے، بہ نسبت اس کے جو کم کھاتا ہے جو بھوک پر صبر کرسکتا ہے، قیامت کا دن بہت لمبا ہو گا، اور دن بھر کھانا نہ ملنے سے زیادہ کھانے والے بہت پریشان ہوں گے، بعضوں نے کہا: جو لوگ بہت کھاتے ہیں ان کی آخری خواہش کھانا اور پینا ہوتی ہے، اور موت سے یہ خواہشیں ختم ہو جاتی ہیں، تو ان کو بہت ناگوار ہو گا، اور جو لوگ کم کھاتے ہیں، ان کو کھانے کی خواہش نہیں ہوتی، بلکہ زندگی کی بقاء اور عبادت کے لئے اپنی ضروریات اور بھوک پیاس پرقابو پا لیتے ہیں، ان کی خواہش عبادت اور تصفیہ قلب کی ہوتی ہے، اور وہ موت کے بعد قائم رہے گی، اس لئے وہ راحت اور عیش میں رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2478) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 497
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/القیامة 37 (2478)، (تحفة الأشراف: 8563) (حسن) (سند میں عبدالعزیز بن عبد اللہ منکر الحدیث، اور یحییٰ البکاء ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث شاہد کی وجہ سے حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 343)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ , عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ , عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَانَ وَأُكْرِهَ عَلَى طَعَامٍ يَأْكُلُهُ , فَقَالَ: حَسْبِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا , أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عطیہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا تو میں نے ان کو کہتے سنا : میرے لیے کافی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دنیا میں سب سے زیادہ شکم سیر ہو کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3351]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ سعيد بن محمد الوراق: ضعيف ¤ وفيه علة أخري ¤ وللحديث شواھد منھا ما أخرجه صاحب الحلية (3/ 346) وسنده ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 497
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4506، ومصباح الزجاجة: 1156) (حسن) (سند میں سعید بن محمد الوراق ضعیف ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 343)
51: بَابُ : مِنَ الإِسْرَافِ أَنْ تَأْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَيْتَ
باب: ہر اس چیز کا کھانا جس کی نفس خواہش کرے، اسراف میں سے ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , وَيَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , قَالُوا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ نُوحِ بْنِ ذَكْوَانَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ السَّرَفِ , أَنْ تَأْكُلَ كُلَّ مَا اشْتَهَيْتَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اسراف ہے کہ تم ہر اس چیز کو کھاؤ جس کی تمہیں رغبت اور خواہش ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3352]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ يوسف بن أبي كثير: مجھول ونوح بن ذكوان: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 497
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 543، ومصباح الزجاجة: 1157) (موضوع) (نوح بن ذکوان باطل احادیث روایت کرتا تھا، ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں داخل کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 241)
52: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ إِلْقَاءِ الطَّعَامِ
باب: کھانا پھینکنا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ , حَدَّثَنَا وَسَّاجُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ , حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ , فَرَأَى كِسْرَةً مُلْقَاةً فَأَخَذَهَا فَمَسَحَهَا , ثُمَّ أَكَلَهَا , وَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ أَكْرِمِي كَرِيمكِ , فَإِنَّهَا مَا نَفَرَتْ عَنْ قَوْمٍ قَطُّ فَعَادَتْ إِلَيْهِمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو روٹی کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا ، آپ نے اسے اٹھایا ، صاف کیا پھر اسے کھا لیا ، اور فرمایا : ” عائشہ ! احترام کے قابل چیز ( یعنی اللہ کے رزق کی ) عزت کرو ، اس لیے کہ جب کبھی کسی قوم سے اللہ کا رزق پھر گیا ، تو ان کی طرف واپس نہیں آیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3353]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ الوليد الموقري: متروك ¤ وله متابعات مردودة وللحديث شواهد ضعيفة جدًا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 497
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16684، ومصباح الزجاجة: 1158) (ضعیف) (ولید بن محمد الموقری ضعیف ہے، نیزملاحظہ ہو: الإواء: 1961)
53: بَابُ : التَّعَوُّذِ مِنَ الْجُوعِ
باب: بھوک سے اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ كَعْبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ , فَإِنَّهُ بِئْسَ الضَّجِيعُ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ , فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع وأعوذ بك من الخيانة فإنها بئست البطانة» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بھوک سے کہ وہ بدترین ساتھی ہے ، اور تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کہ وہ بری خفیہ خصلت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3354]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ليث بن أبي سليم ضعيف ¤ و كعب المدني مجھول (تقريب: 5651) ¤ و للحديث شواھد ضعيفة عند أبي داود (1547) وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 497
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14296، ومصباح الزجاجة: 1159)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 367 (1547)، سنن النسائی/الاستعاذة 19 (5471) (حسن) (لیث بن ابی سلیم ضعیف اور کعب مجہول ر1وی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 1383)
54: بَابُ : تَرْكِ الْعَشَاءِ
باب: شام کا کھانا نہ کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ الْمَخْزُومِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَدَعُوا الْعَشَاءَ وَلَوْ بِكَفٍّ مِنْ تَمْرٍ , فَإِنَّ تَرْكَهُ يُهْرِمُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شام کا کھانا مت ترک کرو اگرچہ اس کی مقدار ایک مشت کھجور ہو ، اس لیے کہ شام کا کھانا نہ کھانے سے بڑھاپا آتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3355]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ إبراهيم بن عبدالسلام: ضعيف وشيخه عبد اللّٰه بن ميمون القداح:متروك (تقريب: 209،3654) ¤ وللحديث شواهد ضعيفة جدًا عند الترمذي (1856) وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 497
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3052، ومصباح الزجاجة: 1160) (ضعیف جداً) (ابراہیم بن عبدالسلام ضعیف اور متہم بالوضع راوی ہے، نیز ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 116)
55: بَابُ : الضِّيَافَةِ
باب: ضیافت و مہمان نوازی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَيْرُ أَسْرَعُ إِلَى الْبَيْتِ الَّذِي يُغْشَى , مِنَ الشَّفْرَةِ إِلَى سَنَامِ الْبَعِيرِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس طرح چھری اونٹ کے کوہان کی طرف تیزی سے جاتی ہے اس سے کہیں زیادہ تیزی سے بھلائی اس گھر میں آتی ہے جس میں مہمان کثرت سے آتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3356]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ كثير بن سليم وجبارة: مجروحان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 497
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1447، ومصباح الزجاجة: 1161) (ضعیف) (جبارہ اور کثیر دونوں ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَهْشَلٍ , عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَيْرُ أَسْرَعُ إِلَى الْبَيْتِ الَّذِي يُؤْكَلُ فِيهِ , مِنَ الشَّفْرَةِ إِلَى سَنَامِ الْبَعِيرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس طرح چھری اونٹ کے کوہان کی طرف چلتی ہے اس سے بھی تیزی سے بھلائی اس گھر میں آتی ہے جس میں ( مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے ) کھانا پینا ہوتا رہتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3357]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ جبارة: ضعيف جدًا ¤ والصواب: ”المحاربي عبد الرحمٰن عن نهشل وھو ابن سعيد“ ¤ ونهشل: متروك ¤ والضحاك لم يلق ابن عباس (جامع التحصيل للعلائي ص 199) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 498
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5691، ومصباح الزجاجة: 1162) (ضعیف) (جبارہ ضعیف اور عبدالرحمن بن نہشل متروک ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَخْرُجَ الرَّجُلُ مَعَ ضَيْفِهِ إِلَى بَابِ الدَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ بات سنت میں سے ہے کہ آدمی اپنے مہمان کے ساتھ ( اسے رخصت کرتے وقت ) گھر کے دروازے تک نکل کر آئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3358]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ علي بن عروة ¤ وللحديث شاهد موضوع عند ابن عدي (1173/3)! ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 498
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14189، ومصباح الزجاجة: 1163) (موضوع) (علی بن عروہ متروک راوی ہے، حدیث وضع کرتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 258)
56: بَابُ : إِذَا رَأَى الضَّيْفُ مُنْكَرًا رَجَعَ
باب: (دعوت میں) خلاف شرع بات دیکھ کر مہمان کے لوٹ جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ: " صَنَعْتُ طَعَامًا , فَدَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَ فَرَأَى فِي الْبَيْتِ تَصَاوِيرَ فَرَجَعَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا ، آپ تشریف لائے تو آپ کی نظر گھر میں تصویروں پر پڑی ، تو آپ واپس لوٹ گئے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3359]
💡 وضاحت:
۱؎: اکثر علماء کا یہی قول ہے کہ جس دعوت میں خلاف شرع باتیں ہوں جیسے ناچ گانا، اور بے حیائی بے پردگی وغیرہ وغیرہ یا شراب نوشی،یا دوسری نشہ آور چیزوں کا استعمال تو اس میں شریک ہونا ضروری نہیں، اور جب وہاں جا کر یہ باتیں دیکھے تو لوٹ آئے اورکھانا نہ کھائے، اور اگر عالم دین اور پیشوا ہو اور اس بات کو دور نہ کر سکے تو لوٹ آئے کیونکہ وہاں بیٹھنے میں دین کی بے حرمتی اور اہانت ہے، اور دوسرے لوگوں کو گناہ کرنے کی جرأت بڑھے گی، یہ جب کہ دعوت میں جانے سے پہلے ان باتوں کی خبر نہ ہو، اگر پہلے سے یہ معلوم ہو کہ وہاں خلاف شرع کوئی بات ہے تو دعوت قبول کرنا اس پر ضروری نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 57 (5353)، (تحفة الأشراف: 10117) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , حَدَّثَنَا سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّ رَجُلًا أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : لَوْ دَعَوْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا , فَدَعَوْهُ فَجَاءَ , فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ , فَرَأَى قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ , فَرَجَعَ , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْ فَقُلْ لَهُ: مَا رَجَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَنْ أَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا".
سفینہ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ضیافت کی اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا ، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کاش ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے ، چنانچہ لوگوں نے آپ کو بھی مدعو کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کے دونوں بازو پر رکھے ، تو آپ کی نظر گھر کے ایک گوشے میں ایک باریک منقش پردے پر پڑی ، آپ لوٹ آئے ، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : جائیے اور پوچھئے : اللہ کے رسول ! آپ کیوں واپس آ گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میرے لیے مناسب نہیں کہ میں ایسے گھر میں قدم رکھوں جس میں آرائش و تزئیین کی گئی ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3360]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں «مزوق» کا لفظ آیا ہے یعنی آرائش و تزیین، بعضوں نے کہا کہ «مزوق» کے معنی یہ ہیں کہ سونا چڑھا ہوا، یعنی جس گھر کی چھت یا دیوار پر طلائی نقرئی کام ہو یا قیمتی پردے لٹکے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأطعمة 8 (3755)، (تحفة الأشراف: 4483)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/220، 221، 222) (حسن)
57: بَابُ : الْجَمْعِ بَيْنَ السَّمْنِ وَاللَّحْمِ
باب: گھی اور گوشت ملا کر کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي الْيَعْفُورِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى مَائِدَتِهِ , فَأَوْسَعَ لَهُ عَنْ صَدْرِ الْمَجْلِسِ , فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ , ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ فَلَقِمَ لُقْمَةً , ثُمَّ ثَنَّى بِأُخْرَى , ثُمّ قَالَ: إِنِّي لَأَجِدُ طَعْمَ دَسَمٍ مَا هُوَ بِدَسَمِ اللَّحْمِ , فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , إِنِّي خَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ أَطْلُبُ السَّمِينَ لِأَشْتَرِيَهُ فَوَجَدْتُهُ غَالِيًا , فَاشْتَرَيْتُ بِدِرْهَمٍ مِنَ الْمَهْزُولِ وَحَمَلْتُ عَلَيْهِ بِدِرْهَمٍ سَمْنًا , فَأَرَدْتُ أَنْ يَتَرَدَّدَ عِيَالِي عَظْمًا عَظْمًا , فَقَالَ عُمَرُ : " مَا اجْتَمَعَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ , إِلَّا أَكَلَ أَحَدَهُمَا , وَتَصَدَّقَ بِالْآخَرِ" , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: خُذْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ , فَلَنْ يَجْتَمِعَا عِنْدِي , إِلَّا فَعَلْتُ ذَلِكَ , قَالَ: " مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور وہ اس وقت دستر خوان پر تھے ، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے مجلس کے درمیان میں جگہ بنائی ، عمر رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ کہا ، پھر کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا ، اور ایک لقمہ لیا ، پھر دوسرا لقمہ لیا ، پھر کہا : مجھے اس میں چکنائی کا ذائقہ مل رہا ہے ، اور یہ چکنائی گوشت کی چربی نہیں ہے ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اے امیر المؤمنین ! میں فربہ گوشت کی تلاش میں بازار نکلا تاکہ اسے خریدوں ، لیکن میں نے اسے مہنگا پایا تو ایک درہم میں دبلا گوشت خرید لیا ، اور ایک درہم کا گھی خرید کر اس میں ملا دیا ، اس سے میرا مقصد یہ تھا کہ ایک ایک ہڈی میرے تمام گھر والوں کے حصے میں آ جائے ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : جب کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ دونوں چیزیں بیک وقت اکٹھا ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کھا لی ، اور دوسری صدقہ کر دی ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : امیر المؤمنین ! اب تو اسے کھا لیجئیے پھر جب کبھی میرے پاس یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہوں گی میں بھی ایسا ہی کروں گا ، عمر رضی اللہ عنہ بولے : میں اسے کھانے والا نہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3361]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10579، ومصباح الزجاجة: 1164)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/220، 221، 222) (ضعیف) (یونس بن أبی یعفور ضعیف را وی ہے)
58: بَابُ : مَنْ طَبَخَ فَلْيُكْثِرْ مَاءَهُ
باب: سالن پکاتے وقت شوربا میں پانی زیادہ کر دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ , عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا عَمِلْتَ مَرَقَةً , فَأَكْثِرْ مَاءَهَا وَاغْتَرِفْ لِجِيرَانِكَ مِنْهَا".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم سالن پکاؤ تو اس میں شوربا بڑھا لو ، اور اس میں سے ایک ایک چمچہ پڑوسیوں کو بھجوا دو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3362]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/البر 42 (2625)، سنن الترمذی/الأطعمة 30 (1833)، (تحفة الأشراف: 11951)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/161، 171)، سنن الدارمی/الأطعمة 37 (2124) (صحیح)
59: بَابُ : أَكْلِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ
باب: لہسن، پیاز اور گندنا کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ , عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَطِيبًا , فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ: هَذَا الثُّومُ وَهَذَا الْبَصَلُ , وَلَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوجَدُ رِيحُهُ مِنْهُ , فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ حَتَّى يُخْرَجَ بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ , فَمَنْ كَانَ آكِلَهُمَا لَا بُدَّ فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا".
معدان بن أبی طلحہ یعمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبے کے لیے کھڑے ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا : لوگو ! تم دو ایسے پودے کھاتے ہو جو میرے نزدیک خبیث ہیں : ایک لہسن ، دوسرا پیاز ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دیکھا کہ جس شخص کے منہ سے ان کی بو آتی اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع تک لے جا کر چھوڑا جاتا ، تو جس کو لہسن ، پیاز کھانا ہی ہو وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3363]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کچا نہ کھائے چونکہ کچے میں بو ہوتی ہے، پکانے سے بو کم ہو جاتی ہے، یا بالکل ختم ہو جاتی ہے، گرچہ پیاز اور لہسن حرام نہیں ہے مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو برا جانتے تھے، اور نہیں کھاتے تھے اس وجہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آتی، اور فرشتوں کو اس کی بونا گوار ہوتی، اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہ حکم ہے کہ کچا نہ کھائیں اگر کچا ئیں کھائیں تو ان کو کھا کر مسجد میں نہ جائیں تاکہ دوسرے مسلمانوں کو تکلیف نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 17 (567)، (تحفة الأشراف: 10646)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/15، 49، 26، 27، 48، 4/19، 26، 27، 48) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ , قَالَتْ: صَنَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ الْبُقُولِ , فَلَمْ يَأْكُلْ , وَقَالَ: " إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي".
ام ایوب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا ، اس میں کچھ سبزیاں ( پیاز اور لہسن ) پڑی تھیں ، آپ نے اسے نہیں کھایا ، اور فرمایا : ” مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں ( اس کی بو سے ) اپنے ساتھی ( جبرائیل علیہ السلام ) کو تکلیف پہنچاؤں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3364]
💡 وضاحت:
۱؎: فتح الباری میں ہے کہ پیاز اور لہسن اور گندنا حلال ہیں، لیکن جو کوئی ان کو کھائے اس کو مسجد میں جانا مکروہ ہے، اور فقہاء نے مُولی کو بھی ان کی مثل سمجھا ہے، اور جس ترکاری میں بری بو ہو وہ اس کی مثل ہے، اور جمہور اسی کے قائل ہیں کہ کراہت تنزیہی ہے۔ اور بیڑی سگریٹ، سگار وغیرہ کے پینے والوں یا تمباکو کھانے والوں کے منہ بھی عموما ً بدبو کرتے ہیں، جس سے لوگوں کو مسجد اور مسجد سے باہر اذیت اور تکلیف ہوتی ہے، اس لیے اس سے بھی احتیاط ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأطعمة 14 (1810)، (تحفة الأشراف: 18304)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/433، 462)، سنن الدارمی/الأطعمة 21 (2098) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 504) .
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا أَبُو شُرَيْحٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نِمْرَانَ الْحَجْرِيِّ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ نَفَرًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مِنْهُمْ رِيحِ الْكُرَّاثِ , فَقَالَ: " أَلَمْ أَكُنْ نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ هَذِهِ الشَّجَرَةِ , إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسَانُ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ کو ان کی جانب سے گندنے کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا : ” کیا میں نے تمہیں اس پودے کو کھانے سے نہیں روکا تھا ؟ یقیناً فرشتوں کے لیے وہ چیزیں باعث اذیت ہوتی ہیں ، جو انسان کے لیے باعث اذیت ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3365]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 787)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 160 (854، 855)، الأطعمة 49 (5452)، الاعتصام 24 (7359)، صحیح مسلم/المساجد 17 (564)، سنن ابی داود/الأطعمة 41 (3822)، سنن الترمذی/الأطعمة 13 (1806)، سنن النسائی/المساجد 16 (708)، مسند احمد (3/374، 387) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يُحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ نُعَيْمٍ , عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنْ دُخَيْنٍ الْحَجْرِيِّ , أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ , يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِأَصْحَابِهِ: " لَا تَأْكُلُوا الْبَصَلَ" , ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً: " النِّيءَ".
دخین حجری سے روایت ہے کہا انہوں نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : ” پیاز مت کھاؤ ، ، پھر ایک لفظ آہستہ سے کہا : ” کچی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3366]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ثم قال
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عثمان بن نعيم والمغيرة بن نهيك: مجهولان (تقريب: 4523،6853) وابن لهيعة عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 498
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9925، ومصباح الزجاجة: 1165) (صحیح) (سند میں عثمان ا ور مغیرہ دونوں مجہول ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، آخری جملہ ثم قال كلمة خفية: النيئ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2389)
60: بَابُ : أَكْلِ الْجُبْنِ وَالسَّمْنِ
باب: پنیر اور گھی کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ , حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ , قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّمْنِ وَالْجُبْنِ وَالْفِرَاءِ , قَالَ: " الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ , وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ , وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ".
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی ، پنیر اور جنگلی گدھے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے ، اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے ، اور جس کے بارے میں چپ رہے وہ معاف ( مباح ) ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3367]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی حلال ہے اس کے کھانے میں کچھ مواخذہ نہیں، کیونکہ حلال سیکڑوں چیزیں ہیں، ان سب کا بیان کرنا دشوار تھا، اس لئے جو چیزیں حرام تھیں ان کو قرآن اور حدیث میں بیان کر دیا گیا، اسی طرح وہ چیزیں جو حلال تھیں لیکن مشرکین جہالت سے ان کو حرام سمجھتے تھے، انہیں بھی بیان کر دیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1726) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 498
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 6 (1726)، (تحفة الأشراف: 4496) (حسن) (سند میں ہارون ضعیف ہے، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، تراجع الألبانی: رقم: 428)
61: بَابُ : أَكْلِ الثِّمَارِ
باب: پھل اور میوہ کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , قَالَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنَبٌ مِنْ الطَّائِفِ فَدَعَانِي , فَقَالَ: " خُذْ هَذَا الْعُنْقُودَ , فَأَبْلِغْهُ أُمَّكَ" , فَأَكَلْتُهُ قَبْلَ أَنْ أُبْلِغَهُ إِيَّاهَا , فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ لَيَالٍ , قَالَ لِي: " مَا فَعَلَ الْعُنْقُودُ؟ هَلْ أَبْلَغْتَهُ أُمَّكَ؟" , قُلْتُ: لَا , فَسَمَّانِي غُدَرَ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طائف سے انگور ہدیہ میں آئے ، آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا : ” یہ خوشہ لو اور اپنی ماں کو پہنچا دو “ ، میں نے وہ خوشہ ماں تک پہنچانے سے پہلے ہی کھا لیا ، جب چند روز ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : ” خوشے کا کیا ہوا ؟ کیا تم نے اسے اپنی ماں کو دیا “ ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام ( محبت و مزاح سے ) ” دغا باز “ رکھ دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3368]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن عرق:مجهول (التحرير: 3951) لم يوثقه غير ابن حبان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 498
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11633، ومصباح الزجاجة: 1166) (ضعیف) (اس کی سند میں عبدالرحمن بن عرق مقبول راوی ہیں، جن کا کوئی متابع نہیں اس لئے وہ لین الحدیث ہیں، اور اس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ , حَدَّثَنَا نُقَيْبُ بْنُ حَاجِبٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الزُّبَيْرِيِّ , عَنْ طَلْحَةَ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ سَفَرْجَلَةٌ , فَقَالَ: " دُونَكَهَا يَا طَلْحَةُ فَإِنَّهَا تُجِمُّ الْفُؤَادَ".
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور آپ کے ہاتھ میں بہی ( سفرجل ) ۱؎ تھا ، آپ نے مجھ سے فرمایا : ” طلحہ ! اسے لے لو ، یہ دل کے لیے راحت بخش ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3369]
💡 وضاحت:
۱؎: بہی اور سیب دونوں دل کے لئے مقوی اور دل کی دھڑکن دور کرنے میں مفید ہیں، اگرچہ حدیث ضعیف ہے، مگر یہ دونوں گرم مزاج والوں کے لئے مفید ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ نقيب بن حاجب و أبو سعيد و عبدالملك الزبيري:مجهولون (تقريب: 7185،8134،4230) ¤ وللحديث شواهد ضعيفة في العلل المتناهية (165/2،166) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 498
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5004، ومصباح الزجاجة: 1167) (ضعیف الإسناد) (سند میں نقیب بن حاجب، ابو سعید اور عبدالملک سب مجہول ہیں)
62: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ الأَكْلِ مُنْبَطِحًا
باب: اوندھے منہ لیٹ کر کھانا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى وَجْهِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3370]
💡 وضاحت:
۱؎: اوندھے ہو کر سونا بھی منع ہے کیونکہ جہنمیوں کی مشابہت ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں گھسیٹ کر ڈالے جائیں گے جیسے قرآن میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3774) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 498
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6810)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة 19 (3774)، مسند احمد (3/430، 5/426) (حسن) (حدیث شواہد کی بنا پر حسن ہے، سند میں جعفر بن برقان ہیں جو زہری کی احادیث میں خاص کر وہم کا شکار تھے۔ ملاحظہ ہو سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 3394)
← پچھلی کتاب #32 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #34 →