سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3286
Sunan Ibn Majah 3286
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
17: بَابُ : الاِجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ
باب: ایک ساتھ کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَدَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالُوا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ وَحْشِيٍّ ، أنهم قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ: " فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُتَفَرِّقِينَ"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ".
وحشی بن حرب حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شاید الگ الگ متفرق ہو کر کھاتے ہو “ ، لوگوں نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھانا مل جل کر ایک ساتھ کھاؤ ، اور اللہ کا نام لیا کرو ، تو اس میں تمہارے لیے برکت ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3286]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا اجتماعی کھانا شکم سیری اور حصول برکت کا سبب ہے اور اس سے گریز بے برکتی کا باعث ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3764) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 494
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأطعمة 15 (3764)، (تحفة الأشراف: 1179)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/501) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 97)۔