سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3368
Sunan Ibn Majah 3368
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
61: بَابُ : أَكْلِ الثِّمَارِ
باب: پھل اور میوہ کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , قَالَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنَبٌ مِنْ الطَّائِفِ فَدَعَانِي , فَقَالَ: " خُذْ هَذَا الْعُنْقُودَ , فَأَبْلِغْهُ أُمَّكَ" , فَأَكَلْتُهُ قَبْلَ أَنْ أُبْلِغَهُ إِيَّاهَا , فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ لَيَالٍ , قَالَ لِي: " مَا فَعَلَ الْعُنْقُودُ؟ هَلْ أَبْلَغْتَهُ أُمَّكَ؟" , قُلْتُ: لَا , فَسَمَّانِي غُدَرَ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس طائف سے انگور ہدیہ میں آئے ، آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا : ” یہ خوشہ لو اور اپنی ماں کو پہنچا دو “ ، میں نے وہ خوشہ ماں تک پہنچانے سے پہلے ہی کھا لیا ، جب چند روز ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : ” خوشے کا کیا ہوا ؟ کیا تم نے اسے اپنی ماں کو دیا “ ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام ( محبت و مزاح سے ) ” دغا باز “ رکھ دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3368]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن عرق:مجهول (التحرير: 3951) لم يوثقه غير ابن حبان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 498
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11633، ومصباح الزجاجة: 1166) (ضعیف) (اس کی سند میں عبدالرحمن بن عرق مقبول راوی ہیں، جن کا کوئی متابع نہیں اس لئے وہ لین الحدیث ہیں، اور اس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے)