سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3324
Sunan Ibn Majah 3324
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
37: بَابُ : الْقِثَّاءِ وَالرُّطَبِ يُجْمَعَانِ
باب: ککڑی اور تازہ کھجور کو ملا کر کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَانَتْ أُمِّي تُعَالِجُنِي لِلسُّمْنَةِ تُرِيدُ أَنْ تُدْخِلَنِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا اسْتَقَامَ لَهَا ذَلِكَ، حَتَّى أَكَلْتُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ فَسَمِنْتُ كَأَحْسَنِ سِمْنَةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میری ماں میرے موٹا ہونے کا علاج کرتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کر سکیں ، لیکن کوئی تدبیر بن نہیں پڑی ، یہاں تک کہ میں نے ککڑی کھجور کے ساتھ ملا کر کھائی ، تو میں اچھی طرح موٹی ہو گئی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3324]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ ککڑی کھجور کے ساتھ بدن کو موٹا کرتی ہے، اور مزیدار بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17339) (صحیح)