سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3287
Sunan Ibn Majah 3287
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
17: بَابُ : الاِجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ
باب: ایک ساتھ کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَهْرَمَانُ آلِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ مَعَ الْجَمَاعَةِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سب مل کر کھانا کھاؤ ، اور الگ الگ ہو کر مت کھاؤ ، اس لیے کہ برکت سب کے ساتھ مل کر کھانے میں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3287]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا والجملة الأولى ثابتة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (3255) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10535، ومصباح الزجاجة: 1127) (ضعیف جدا) (عمرو بن دینار قہرمان آل الزبیر نے سالم سے منکر احادیث روایت کی ہے، اس لئے حدیث ضعیف ہے، لیکن پہلا جملہ كلوا جميعا ولا تفرقوا ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2691، تراجع الألبانی: رقم: 361)