سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3253
Sunan Ibn Majah 3253
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
1: بَابُ : إِطْعَامِ الطَّعَامِ
باب: کھانا کھلانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا اسلام بہتر ہے ۱؎ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھانا کھلانا ، ہر شخص کو سلام کرنا ، چاہے اس کو پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3253]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسلام میں کون سا عمل بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 6 (12)، 20 (28)، الاستئذان 9 (6236)، صحیح مسلم/الإیمان 14 (39)، سنن ابی داود/الأدب 142 (5194)، سنن النسائی/الإیمان 12 (5003)، (تحفة الأشراف: 8927)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/156) (صحیح)