سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3264
Sunan Ibn Majah 3264
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
7: بَابُ : التَّسْمِيَةِ عِنْدَ الطَّعَامِ
باب: کھانے کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا أَنَّهُ لَوْ كَانَ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ، فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا , فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَقُولَ: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ، فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) آیا ، اور اس نے اسے دو لقموں میں کھا لیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ، اگر یہ شخص «بسم الله» کہہ لیتا ، تو یہی کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا ، لہٰذا تم میں سے جب کوئی کھانا کھائے تو چاہیئے کہ وہ ( «بسم الله» ) کہے ، اگر وہ شروع میں ( «بسم الله» ) کہنا بھول جائے تو یوں کہے : «بسم الله في أوله وآخره» “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3264]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ تعالی کا نام لیتا ہوں شروع اور اخیر دونوں میں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16267، ومصباح الزجاجة: 1122)، وقد أخر جہ: سنن ابی داود/الأطعمة 16 (3767)، سنن الترمذی/الأطعمة 47 (1858)، مسند احمد (6/143، 207، 246، 265)، سنن الدارمی/الأطعمة 1 (2063) (صحیح) (عبد بن عبید بن عمیر اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان سند میں انقطاع ہے، لیکن حدیث امیہ بن مخشی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1965)