📖 سنن ابن ماجه (Sunan Ibn Majah) • تمام کتب ↗

كتاب الأشربة

کتاب: مشروبات کے متعلق احکام و مسائل

کتاب #34 • کل احادیث: 66
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : الْخَمْرُ مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ
باب: شراب ہر برائی کی کنجی ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ , حَدَّثَنَا بْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ جَمِيعًا , عَنْ رَاشِدٍ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيِّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا تَشْرَبْ الْخَمْرَ , فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ( جگری دوست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی : ” شراب مت پیو ، اس لیے کہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3371]
💡 وضاحت:
۱؎: آدمی ہر ایک برائی سے عقل کی وجہ سے بچتا ہے جب عقل ہوتی ہے تو اللہ کا خوف ہوتا ہے، شراب پینے سے عقل ہی میں فتور آ جاتا ہے، پھر خوف کہاں رہا شرابی سے سینکڑوں گناہ سرزد ہوتے ہیں، اس لئے اس کو ام الخبائث کہتے ہیں، یعنی سب برائیوں کی جڑ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10985، ومصباح الزجاجة: 1168) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا مُنِيرُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ , يَقُولُ: سَمِعْتُ خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ , قَالَ: " إِيَّاكَ وَالْخَمْرَ , فَإِنَّ خَطِيئَتَهَا تَفْرَعُ الْخَطَايَا , كَمَا أَنَّ شَجَرَتَهَا تَفْرَعُ الشَّجَرَ".
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شراب سے بچو ، اس لیے کہ اس کے گناہ سے دوسرے بہت سے گناہ پھوٹتے ہیں جس طرح ایک درخت ہوتا ہے اور اس سے بہت سی شاخیں پھوٹتی ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3372]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ منير بن الزبير: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3515، ومصباح الزجاجة: 1169) (ضعیف) (منیر بن زبیر الشامی ضعیف ہے)
2: بَابُ : مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ
باب: جس نے دنیا میں شراب پی اسے آخرت میں جنت کی (پاک) شراب نہ ملے گی۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا , لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ، إِلَّا أَنْ يَتُوبَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص دنیا میں شراب پئے گا ، وہ آخرت میں نہیں پی سکے گا مگر یہ کہ وہ توبہ کر لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3373]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 8 (2003)، (تحفة الأشراف: 7951)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 1 (5575)، سنن الترمذی/الأشربة 1 (1861)، موطا امام مالک/الأشربة 4 (11)، مسند احمد (2/19، 22، 28، 5/98، 106، 133، 142)، سنن الدارمی/الأشربة 3 (2135) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ , أَنَّ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا , لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو دنیا میں شراب پئے گا ، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3374]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12300، ومصباح الزجاجة: 1170) (صحیح)
3: بَابُ : مُدْمِنِ الْخَمْرِ
باب: عادی شرابی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ , عَنْ سُهَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُدْمِنُ الْخَمْرِ كَعَابِدِ وَثَنٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شراب کا عادی ایسے ہی ہے جیسے بتوں کا پجاری “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3375]
💡 وضاحت:
۱؎: حالانکہ بت پوجنا شرک ہے اور شرک گناہوں میں سب سے بڑا ہے، مگر شراب بھی ایسا گناہ ہے کہ ہمیشہ کرنے سے وہ شرک کے مثل ہو جاتا ہے جیسے صغیرہ گناہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ ہو جاتا ہے، اس میں ڈر ہے شرابیوں کے لئے ایسا نہ ہو ان کا خاتمہ برا ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12748، ومصباح الزجاجة: 1171) (حسن) (سند میں محمد بن سلیمان ضعیف ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 677)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ , حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عادی شرابی جنت میں داخل نہیں ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3376]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10946، ومصباح الزجاجة: 1172)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/189، 6/441) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 675 و 678)
4: بَابُ : مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ
باب: شراب پینے والے کی نماز قبول نہ ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ وَسَكِرَ , لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا , وَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ , فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ , وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ , لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا , فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ , فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ , وَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ , لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا , فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ , فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ , وَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدَغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا رَدَغَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: " عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شراب پی کر مست ہو جائے ( نشہ ہو جائے ) اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی ، اور اگر وہ اس دوران مر جائے تو وہ جہنم میں جائے گا ، لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا ، پھر اگر وہ توبہ سے پھر جائے اور شراب پئے ، اور اسے نشہ آ جائے تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں ہو گی ، اگر وہ اس دوران مر گیا تو جہنم میں جائے گا ، لیکن اگر وہ پھر توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا ، اگر وہ پھر پی کر بدمست ہو جائے تو پھر اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہو گی ، اور وہ اسی حالت میں مر گیا تو جہنم میں جائے گا ، اور اگر اس نے پھر توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا ، اب اگر وہ ( اس کے بعد بھی ) پئے تو اللہ تعالیٰ کے لیے حق ہو گا کہ اسے قیامت کے دن «ردغۃ الخبال» پلائے ، لوگوں نے سوال کیا : اللہ کے رسول ! یہ «ردغۃ الخبال» کیا ہے ؟ فرمایا : ” جہنمیوں کا پیپ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3377]
💡 وضاحت:
۱؎: معاذ اللہ، شراب پینی، اور اتنی کہ آدمی مست ہو جائے، اور ہوش کھو دے،کتنا بڑا سخت گناہ ہے، توراۃ، اور انجیل میں بھی اس کی بہت برائی آئی ہے، اور حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تیسری بار اگر شراب پئے تو توبہ قبول نہ ہو گی، اور ضرور عذاب ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الأشربة 43 (5667)، (تحفة الأشراف: 8843)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأشربة 1 (1862)، مسند احمد (2/35، 176، 189، 197، 5/171، 6/460) (صحیح)
5: بَابُ : مَا يَكُونُ مِنْهُ الْخَمْرُ
باب: شراب کن چیزوں سے بنتی ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَامِيُّ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ: النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شراب ان دو درختوں : کھجور اور انگور سے بنتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3378]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 4 (1985)، سنن ابی داود/الأشربة 4 (3678)، سنن الترمذی/الأشربة 8 (1875)، سنن النسائی/الأشربة 19 (5575)، (تحفة الأشراف: 14841)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/279، 408، 409، 474، 496، 518، 526)، سنن الدارمی/ الأشربة 7 (2141) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , أَنَّ خَالِدَ بْنَ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيّ حَدَّثَهُ , أَنَّ السَّرِيَّ بْنَ إِسْمَاعِيل حَدَّثَهُ , أَنَّ الشَّعْبِيَّ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا , وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا , وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا , وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا , وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شراب کئی چیزوں سے بنائی جاتی ہے ، گیہوں سے ، جو سے ، منقیٰ سے ، کھجور سے اور شہد سے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3379]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأشربة 4 (3676، 3677)، سنن الترمذی/الأشربة 8 (1872، 1873)، (تحفة الأشراف: 11626)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/267، 273) (صحیح)
6: بَابُ : لُعِنَتِ الْخَمْرُ عَلَى عَشَرَةِ أَوْجُهٍ
باب: شراب پر دس طرح سے لعنت ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيِّ , وَأَبِي طُعْمَةَ مَوْلَاهُمْ , أَنَّهُمَا سَمِعَا ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لُعِنَتِ الْخَمْرُ عَلَى عَشْرَةِ أَوْجُهٍ بِعَيْنِهَا: وَعَاصِرِهَا , وَمُعْتَصِرِهَا , وَبَائِعِهَا , وَمُبْتَاعِهَا , وَحَامِلِهَا , وَالْمَحْمُولَةِ إِلَيْهِ , وَآكِلِ ثَمَنِهَا , وَشَارِبِهَا , وَسَاقِيهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شراب دس طرح سے ملعون ہے ، یہ لعنت خود اس پر ہے ، اس کے نچوڑنے والے پر ، نچڑوانے والے پر ، اس کے بیچنے والے پر ، اس کے خریدنے والے پر ، اس کو اٹھا کر لے جانے والے پر ، اس شخص پر جس کے پاس اٹھا کر لے جائی جائے ، اس کی قیمت کھانے والے پر ، اس کے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3380]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7296، ومصباح الزجاجة: 1173)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 2 (3674)، مسند احمد (2/25، 71)، دون قولہ: '' أکل ثمنہا'' (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ شَبِيبٍ , سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , أَوْ حَدَّثَنِي أَنَسٌ , قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً: " عَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَالْمَعْصُورَةَ لَهُ , وَحَامِلَهَا , وَالْمَحْمُولَةَ لَهُ , وَبَائِعَهَا , وَالْمُبْاعَةَ لَهُ , وَسَاقِيَهَا , وَالْمُسْتَقَاةَ لَهُ , حَتَّى عَدَّ عَشَرَةً مِنْ هَذَا الضَّرْبِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس قسم کے لوگوں پر شراب کی وجہ سے لعنت فرمائی : ” اس کے نچوڑنے والے پر ، نچڑوانے والے پر ، اور اس پر جس کے لیے نچوڑی جائے ، اسے لے جانے والے پر ، اس شخص پر جس کے لیے لے جائی جائے ، بیچنے والے پر ، اس پر جس کو بیچی جائے ، پلانے والے پر اور اس پر جس کو پلائی جائے “ ، یہاں تک کہ دسوں کو آپ نے گن کر اس طرح بتایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3381]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/البیوع 59 (1295)، (تحفة الأشراف: 900)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/316، 2/97) (صحیح)
7: بَابُ : التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ
باب: شراب کی تجارت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا , خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سود کے سلسلے میں سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، اور شراب کی تجارت کو حرام قرار دے دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3382]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 105 (2226)، صحیح مسلم/المساقاة 12 (1580)، سنن ابی داود/البیوع 66 (3490)، سنن النسائی/البیوع 89 (4669)، (تحفة الأشراف: 17636) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ ، أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا , فَقَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ , أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ , حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے شراب بیچی ہے تو کہا : اللہ تعالیٰ سمرہ کو تباہ کرے ، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہود پر اللہ کی لعنت ہو ، اس لیے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی ، تو انہوں نے اسے پگھلایا اور بیچ دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3383]
💡 وضاحت:
۱؎: اور بیچ کر اس کی قیمت کھا لی، معلوم ہوا کہ جیسے شراب حرام ہے، ویسے ہی اس کی قیمت لینا اور تجارت کرنا بھی حرام ہے، افسوس ہے کہ ہمارے زمانے میں بعض مسلمان تاجر اپنی دوکانوں میں شراب بھی رکھتے ہیں، اور خیال رکھتے ہیں کہ شراب کے بیچنے میں اتنا گناہ نہیں ہے جتنا اس کے پینے میں، حالانکہ حدیث کی روسے یہ سب برابر ہیں اور سب پر لعنت آتی ہے، اور شراب کا پیشہ حرام ہے، اس کا پینا اور پیلانا دونوں جائز نہیں، اسی طرح سود کا پیشہ اور جو تاجر شراب اور سود کی تجارت کرتا ہو اس کی دعوت میں جاتا تقوی اور دین داری کے خلاف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 103 (2223)، الأنبیاء 50 (3457)، صحیح مسلم/المساقاة 13 (1582)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 8 (4262)، (تحفة الأشراف: 10501)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/25)، سنن الدارمی/الأشرابة 9 (2150) (صحیح)
8: بَابُ : الْخَمْرِ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کہ لوگ شراب کا نام بدل کر اسے پیئیں گے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ , حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَذْهَبُ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامُ , حَتَّى تَشْرَبَ فِيهَا طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ , يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رات اور دن یعنی زمانہ ختم نہیں ہو گا یہاں تک کہ میری امت کی ایک جماعت اس میں شراب پئے گی ، وہ شراب کا نام بدل دے گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3384]
💡 وضاحت:
۱؎: جیسے کوئی شربت «مفرح» کہے گا کوئی عرق النشاط کوئی شراب الصالحین نام بدلنے سے کیا ہوتا ہے، جو چیز حرام ہے، وہ ہر طرح حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4858، ومصباح الزجاجة: 1174) (صحیح) (عبدالسلام ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1/137 و 138)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ , حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ الْعَبْسِيُّ , عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ , عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ , عَنْ ثَابِتِ بْنِ السِّمْطِ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَشْرَبُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ بِاسْمٍ يُسَمُّونَهَا إِيَّاهُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے بعض لوگ شراب کا دوسرا نام رکھ کر پئیں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3385]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5072)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/318) (صحیح)
9: بَابُ : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
باب: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3386]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضو 71 (242)، الأشربة 4 (5585، 5586)، صحیح مسلم/الأشربة 7 (2001)، سنن ابی داود/الأشربة 5 (3682)، سنن الترمذی/الأشربة 2 (1863)، سنن النسائی/الأشربة 23 (5594)، (تحفة الأشراف: 17764)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأشربة 4 (9)، مسند احمد (6/36، 97، 190، 226)، سنن الدارمی/الأشربة 8 (2142) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ , سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3387]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7035)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة 7 (2003)، سنن ابی داود/الأشربة 5 (3679)، سنن الترمذی/الأشربة 1 (1861)، 2 (1864)، سنن النسائی/الأشربة 46 (5676، 5677)، مسند احمد (2/16، 29، 31، 91، 98، 105، 158) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، قَالَ بْن مَاجَه: هَذَا حَدِيثُ الْمِصْرِيِّينَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں : یہ اہل مصر کی حدیث ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3388]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9563، ومصباح الزجاجة: 1175) (صحیح) (سند میں ایوب بن ہانی ضعیف راوی ہیں، لیکن اگلی حدیثوں سے تقویت پاکر صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ , عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ , سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ" , وَهَذَا حَدِيثُ الرَّقِّيِّينَ.
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” ہر نشہ لانے والی چیز ہر مومن پر حرام ہے “ ۔ یہ اہل رقہ کی حدیث ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3389]
💡 وضاحت:
۱؎: رقہ: بغداد کے قریب ایک شہر ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سليمان بن عبد اللّٰه بن الزبرقان: لين الحديث ¤ و الحديث الآتي (الأصل: 3390) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11451، ومصباح الزجاجة: 1176) (ضعیف) (سند میں سلیمان بن عبد اللہ لین الحدیث ہے، لیکن حدیث كل مسكر حرام کا جملہ صحیح ہے، کما تقدم)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَهْلٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ , وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نشہ لانے والی چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3390]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأشربة 2 (1864)، سنن النسائی/الأشربة 23 (5590)، (تحفة الأشراف: 8584)، وقد أخرجہ: حم (2/16، 29، 31، 104) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي مُوسَى , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3391]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 60 (4343، 4344)، الأدب 80 (6124)، الأحکام 22 (7172)، صحیح مسلم/الأشربة 7 (1733)، سنن ابی داود/الأشربة 5 (3684)، الحدود 1 (4356)، سنن النسائی/الأشربة 23 (5598)، (تحفة الأشراف: 9086)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/410، 416، 417) (صحیح)
10: بَابُ : مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ
باب: جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کا تھوڑا بھی حرام ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَا أَسْكَرَ كَثِيرُه، فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو اس کا تھوڑا بھی حرام ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3392]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7089، ومصباح الزجاجة: 1177) (صحیح) (سند میں زکریا بن منظور ضعیف ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے یہ صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ , حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ بَكْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ , فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو ، اس کا تھوڑا بھی حرام ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3393]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن ¤ َدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ:
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأشربة 5 (3681)، سنن الترمذی/الأشربة 3 (1865)، (تحفة الأشراف: 3014)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/343) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ , فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کی زیادہ مقدار نشہ لانے والی ہو ، اس کا تھوڑا بھی حرام ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3394]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الأشربة 25 (5610)، (تحفة الأشراف: 8760)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/167، 179) (حسن صحیح)
11: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ الْخَلِيطَيْنِ
باب: دو چیز کو ملا کر نبیذ بنانے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
قَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ الْمَكِّيُّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور اور انگور کو ملا کر ، اور کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3395]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 5 (1986)، سنن ابی داود/الأشربة 8 (3703)، سنن الترمذی/الأشربة 9 (1876)، سنن النسائی/الأشربة 9 (5558)، (تحفة الأشراف: 2478)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 11 (5601)، مسند احمد (3/294، 300، 302، 317، 363، 369)، (صحیح)
مکمل مطالعہ →
قَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ الْمَكِّيُّ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
لیث بن سعد کہتے ہیں کہ مجھ سے عطاء بن ابی رباح مکی نے بیان کیا ، وہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور وہ مرفوعاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3395M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 5 (1986)، سنن ابی داود/الأشربة 8 (3703)، سنن الترمذی/الأشربة 9 (1876)، سنن النسائی/الأشربة 9 (5558)، (تحفة الأشراف: 2478)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 11 (5601)، مسند احمد (3/294، 300، 302، 317، 363، 369)، (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَامِيُّ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ , عَنْ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنْبِذُوا التَّمْرَ وَالْبُسْرَ جَمِيعًا , وَانْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پکی اور کچی کھجوریں ملا کر نبیذ نہ بناؤ ، بلکہ ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3396]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 5 (1989)، سنن النسائی/الأشربة 17 (5573)، (تحفة الأشراف: 14842)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/526) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ الرُّطَبِ وَالزَّهْوِ , وَلَا بَيْنَ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ , وَانْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” تر اور کچی کھجوروں کو نہ ملاؤ ، اور نہ ہی انگور اور کھجور کو ، بلکہ ان میں سے ہر ایک کا الگ الگ نبیذ بناؤ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3397]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأشربة 11 (5602)، صحیح مسلم/الأشربة 5 (1988)، سنن ابی داود/الأشربة 8 (3704)، سنن النسائی/الأشربة 6 (5553)، (تحفة الأشراف: 12107)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأشربة 1 (8)، مسند احمد (5/295، 307، 309، 310)، سنن الدارمی/الأشربة 15 (2156) (صحیح)
12: بَابُ : صِفَةِ النَّبِيذِ وَشُرْبِهِ
باب: نبیذ بنانے اور پینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , حَدَّثَتْنَا بُنَانَةُ بِنْتُ يَزِيدَ الْعَبْشَمِيَّةُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ , فَنَأْخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ أَوْ قَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ فَنَطْرَحُهَا فِيهِ , ثُمَّ نَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ , فَنَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً , وَنَنْبِذُهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً" , وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: نَهَارًا فَيَشْرَبُهُ لَيْلًا , أَوْ لَيْلًا فَيَشْرَبُهُ نَهَارًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ تیار کرتے اس کے لیے ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی انگور لے لیتے ، پھر اسے مشک میں ڈال دیتے ، اس کے بعد اس میں پانی ڈال دیتے ، اگر ہم اسے صبح میں بھگوتے تو آپ اسے شام میں پیتے ، اور اگر ہم شام میں بھگوتے تو آپ اسے صبح میں پیتے ۔ ابومعاویہ اپنی روایت میں یوں کہتے ہیں : ” دن میں بھگوتے تو رات میں پیتے اور رات میں بھگوتے تو دن میں پیتے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3398]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ بنانة (أوتبالة) لا تعرف (تقريب: 8545) ¤ و للحديث شواھد ضعيفة عند أبي داود (3706،3707) و غيره ¤ و حديث مسلم (2005) و أبي داود (3711) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17824)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة 9 (2005)، سنن ابی داود/الأشربة 10 (3711)، سنن الترمذی/الأشربة 7 (1871)، مسند احمد (6/46، 124) (صحیح) (سند میں نبانة بنت یزید غیر معروف ہیں، لیکن یہ حدیث ابن عباس کی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ صَبِيحٍ , عَنْ أَبِي إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي عُمَرَ الْبَهْرَانِيِّ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَالْغَدَ وَالْيَوْمَ الثَّالِثَ , فَإِنْ بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ أَهْرَاقَهُ , أَوْ أَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ تیار کی جاتی تو آپ اسے اسی دن پیتے ، پھر اگلے دن ، پھر تیسرے دن ، اور اگر اس کے بعد بھی اس میں سے کچھ بچ جاتا تو اسے بہا دیتے یا کسی کو حکم دیتے تو وہ بہا دیتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3399]
💡 وضاحت:
۱؎: نبیذ یعنی انگور، کھجور یا کسی پھل کا شربت پینا صحیح ہے، بشرطیکہ اس میں جوش پیدا نہ ہوا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے جو آگے آئے گی کہ نبیذ میں جو ش آ گیا تھا، تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دیوار پر مار، یہ تو وہ پیئے گا جو اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھتا ہو (ابوداود، اور نسائی)، اور مسند احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیذ کو پیو جب تک شیطان اس کو نہ لے لے، کہا گیا: کتنے دن میں اس کو شیطان لیتا ہے؟ کہا: تین دن میں۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیۃ)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 9 (2004)، سنن ابی داود/الأشربة 10 (3713)، سنن النسائی/الأشربة 55 (5740)، (تحفة الأشراف: 6548)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 240، 287، 355) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: " كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پتھر کے ایک پیالے میں نبیذ تیار بنائی جاتی تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3400]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 6 (1999)، سنن النسائی/الأشربة 27 (5616)، 38 (5650)، (تحفة الأشراف: 2995)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 7 (3702)، مسند احمد (3/304، 307، 336، 379، 384) (صحیح)
13: بَابُ : النَّهْيِ عَنْ نَبِيذِ الأَوْعِيَةِ
باب: شراب کے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يُنْبَذَ فِي النَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمَةِ , وَقَالَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ نقیر ، مزفت ، دباء اور حنتمہ میں نبیذ تیار کی جائے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3401]
💡 وضاحت:
۱؎: نقیر: لکڑی کا برتن، مزفت: روغنی برتن، دباء: کدو کے تونبے کا برتن، حنتمہ: سبز روغنی گھڑا، ان برتنوں میں شراب بنا کرتی ہے ان میں نبیذ بنانے کی ممانعت اس خیال سے ہوئی ایسا نہ ہو نبیذ تیز ہو جائے، اور کوئی اس کو پی لے، اور ان برتنوں کو دیکھ کر شراب پینے کی خواہش پیدا ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15093، ومصباح الزجاجة: 1178)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة 6 (1992)، سنن ابی داود/الأشربة 7 (3693)، سنن النسائی/الأشربة 38 (5649)، موطا امام مالک/الأشربة 2 (6)، مسند احمد (2/414، 491) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ يُنْبَذَ فِي الْمُزَفَّتِ وَالْقَرْعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزفت ( روغنی برتن ) ، اور دباء ( کدو کی تونبی ) میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3402]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 6 (1998)، (تحفة الأشراف: 8299)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأشربة 5 (1864)، سنن النسائی/الأشربة 37 (5648)، موطا امام مالک/الأشربة 2 (5)، مسند احمد (2/56) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَنِ الشُّرْبِ فِي الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنتم ، دباء اور نقیر میں پینے سے منع فرمایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3403]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 6 (1996)، سنن النسائی/الأشربة 32 (5636)، (تحفة الأشراف: 4253)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/90) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ".
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور حنتم ( کے استعمال ) سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3404]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الأشربة 31 (5631)، (تحفة الأشراف: 9736) (صحیح)
14: بَابُ : مَا رُخِّصَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ
باب: مذکورہ بالا برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ , عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ , فَانْتَبِذُوا فِيهِ , وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں ( مخصوص ) برتنوں کے استعمال سے روکا تھا ، اب ان میں نبیذ تیار کر سکتے ہو لیکن ہر نشہ لانے والی چیز سے بچو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3405]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجنائز 36 (977)، الأضاحي 5 (1977)، الأشربة 6 (1999)، سنن ابی داود/الأشربة 7 (3698)، سنن الترمذی/الأشربة 6 (1869)، الجنائز 53 (1045)، الأضاحي 14 (1510)، سنن النسائی/الجنائز 100 (2034)، الأضاحي 36 (4434)، الأشربة 40 (5654، 5655)، (تحفة الأشراف: 1932)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/350، 356، 357، 361) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ , عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبِيذِ الْأَوْعِيَةِ , أَلَا وَإِنَّ وِعَاءً لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا , كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں ( مخصوص ) برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا ، سنو ! برتن کی وجہ سے کوئی چیز حرام نہیں ہوتی ، البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3406]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9563، ومصباح الزجاجة: 1179) (صحیح)
15: بَابُ : نَبِيذِ الْجَرِّ
باب: مٹی کے روغنی گھڑے میں نبیذ تیار کرنے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِيهِ , حَدَّثَتْنِي رُمَيْثَةُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: أَتَعْجِزُ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ كُلَّ عَامٍ مِنْ جِلْدِ أُضْحِيَّتِهَا سِقَاءً , ثُمَّ قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ يُنْبَذَ فِي الْجَرِّ وَفِي كَذَا وَفِي كَذَا , إِلَّا الْخَلَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے سوال کیا : کیا تم میں سے کوئی عورت اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر سال اپنی قربانی کے جانور کی کھال سے ایک مشک تیار کرے ؟ پھر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے روغنی گھڑے میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ہے ، اور فلاں فلاں برتن میں بھی ، البتہ ان میں سرکہ بنایا جا سکتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3407]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سويد بن سعيد:ضعيف ¤ و رميثة لا تعرف (تقريب: 8591) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17840، ومصباح الزجاجة: 1180)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/80، 98) (ضعیف الإسناد) (سند میں سوید بن سعید مختلف فیہ ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْخَطْمِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ يُنْبَذَ فِي الْجِرَارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے روغنی برتنوں میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3408]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الأشربة 33 (5638)، (تحفة الأشراف: 15392)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة 6 (1993)، مسند احمد (2/540) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ , عَنْ صَدَقَةَ أَبِي مُعَاوِيَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذِ جَرٍّ يَنِشُّ , فَقَالَ: " اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ , فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے گھڑے میں نبیذ لائی گئی جو جوش مار رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے دیوار پر مار دو ، اس لیے کہ یہ ایسے لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3409]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ کا استعمال صرف اس وقت تک جائز ہے جب تک کہ اس میں تیزی سے جھاگ نہ اٹھنے لگے اگر اس میں تیزی کے ساتھ جھاگ اٹھنے لگے تو اس کا استعمال جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأشربة 12 (3716)، سنن النسائی/الأشربة 25 (5613)، 48 (5707)، (تحفة الأشراف: 12297) (صحیح)
16: بَابُ : تَخْمِيرِ الإِنَاءِ
باب: برتن ڈھانک کر رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ , وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ , وَأَغْلِقُوا الْبَابَ , فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً , وَلَا يَفْتَحُ بَابًا , وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً , فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ , فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” برتن کو ڈھانک کر رکھو ، مشک کا منہ بند کر کے رکھو ، چراغ بجھا دو ، اور دروازہ بند کر لو ، اس لیے کہ شیطان نہ ایسی مشک کو کھولتا ہے ، اور نہ ایسے دروازے کو اور نہ ہی ایسے برتن کو جو بند کر دیا گیا ہو ، اب اگر تم میں سے کسی کو ڈھانکنے کے لیے لکڑی کے علاوہ کوئی چیز نہ ہو تو اسی کو «بسم الله» کہہ کر برتن پر آڑا رکھ دے ، اس لیے کہ چوہیا لوگوں کے گھر جلا دیتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3410]
💡 وضاحت:
۱؎: چوہیا چراغ کی بتی منہ میں پکڑ کر لے جاتی ہے، اور اس سے گھر میں آگ لگ جاتی ہے، تو سوتے وقت چراغ بجھا دینا ضروری ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ پانی کا برتن ڈھانپ کر رکھنے میں ایک تو شیطان سے حفاظت ہے، دوسرے وباء سے حفاظت ہے جو سال میں ایک رات میں آسمان سے اترتی ہے، اور کھلے برتن میں سما جاتی ہے، تیسرے نجاستوں سے حفاظت ہے، چوتھے کیڑے مکوڑوں سے حفاظت ہے، اور کبھی پانی میں کیڑا ہوتا ہے، اور آدمی غفلت میں پی جاتا ہے، اور نقصان اٹھاتا ہے اس لئے برتن ڈھانپنا بہت ضروری ہے، دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ جب رات کا ایک حصہ گزر جائے، تو اپنے بچوں کو باہر جانے سے روک رکھو، غرض اس حدیث میں دین اور دنیا دونوں کے فائدے جمع ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 12 (2012)، سنن ابی داود/الأشربة 22 (3731)، سنن الترمذی/الأدب 74 (2857)، (تحفة الأشراف: 2924)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأشربة 22 (5623)، مسند احمد (3/355) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ سُهَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ , وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ , وَإِكْفَاءِ الْإِنَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں برتن ڈھانکنے ، مشک کا منہ بند کر دینے ، اور برتن کو الٹ کر رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3411]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12639، ومصباح الزجاجة: 1181)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/367)، سنن الدارمی/الأشربة 26 (2178) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِصْمَةُ بْنُ الْفَضْلِ , حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ , حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ خِرِّيتٍ , أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَصنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ آنِيَةٍ مِنَ اللَّيْلِ مُخَمَّرَةً: إِنَاءً لِطَهُورِهِ , وَإِنَاءً لِسِوَاكِهِ , وَإِنَاءً لِشَرَابِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو تین ڈھکے ہوئے پانی کے برتن رکھتی : ایک آپ کے استنجاء کے لیے ، دوسرا آپ کے مسواک یعنی وضو کے لیے ، اور تیسرا آپ کے پینے کے لیے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3412]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (361) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16237، ومصباح الزجاجة: 1182) (ضعیف) (حریش بن خریت ضعیف راوی ہیں)
17: بَابُ : الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ
باب: چاندی کے برتن میں پینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ , إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے ، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3413]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأشربة 28 (5634)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2065)، (تحفة الأشراف: 18182)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ 7 (11)، مسند احمد (6/98، 301، 302، 304، 306)، سنن الدارمی/الأشربة 25 (2175) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّة وَقَالَ: " هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا , وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے ، آپ کا ارشاد ہے : ” یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3414]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأطعمة 29 (5426)، الأشربة 27 (5632)، 28 (5633)، اللباس 25 (5831)، 27 (5837)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2067)، سنن ابی داود/الأشربة 17 (3723)، سنن الترمذی/الأشربة 10 (1878)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 33 (5303)، (تحفة الأشراف: 3373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 39، 396، 398، 400، 408)، سنن الدارمی/الأشربة 25 (2175، 2176) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ امْرَأَةِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءِ فِضَّةٍ , فَكَأَنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ اتارتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3415]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17865، ومصباح الزجاجة: 1183)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/98) (صحیح)
18: بَابُ : الشُّرْبِ بِثَلاَثَةِ أَنْفَاسٍ
باب: پانی تین سانس میں پینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ , عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّهُ كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا , وَزَعَمَ أَنَسٌ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الْإِنَاءِ ثَلَاثًا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ برتن سے تین سانسوں میں پیتے اور کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تین سانسوں میں پیا کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3416]
💡 وضاحت:
۱؎: تین سانس میں پانی پینا مستحب ہے، مگر ضروری ہے کہ جب سانس لے تو برتن کو اپنے منہ سے علیحدہ کر لے، اور دوسری حدیث میں جو برتن میں سانس لینے سے منع کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ برتن منہ سے لگا ہو، اور سانس لے یہ مکروہ ہے، اس لئے کہ پانی ناک میں چڑھ جانے کا ڈر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأشربة 66 (5631)، صحیح مسلم/الأشربة 16 (2028)، سنن الترمذی/الأشربة 13 (1884)، (تحفة الأشراف: 498)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 19 (3728)، مسند احمد (3/114، 119، 128، 185)، سنن الدارمی/الأشربة 20 (2166) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَرِبَ فَتَنَفَّسَ فِيهِ مَرَّتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی پیا ، تو آپ نے دوبار سانس لی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3417]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1886) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأشربة 14 (1886)، (تحفة الأشراف: 6347)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/284، 285) (ضعیف) (رشدین بن کریب ضعیف راوی ہے)
19: بَابُ : اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ
باب: مشک کا منہ باہر نکال کر پانی پینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , عَنْ يُونُسَ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ، اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ , أَنْ يُشْرَبَ مِنْ أَفْوَاهِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر نکال کر ان سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3418]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأشربة 23 (5625، 5626)، صحیح مسلم/الأشربة 13 (2023)، سنن ابی داود/الأشربة 15 (3720)، سنن الترمذی/الأشربة 17 (1890)، (تحفة الأشراف: 4138)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/6، 67، 69، 93)، سنن الدارمی/الأشربة 19 (2195) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ" , وَإِنَّ رَجُلًا بَعْدَ مَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , قَامَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى سِقَاءٍ فَاخْتَنَثَهُ , فَخَرَجَتْ عَلَيْهِ مِنْهُ حَيَّةٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ باہر کر کے پانی پینے سے منع فرمایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت کے بعد ایک شخص نے رات کو اٹھ کر مشک کے منہ سے پانی پینا چاہا ، تو اس میں سے ایک سانپ نکلا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3419]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ زمعة بن صالح ضعيف ¤ و روي الحاكم (4/ 140 ح 7213) بسند صحيح عن أبي ھريرة رضي اللّٰه عنه: ”أن رسول اللّٰه ﷺ نھي أن يشرب من في السقاء“ قال أيوب (السختياني،الراوي عن عكرمة عن أبي ھريرة): ”فأنبئت أن رجلاً شرب من في السقاء فخرجت حية“ و صححه علي شرط البخاري ووافقه الذهبي ¤ و رواه البخاري (5628) مختصرًا دون قول أيوب رحمه اللّٰه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6099، ومصباح الزجاجة: 1184) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں، لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1126)
20: بَابُ : الشُّرْبِ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ
باب: مشک کے منہ سے پانی پینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3420]
💡 وضاحت:
۱؎: ممانعت کی وجہ ظاہر ہے کہ پانی اس صورت میں نظر نہیں آتا، اور اندیشہ ہے کہ پانی میں کوڑا یا کیڑا ہو، اور وہ پی جائے، دوسرے یہ کہ مشک میں بدبو ہو جانے کا خیال ہے، تیسرے یہ کہ پانی گرنے کا اندیشہ ہے، اور اکثر علماء کے نزدیک یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی خلاف اولیٰ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأشربة 24 (5627، 5628)، (تحفة الأشراف: 14245)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/230، 247، 327، 353، 487)، سنن الدارمی/الأشربة 19 (2164) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مشک کے منہ سے پانی پیا جائے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3421]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأشربة 24 (5629)، (تحفة الأشراف: 6056)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 14 (3719)، الأطعمة 25 (3786)، سنن الترمذی/الأطعمة 24 (1825)، سنن النسائی/الضحایا 43 (4453)، مسند احمد (1/226، 241، 293، 339)، سنن الدارمی/الأشربة 19 (2163) (صحیح)
21: بَابُ : الشُّرْبِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر پینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ , فَشَرِبَ قَائِمًا" , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِكْرِمَةَ , فَحَلَفَ بِاللَّهِ مَا فَعَلَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا ، تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ۱؎ ۔ شعبی کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث عکرمہ سے بیان کی تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3422]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کھڑے ہو کر پانی نہیں پیا، یہ عکرمہ نے اپنے گمان کے مطابق قسم کھائی، ورنہ مشہور روایتوں سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے کھڑے ہی پیا، اور بعض علماء نے کہا کہ زمزم کا پانی اور وضو سے بچا ہوا پانی کھڑے رہ کر پینا مستحب ہے، اور باقی کل پانی بیٹھ کر پینا چاہیے، اور احتمال ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو زمزم کا پانی کھڑے رہ کر پیا یہ عذر کی وجہ سے ہو کہ وہاں بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھنے کی جگہ نہ پائی ہو، اور بعضوں نے کہا کہ کھڑے رہ کر پانی پینا پہلے منع تھا، اس کی ممانعت منسوخ ہو گئی، اور بعضوں نے کہا: پہلے جائز تھا، پھر منع ہوا، جابر رضی اللہ عنہ سے ایسا مروی ہے، غرض بہتر یہی ہے بیٹھ کر پانی پیئے، مجبوری کی بات اور ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحج 76 (1637)، الأشربة 16 (5617)، صحیح مسلم/الأشربة 15 (2027)، ولیس عندہ ''فذکرت''، سنن الترمذی/الأشربة 12 (1882)، الشمائل 31 (197، 199)، سنن النسائی/الحج 165 (2967)، (تحفة الأشراف: 5767)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/214، 220، 242، 243، 249، 287، 342، 369، 372) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ , عَنْ جَدَّةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا كَبْشَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ , فَشَرِبَ مِنْهَا وَهُوَ قَائِمٌ" , فَقَطَعَتْ فَمَ الْقِرْبَةِ , تَبْتَغِي بَرَكَةَ مَوْضِعِ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
کبشہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے ، ان کے پاس ایک پانی کی مشک لٹکی ہوئی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑ ے کھڑے اس کے منہ سے منہ لگا کر پانی پیا ، تو انہوں نے مشک کے منہ کو جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ کا لمس ہوا تھا برکت کے لیے کاٹ کر رکھ لیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3423]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأشربة 18 (1892)، (تحفة الأشراف: 18049)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/434) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3424]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 14 (2024)، سنن الترمذی/الأشربة 11 (1879)، (تحفة الأشراف: 1180)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/131، 182، 277) (صحیح)
22: بَابُ : إِذَا شَرِبَ أَعْطَى الأَيْمَنَ فَالأَيْمَنَ
باب: آدمی مشروب پی کر داہنی طرف والے کو دے پھر وہ اپنے داہنی طرف والے کو۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ , وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ , وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ , ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ , وَقَالَ: " الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا جس میں پانی ملا ہوا تھا ، اس وقت آپ کے دائیں جانب ایک اعرابی اور آپ کے بائیں جانب ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا ، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا : ” دائیں طرف والے کو دینا چاہیئے ، پھر وہ اپنے دائیں طرف والے کو دے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3425]
💡 وضاحت:
۱؎: حالانکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا درجہ اس اعرابی سے بہت زیادہ تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے داہنے کی رعایت مقام و مرتبت پر مقدم رکھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأشربة 14 (5612)، 18 (5619)، المساقاة 1 (2352)، الھبة 4 (2571)، صحیح مسلم/الأشربة 17 (2029)، سنن ابی داود/الأشربة 19 (3726)، سنن الترمذی/الأشربة 19 (1893)، (تحفة الأشراف: 1528)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ 9 (17)، مسند احمد (3/110، 113، 197)، سنن الدارمی/الأشربة 18 (2162) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ , وَعَنْ يَمِينِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ , وَعَنْ يَسَارِهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَسْقِيَ خَالِدًا؟" , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُوثِرَ بِسُؤْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَلَى نَفْسِي أَحَدًا , فَأَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَشَرِبَ , وَشَرِبَ خَالِدٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا ، اس وقت آپ کے دائیں جانب ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بائیں جانب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا : کیا تم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو کہ پہلے خالد کو پلاؤں ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے کے لیے اپنے اوپر کسی کو ترجیح دینا پسند نہیں کرتا ، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لیا ، اور پیا ، اور پھر خالد رضی اللہ عنہ نے پیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3426]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کم عمر بچے تھے، اور خالد رضی اللہ عنہ بڑی عمر والے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پہلے ان کو دینے کی اجازت چاہی، لیکن جب انہوں نے اجازت نہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہے کیونکہ اصولاًا ور قاعدے سے پہلے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا حق تھا، ان پر زبردستی نہیں ہو سکتی تھی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ انظر الحديث السابق طرفه (3322) ¤ وأصل الحديث متفق عليه (البخاري: 5620،مسلم: 3030) وھو يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5858، ومصباح الزجاجة: 1185)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 21 (3730)، سنن الترمذی/الدعوات 55 (3455)، مسند احمد (1/220، 225) (حسن)
23: بَابُ : التَّنَفُّسِ فِي الإِنَاءِ
باب: پانی کے برتن میں سانس لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيُنَحِّ الْإِنَاءَ , ثُمَّ لِيَعُدْ إِنْ كَانَ يُرِيدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کچھ پئے تو برتن میں سانس نہ لے ، اور اگر سانس لینا چاہے تو برتن کو منہ سے علیحدہ کر لے ، پھر اگر چاہے تو دوبارہ پئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3427]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15490، ومصباح الزجاجة: 1186) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ التَّنَفُّسِ فِي الْإِنَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے منع فرمایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3428]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأشربة 20 (3728)، سنن الترمذی/الأشربة 15 (1888)، (تحفة الأشراف: 6056)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220ھ 309، 357)، سنن الدارمی/الأشربة 27 (2180) (صحیح)
24: بَابُ : النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ
باب: مشروب میں پھونکنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُنْفَخَ فِي الْإِنَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3429]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث (3288) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
تخریج دارالدعوہ: (انظر حدیث رقم: 3288)، (تحفة الأشراف: 6149) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْفُخُ فِي الشَّرَابِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشروب میں پھونک نہیں مارتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3430]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: (أنظر حدیث رقم: 3288) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی ضعیف الحفظ ہے)
25: بَابُ : الشُّرْبِ بِالأَكُفِّ وَالْكَرْعِ
باب: پانی چلو سے پینے اور منہ لگا کر پینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْرَبَ عَلَى بُطُونِنَا وَهُوَ الْكَرْعُ , وَنَهَانَا أَنْ نَغْتَرِفَ بِالْيَدِ الْوَاحِدَةِ , وَقَالَ: " لَا يَلَغْ أَحَدُكُمْ كَمَا يَلَغُ الْكَلْبُ , وَلَا يَشْرَبْ بِالْيَدِ الْوَاحِدَةِ كَمَا يَشْرَبُ الْقَوْمُ الَّذِينَ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ , وَلَا يَشْرَبْ بِاللَّيْلِ مِنْ إِنَاءٍ حَتَّى يُحَرِّكَهُ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِنَاءً مُخَمَّرًا , وَمَنْ شَرِبَ بِيَدِهِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى إِنَاءٍ يُرِيدُ التَّوَاضُعَ , كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِعَدَدِ أَصَابِعِهِ حَسَنَاتٍ , وَهُوَ إِنَاءُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام إِذْ طَرَحَ الْقَدَحَ , فَقَالَ , أُفٍّ هَذَا مَعَ الدُّنْيَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اوندھے منہ پیٹ کے بل لیٹ کر پینے سے منع فرمایا ہے ، اور یہی «کرع» ہے ، اور ہمیں اس بات سے بھی منع فرمایا کہ ایک ہاتھ سے چلو لیں ، اور ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی کتے کی طرح برتن میں منہ نہ ڈالے ، اور نہ ایک ہاتھ سے پئے ، جیسا کہ وہ لوگ پیا کرتے تھے جن سے اللہ ناراض ہوا ، رات میں برتن کو ہلائے بغیر اس میں سے نہ پئے مگر یہ کہ وہ ڈھکا ہوا ہو ، اور جو شخص محض عاجزی و انکساری کی وجہ سے اپنے ہاتھ سے پانی پیتا ہے حالانکہ وہ برتن سے پینے کی استطاعت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی انگلیوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے ، یہی عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا برتن تھا جب انہوں نے یہ کہہ کر پیالہ پھینک دیا : اف ! یہ بھی دنیا کا سامان ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3431]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ زياد: مجهول (تقريب: 2088) وبقية عنعن ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7433، ومصباح الزجاجة: 1187) (ضعیف) (سند میں بقیہ بن ولید مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز مسلم بن عبد اللہ مجہول راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ فَاسْقِنَا , وَإِلَّا كَرَعْنَا" , قَالَ: عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ , فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ إِلَى الْعَرِيشِ , فَحَلَبَ لَهُ شَاةً عَلَى مَاءٍ بَاتَ فِي شَنٍّ فَشَرِبَ , ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ بِصَاحِبِهِ الَّذِي مَعَهُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک شخص کے پاس تشریف لے گئے ، وہ اپنے باغ میں پانی دے رہا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” اگر تمہارے پاس مشک میں باسی پانی ہو تو ہمیں پلاؤ ، ورنہ ہم بہتے پانی میں منہ لگا کر پئیں گے ، اس نے جواب دیا : میرے پاس مشک میں باسی پانی ہے ، چنانچہ وہ اور اس کے ساتھ ساتھ ہم چھپر کی طرف گئے ، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر بکری کا دودھ دوھ کر اس باسی پانی میں ملایا جو مشک میں رکھا ہوا تھا ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا ، پھر اس نے ایسا ہی آپ کے ساتھ موجود صحابی کے ساتھ کیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3432]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ساتھ والے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأشربة 20 (5613)، سنن ابی داود/الأشربة 18 (3724)، (تحفة الأشراف: 2250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/328، 343، 344، 342)، 355، سنن الدارمی/الأشربة 22 (2169) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: مَرَرْنَا عَلَى بِرْكَةٍ فَجَعَلْنَا نَكْرَعُ فِيهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَكْرَعُوا , وَلَكِنْ اغْسِلُوا أَيْدِيَكُمْ , ثُمَّ اشْرَبُوا فِيهَا , فَإِنَّهُ لَيْسَ إِنَاءٌ أَطْيَبَ مِنَ الْيَدِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک حوض کے پاس سے ہمارا گزر ہوا تو ہم منہ لگا کے پانی پینے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” منہ لگا کر پانی نہ پیو ، بلکہ اپنے ہاتھوں کو دھو لو پھر ان سے پیو ، اس لیے کہ ہاتھ سے زیادہ پاکیزہ کوئی برتن نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3433]
💡 وضاحت:
۱؎: «کرع» : منہ سے پینا، اس میں ایک عیب یہ بھی ہے کہ اکثر کوڑا کرکٹ یا کیڑا مکوڑا بھی پانی کے ساتھ منہ میں چلا جاتا ہے، اور ہاتھ سے پینے میں یہ بات نہیں ہوتی آدمی پانی کو ہاتھ میں لے کر دیکھ لیتا ہے، پھر اس کو پیتا ہے، حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ اگر یہ روایت محفوظ ہو تو نہی تنزیہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ليث بن أبي سليم: ضعيف مدلس و عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7074، ومصباح الزجاجة: 1188) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف اور سعید بن عامر مجہول راوی ہے)
26: بَابُ : سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا
باب: ساقی (پلانے والا) سب سے آخر میں پیئے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ , وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ أَبِي قَتَادَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قوم کا ساقی ( پلانے والا ) سب سے آخر میں پیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3434]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأشربة 20 (1894)، (تحفة الأشراف: 12086)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 55 (681)، مسند احمد (5/303)، سنن الدارمی/الأشربة 28 (2181) (صحیح)
27: بَابُ : الشُّرْبِ فِي الزُّجَاجِ
باب: شیشے کے برتن میں پینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَحٌ مِنْ قَوَارِيرَ يَشْرَبُ فِيهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شیشے کا ایک پیالہ تھا جس میں آپ پیتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3435]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن إسحاق عنعن ¤ ومندل: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5857، ومصباح الزجاجة: 1189) (ضعیف) (سند میں مندل بن علی ضعیف اور ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
← پچھلی کتاب #33 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #35 →