سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3360
Sunan Ibn Majah 3360
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
56: بَابُ : إِذَا رَأَى الضَّيْفُ مُنْكَرًا رَجَعَ
باب: (دعوت میں) خلاف شرع بات دیکھ کر مہمان کے لوٹ جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , حَدَّثَنَا سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّ رَجُلًا أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : لَوْ دَعَوْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا , فَدَعَوْهُ فَجَاءَ , فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ , فَرَأَى قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ , فَرَجَعَ , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْ فَقُلْ لَهُ: مَا رَجَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَنْ أَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا".
سفینہ ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ضیافت کی اور آپ کے لیے کھانا تیار کیا ، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کاش ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے ، چنانچہ لوگوں نے آپ کو بھی مدعو کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کے دونوں بازو پر رکھے ، تو آپ کی نظر گھر کے ایک گوشے میں ایک باریک منقش پردے پر پڑی ، آپ لوٹ آئے ، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : جائیے اور پوچھئے : اللہ کے رسول ! آپ کیوں واپس آ گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میرے لیے مناسب نہیں کہ میں ایسے گھر میں قدم رکھوں جس میں آرائش و تزئیین کی گئی ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3360]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں «مزوق» کا لفظ آیا ہے یعنی آرائش و تزیین، بعضوں نے کہا کہ «مزوق» کے معنی یہ ہیں کہ سونا چڑھا ہوا، یعنی جس گھر کی چھت یا دیوار پر طلائی نقرئی کام ہو یا قیمتی پردے لٹکے ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأطعمة 8 (3755)، (تحفة الأشراف: 4483)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/220، 221، 222) (حسن)