📖 سنن ابن ماجه (Sunan Ibn Majah) • تمام کتب ↗

كتاب الطب

کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل

کتاب #35 • کل احادیث: 118
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً
باب: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَهِشَامُ ابْنُ عَمَّارٍ , قَالَا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ , قَالَ: شَهِدْتُ الْأَعْرَابَ يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ لَهُمْ: " عِبَادَ اللَّهِ ,وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا , فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ أَنْ لَا نَتَدَاوَى؟ قَالَ: " تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ , فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ مَعَهُ شِفَاءً , إِلَّا الْهَرَمَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ؟ قَالَ: " خُلُقٌ حَسَنٌ".
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اعرابیوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے دیکھا کہ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے ؟ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے بندو ! ان میں سے کسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے گناہ نہیں رکھا سوائے اس کے کہ کوئی اپنے بھائی کی عزت سے کچھ بھی کھیلے ، تو دراصل یہی گناہ ہے “ ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر ہم دوا علاج نہ کریں تو اس میں بھی گناہ ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے بندو ! دوا علاج کرو ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا مرض نہیں بنایا جس کی شفاء اس کے ساتھ نہ بنائی ہو سوائے بڑھاپے کے “ ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بندے کو جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان میں سے سب بہتر چیز کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اخلاق “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3436]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 127، ومصباح الزجاجة: 127)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 1 (3855)، سنن الترمذی/الطب 2 (2038)، مسند احمد (4/278) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ ابْنِ أَبِي خِزَامَةَ , عَنْ أَبِي خِزَامَةَ , قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أَدْوِيَةً نَتَدَاوَى بِهَا , وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا , وَتُقًى نَتَّقِيهَا , هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا , قَالَ: " هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ".
ابوخزامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : بتائیے ان دواؤں کے بارے میں جن سے ہم علاج کرتے ہیں ، ان منتروں کے بارے میں جن سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں ، اور ان بچاؤ کی چیزوں کے بارے میں جن سے ہم بچاؤ کرتے ہیں ، کیا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو کچھ بدل سکتی ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں شامل ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3437]
💡 وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ، کیا عمدہ جواب دیا کہ سوال کرنے والے کو اب کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں رہی، مطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کا یہ ہے کہ سپر یا ڈھال رکھنا یا دوا یا علاج کرنا تقدیر الہی کے خلاف نہیں ہے، جو فعل دنیا میں واقع ہو وہی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں تھا، پس انسان کے لیے ضروری ہے کہ تدبیر اور علاج میں کوتاہی نہ کرے، ہو گا تو وہی جو تقدیر میں ہے، اسی طرح جو کوئی علاج نہ کرے، تو سمجھنا چاہئے کہ اس کی تقدیر میں یہی ہے، غرض اللہ تعالی کی تقدیر بندے کو معلوم نہیں ہو سکتی جب کوئی فعل بندے سے ظاہر ہو جاتا ہے اس وقت تقدیر معلوم ہوتی ہے، حدیث میں «وتقى نتقيها» سے پرہیز مراد ہے جو بعض بیماریوں میں بعض کھانوں سے پرہیز کرتے ہیں، اور اس حدیث میں یہی معنی زیادہ مناسب ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2065) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 21 (2065)، (تحفة الأشراف: 11898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/421) (ضعیف) (تراجع الألبانی: رقم: 345)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً , إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا نہ اتاری ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3438]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ بیماری اور علاج دونوں اللہ کی طرف سے اترتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9333، ومصباح الزجاجة: 1191)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/77، 413، 443، 446، 453) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , حَدَّثَنَا عَطَاءٌ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً , إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3439]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر بیماری کی دوا ہے پھر جب وہ دوا جسم میں پہنچتی ہے تو بیمار اللہ تعالی کے حکم سے اچھا ہو جاتا ہے، یہ کہنا کہ دوا کی تاثیر سے صحت ہوئی شرک ہے، اور اگر یہ سمجھ کر دوا کھائے کہ اللہ تعالی کے حکم سے یہ موثر ہوتی ہے تو شرک نہیں ہے، اسی طرح ہر چیز کے بارے میں اعتقاد رکھنا چاہئے کہ اس کا نفع اور نقصان اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے، اور جو کوئی نفع و نقصان کے بارے میں یہ اعتقاد رکھ کر کہے کہ فلاں چیز سے نفع ہوا یعنی اللہ کے حکم سے تو وہ شرک نہ ہو گا، اور جب اس چیز کو مستقل نفع بخش سمجھے گا تو وہ شرک ہو جائے گا، مشرکین یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعض اپنے مقبول بندوں کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ جو چاہیں کریں، اب وہ جس کو چاہیں اپنے اختیار سے نفع پہنچاتے ہیں، اور اللہ تعالی کا حکم ہر معاملہ میں نہیں لیتے یہ اعتقاد شرک ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 1 (5678)، (تحفة الأشراف: 14197) (صحیح)
2: بَابُ : الْمَرِيضِ يَشْتَهِي الشَّيْءَ
باب: مریض اگر کسی چیز کی خواہش کرے تو کیا کیا جائے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا , فَقَالَ لَهُ: " مَا تَشْتَهِي؟" , فَقَالَ: أَشْتَهِي خُبْز بُرٍّ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ , فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ" , ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أَحَدِكُمْ شَيْئًا فَلْيُطْعِمْهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی عیادت فرمائی ، اور اس سے پوچھا : ” تمہارا کیا کھانے کا جی چاہتا ہے “ ؟ تو اس نے جواب دیا کہ گیہوں کی روٹی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جس کے پاس گیہوں کی روٹی ہو ، وہ اپنے بھائی کے پاس بھیجے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی مریض کسی چیز کی خواہش کرے تو وہ اسے کھلائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3440]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (1439) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
تخریج دارالدعوہ: أنظر حدیث رقم: 1439، (تحفة الأشراف: 6224، ومصباح الزجاجة: 1192) (ضعیف) (سند میں صفوان بن ھبیرہ لین الحدیث راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ , قَالَ: " أَتَشْتَهِي شَيْئًا؟" , قَالَ: أَشْتَهِي كَعْكًا , قَالَ: " نَعَمْ , فَطَلَبُوا لَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے ، اور اس سے پوچھا : ” کیا تمہارا جی کسی چیز کی خواہش رکھتا ہے “ ؟ جواب دیا : میرا جی کیک ( کھانے کو ) چاہتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھیک ہے ، پھر صحابہ نے اس کے لیے کیک منگوایا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3441]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (1440) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1440 (مصباح الزجاجة: 1193) (ضعیف) (سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہیں)
3: بَابُ : الْحِمْيَةِ
باب: (کھانے پینے میں) پرہیز اور احتیاط کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , وَأَبُو دَاوُدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ , عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ , وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ مِنْ مَرَضٍ وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهَا , فَتَنَاوَلَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," مَهْ يَا عَلِيُّ إِنَّكَ نَاقِهٌ" , قَالَتْ: فَصَنَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلْقًا وَشَعِيرًا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَلِيُّ مِنْ هَذَا فَأَصِبْ , فَإِنَّهُ أَنْفَعُ لَكَ".
ام المنذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ کے ساتھ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، وہ اس وقت ایک بیماری کی وجہ سے کمزور ہو گئے تھے ، ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھا رہے تھے ، تو علی رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے کھانے کے لیے لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی ٹھہرو ! تم بیماری سے کمزور ہو گئے ہو ، ام منذر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چقندر اور جو پکائے ، تو آپ نے فرمایا : ” علی ! اس میں سے کھاؤ ، یہ تمہارے لیے مفید ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3442]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پرہیز کرنا چاہئے، ایک دوسرے حدیث میں پرہیز و احتیاط کو ہر علاج کا راز بتایا گیا ہے، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ پرہیزی سے اللہ کے حکم سے دوا کی تاثیر میں اضافہ ہوتا ہے، جب کہ بدپرہیزی دواؤں کی تاثیر کو معطل کر کے جسم میں دوسری خرابیاں پیدا کر دیتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطب 2 (3856)، سنن الترمذی/الطب 1 (2037)، (تحفة الأشراف: 18362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/363، 364) (حسن) (سند میں فلیح بن سلیمان ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 59)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ مِنْ وَلَدِ صُهَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبٍ , قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ خُبْزٌ وَتَمْرٌ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْنُ فَكُلْ" , فَأَخَذْتُ آكُلُ مِنَ التَّمْرِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَأْكُلُ تَمْرًا وَبِكَ رَمَدٌ؟" , قَالَ: فَقُلْتُ إِنِّي أَمْضُغُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى , فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ کے سامنے روٹی اور کھجور رکھی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب آؤ اور کھاؤ “ ، میں کھجوریں کھانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کھجور کھا رہے ہو حالانکہ تمہاری آنکھ آئی ہوئی ہے “ ، میں نے عرض کیا : میں دوسری جانب سے چبا رہا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3443]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4964، ومصباح الزجاجة: 1194)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/61) (حسن)
4: بَابُ : لاَ تُكْرِهُوا الْمَرِيضَ عَلَى الطَّعَامِ
باب: مریض کو کھانے پر مجبور نہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ , فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے مریضوں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کرو ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا اور پلاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3444]
💡 وضاحت:
۱؎: کھانے پینے کا مقصد یہی ہے کہ روح کا تعلق جسم سے باقی رہے، اور آدمی کو تسلی اور سکون حاصل ہو، چونکہ اللہ تعالیٰ سب کا محافظ اور سب کا رازق ہے، اس لیے وہ بیماروں کی دوسری طرح خبر گیری کرتا ہے کہ ان کو غذا کی ضرورت نہیں پڑتی، بس جب وہ اپنی خوشی سے کھانا چاہیں ان کو کھلاؤ زبردستی مت کرو، اور جو غذا زبردستی سے کھائی جائے، اس سے فائدہ کے بجائے نقصان ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2040) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 4 (2040)، (تحفة الأشراف: 9943، ومصباح الزجاجة: 1195) (حسن) (سند میں بکر بن یونس ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 727)
5: بَابُ : التَّلْبِينَةِ
باب: حریرہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ أَهْلَهُ الْوَعْكُ أَمَرَ بِالْحَسَاءِ , قَالَتْ: وَكَانَ يَقُولُ: " إِنَّهُ لَيَرْتُو فُؤَادَ الْحَزِينِ , وَيَسْرُو عَنْ فُؤَادِ السَّقِيمِ , كَمَا تَسْرُو إِحْدَاكُنَّ الْوَسَخَ عَنْ وَجْهِهَا بِالْمَاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو جب بخار آتا تو آپ حریرہ کھانے کا حکم دیتے ، اور فرماتے : ” یہ غمگین کے دل کو سنبھالتا ہے ، اور بیمار کے دل سے اسی طرح رنج و غم دور کر دیتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے چہرے سے میل کو پانی سے دور کر دیتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3445]
💡 وضاحت:
۱ ؎: حسا یعنی حریرہ آٹا، پانی، گھی یا تیل وغیرہ سے بنایا جاتا ہے، اس میں کبھی میٹھا بھی ڈالتے ہیں، اور کبھی شہد اور کبھی آٹے کے بدلے میں آٹے کا چھان ڈالتے ہیں، اس کو تلبینہ کہتے ہیں، اردو میں حریرہ مشہور ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 3 (2039)، (تحفة الأشراف: 17990)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/32) (ضعیف) (سند میں ام محمد بن سائب ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ , عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ , يُقَالَ لَهَا كُلْثُمٌ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْبَغِيضِ النَّافِعِ التَّلْبِينَةِ" , يَعْنِي: الْحَسَاءَ , قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ , لَمْ تَزَلِ الْبُرْمَةُ عَلَى النَّارِ , حَتَّى يَنْتَهِيَ أَحَدُ طَرَفَيْهِ , يَعْنِي: يَبْرَأُ أَوْ يَمُوتُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایک ایسی چیز کو لازماً کھاؤ جس کو دل نہیں چاہتا ، لیکن وہ نفع بخش ہے یعنی حریرہ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو ہانڈی برابر چولھے پر چڑھی رہتی یعنی حریرہ تیار رہتا یہاں تک کہ دو میں سے کوئی ایک بات ہوتی یعنی یا تو وہ شفاء یاب ہو جاتا یا انتقال کر جاتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3446]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17987، ومصباح الزجاجة: 1196)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/79، 138، 152، 242) (ضعیف) (سند میں ام کلثم غیر معروف راوی ہیں)
6: بَابُ : الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ
باب: کلونجی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيَّانِ , قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ" , وَالسَّامُ الْمَوْتُ , وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے ، سوائے «سام» کے ، اور «سام» موت ہے ، اور کالا دانہ «شونیز» یعنی کلونجی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3447]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 7 (5688)، صحیح مسلم/السلام 29 (2215)، (تحفة الأشراف: 13210)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطب 5 (2041)، مسند احمد (2/423، 6/146) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ , فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کالے دانے کا استعمال پابندی سے کرو اس لیے کہ اس میں سوائے موت کے ہر مرض کا علاج ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3448]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6772، ومصباح الزجاجة: 1197) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: خَرَجْنَا وَمَعَنَا غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ فَمَرِضَ فِي الطَّرِيقِ , فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ , فَعَادَهُ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ , وَقَالَ لَنَا: عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ , فَخُذُوا مِنْهَا خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَاسْحَقُوهَا , ثُمَّ اقْطُرُوهَا فِي أَنْفِهِ بِقَطَرَاتِ زَيْتٍ فِي هَذَا الْجَانِبِ , وَفِي هَذَا الْجَانِبِ , فَإِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُمْ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ السَّامُ" , قُلْتُ: وَمَا السَّامُ؟ قَالَ: " الْمَوْتُ".
خالد بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سفر پر نکلے ، ہمارے ساتھ غالب بن ابجر بھی تھے ، وہ راستے میں بیمار پڑ گئے ، پھر ہم مدینہ آئے ، ابھی وہ بیمار ہی تھے ، تو ان کی عیادت کے لیے ابن ابی عتیق آئے ، اور ہم سے کہا : تم اس کالے دانے کا استعمال اپنے اوپر لازم کر لو ، تم اس کے پانچ یا سات دانے لو ، انہیں پیس لو پھر زیتون کے تیل میں ملا کر چند قطرے ان کی ناک میں ڈالو ، اس نتھنے میں بھی اور اس نتھنے میں بھی ، اس لیے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کالے دانے یعنی کلونجی میں ہر مرض کا علاج ہے ، سوائے اس کے کہ وہ «سام» ہو “ ، میں نے عرض کیا کہ «سام» کیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موت “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3449]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 7 (5687)، (تحفة الأشراف: 16268)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/138) (صحیح)
7: بَابُ : الْعَسَلِ
باب: شہد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ الْقُرَشِيُّ , حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَاشِمِيُّ , عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَالِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَعِقَ الْعَسَلَ ثَلَاثَ غَدَوَاتٍ كُلَّ شَهْرٍ , لَمْ يُصِبْهُ عَظِيمٌ مِنَ الْبَلَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ہر ماہ تین روز صبح کے وقت شہد چاٹ لیا کرے ، وہ کسی بڑی آفت بیماری سے دو چار نہ ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3450]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الزبير بن سعيد: لين الحديث،و عبد الحميد:مجهول (تقريب: 1995،3761) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13588، ومصباح الزجاجة: 1198) (ضعیف) (سند میں عبد الحمید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے، عبد الحمید مجہول بھی ہیں، اور سند میں زبیر ہاشمی بھی لین الحدیث ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ , حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: " أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَسَلٌ , فَقَسَمَ بَيْنَنَا لُعْقَةً لُعْقَةً فَأَخَذْتُ لُعْقَتِي , ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَزْدَادُ أُخْرَى , قَالَ: نَعَمْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شہد ہدیہ میں آیا تو آپ نے تھوڑا تھوڑا ہم سب کے درمیان تقسیم فرمایا ، مجھے اپنا حصہ ملا تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں مزید لے سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3451]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو حمزة إسحاق بن الربيع ضعفه الجمهور و مع ذلك قال الحافظ: ”صدوق تكلم فيه للقدر“ (تقريب: 352) ¤ وضعفه راجح والحسن عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2228، ومصباح الزجاجة: 1199) (ضعیف) (سند میں ابوحمزہ، عمر بن سہل ضعیف ہیں، اور حسن بصری کا جابر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالشِّفَاءَيْنِ: الْعَسَلِ وَالْقُرْآنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم دو شفاوؤں یعنی شہد اور قرآن کو لازم پکڑو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3452]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن ¤ وأخرج الخطيب (385/11) بإسناد ضعيف منكر عن زيد بن الحباب عن شعبة عن أبي إسحاق به! ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9526، ومصباح الزجاجة: 1200) (ضعیف) (سند میں زید بن الحباب ہیں، جو سفیان ثوری کی احادیث میں غلطیاں کرتے ہیں، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ موقوفاً ثابت ہے)
8: بَابُ : الْكَمْأَةِ وَالْعَجْوَةِ
باب: کھمبی اور عجوہ کھجور کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيَّانِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
ابو سعید خدری اور جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھمبی «منّ» میں سے ہے ، اور اس کے پانی میں آنکھوں کا علاج ، اور عجوہ ( کھجور ) جنت کا میوہ ہے اور اس میں پاگل پن اور دیوانگی کا علاج ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3453]
💡 وضاحت:
۱ ؎: «كَمْأَةُ» : جمع ہے، اس کی واحد «كمئٌ» ہے، ابن اثیر نے اس کے بارے میں کہا کہ یہ معروف چیز ہے، لیکن اردو زبان میں اس کا ترجمہ کھمبی، «ککرمتا» سے کیا جاتا ہے، صاحب فیروز اللغات لکھتے ہیں: یہ ایک قسم کی سفید نباتات جو اکثر برسات میں ازخود پیدا ہو جاتی ہے، اور اسے تل کر کھاتے ہیں، سانپ کی چھتری، جمع: کھمبیاں، کھمبیوں (۱۱۲۱)، مصباح اللغات میں «كمئٌ» کا ترجمہ یہ ہے: سانپ کی چھتری اور اس کو «شحم الأرض» کہتے ہیں، جمع: «أكمؤٌ» و «كَمْأَةُ» (۷۵۰-۷۵۱) لسان العرب میں «‏‏‏‏كمء» کی تعریف یوں ہے: یہ ایسی نبات ہے جو زمین کو پھاڑ کر ویسے ہی نکلتی ہے جیسے کہ «فُطر» یعنی زمین سے اگنے والی نبات اور مزید فرمایا: یہ بھی کہا گیا ہے کہ «كمء» مٹ میلی اور کالی سرخی مائل چیز اور سفید «فَقْعَه» ہے، اور اس کے بعد یہی حدیث ذکر فرمائی۔ اور «فُطر» نامی نبات کو مشروم بھی کہتے ہیں، ملاحظہ ہو: قاموس الغذاء والتداوی بالنبات لاحمدقدامہ: صفحہ ۴۸۹ حدیث میں وارد «كمء» سے مراد وہ پھل ہے جو زمین کے اندر آلو کی شکل میں اور اسی کی طرح پیدا ہوتا ہے، اور اس کو سعودی عرب میں «فَقْعَه» کہتے ہیں، جاڑے میں بارش کے بعد یہ پیدا ہوتا ہے، صحراء کے لوگ اس کی جائے پیدائش سے واقف ہوتے ہیں، اور اسے زمین سے نکال کر لے آتے ہیں، یہ بازارمیں بھی بھاری قیمت سے فروخت ہوتا ہے، جس کی قیمت تین سو ریال فی کلو تک پہنچ جاتی ہے، یہ آلو کی شکل کا ہوتا ہے، اس کی لذت پکا کر کھانے میں بالکل گوشت کی طرح ہوتی ہے، اس لیے اس کو زمین کے اندر اگنے والا «مَن» کہا جائے تو بیجانہ ہو گا، حدیث میں اس کو «مَن» میں شمار کیا گیا ہے، اور اس کے عرق کو آنکھ کا علاج بتایا گیا ہے، اور اس کا ذکر عجوہ کھجورکے ساتھ آیا ہے، صحیح یہی ہے کہ «کمئَہ» سے مراد سعودی عرب میں مشہور «فَقْعَه» نامی پھل ہے، جو آلو کے ہم شکل اور اسی کی طرح زمین میں پیدا ہوتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس کی تعریف یوں کی ہے: «کمئہ» ایسی نبات ہے جو تنا (ڈنٹھل) اور پتوں کے بغیر ہوتی ہے، اور یہ زمین میں بغیر بوئے پائی جاتی ہے، اور یہ عرب علاقوں میں بہت پائی جاتی ہے اور مصر و شام میں بھی پائی جاتی ہے، حافظ ابن حجرنے جو تفصیلی بتائی ہے اس کے مطابق بھی یہ وہی «فَقْعَه» ہے جس کی تشریح اوپر گزری۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباری حدیث نمبر: ۵۷۰۸) حکیم مظفر حسین اعوان نے کھمبی کی تعریف یوں کی ہے: اردو: کھمب، ہندی: کھم، سندھی: کھنبہی، انگریزی: مشروم: یہ بغیر تنا اور بغیر پتوں کے خود رو پودا ہے جو گرمی کے موسم میں بارش کے بعد پیدا ہوتا ہے، اس میں جوہر ارضی زیادہ اور جوہر مائی کم ہوتا ہے، لیکن جب یہ خشک ہو جاتی ہے تو اس کی مائیت زائل ہو جاتی ہے، اور صرف ارضیت کے باقی رہنے سے غلظت بڑھ جاتی ہے ... قابض و نفاخ ہے، بلغم اور سودا پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ امراض سوداوی اور بلغمی میں مضر ہے ...کھمب کا بڑا وصف صرف یہ ہے کہ یہ بہت لذیذ ہوتی ہے اس لیے لوگ اسے پکا کر کھاتے ہیں (کتاب المفردات: صفحہ ۳۸۶) احمد قدامہ نے لفظ «كَمْأَةُ» کے تحت جو تفاصیل ذکر کی ہیں وہ سابقہ خود رو زیر زمین آلو کی مانند پھل کی ہے، مولف نے آنکھ کے علاج سے متعلق طبی فوائد کا بھی ذکر کیا ہے، اور جدید تحقیقات کی روشنی میں اس کے اندر پائی جانے والی چیزوں کی تفصیلی بتائی ہے، اور آخر میں لکھا ہے کہ زمین میں اگنے والی ساری خود رو نباتات میں قوت باہ کو زیادہ کرنے میں یہ سب سے فائق ہے، اس میں کاربن، اکسیجن اور ہیڈروجن کے ساتھ ساتھ نائٹروجین کی بھی ایک مقدار پائی جاتی ہے، اس لیے یہ اپنی ترکیب میں گوشت کی مانند ہے، اور پکانے کے بعد اس کا مزہ بکری کے گردے کی طرح ہوتا ہے۔ (قاموس الغذاء: ۶۰۲-۶۰۴)، نیز ملاحظہ ہو: المعجم الوسیط: مادہ الکمأ۔ «ککرمتا» جسے سانپ کی چھتری بھی کہتے ہیں اورکھمبی سے بھی یہ جانا جاتا ہے، جس کی تفصیل اوپر گزری یہ ایک دوسرا خود رو چھوٹا پودا ہے جو برصغیر کے مرطوب علاقوں میں گرمی کے موسم میں بارش کے بعد اگتا ہے، خاص کر ان علاقوں میں جہاں سرکنڈا (جسے سینٹھا، نرسل، نرکل اور نئے بھی کہتے ہیں) ہوتا ہے، اور یہ زمین پر خود بخود اگتا ہے، اس کا تعلق حدیث میں وارد کھمبی سے نہیں ہے «واللہ اعلم» ۔ ۲؎: عجوہ کھجور سے دیوانگی اور پاگل پن کے علاج کا لفظ حدیث میں صحیح نہیں ہے، صحیح حدیث میں زہر کا علاج آیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: حدیث نمبر ۳۴۵۵)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ وهي شفاء من السم ق دون العجوة
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سليمان الأعمش عنعن ¤ و روي الإمام أحمد (301/2 ح 8002) من حديث شھر بن حوشب عن أبي ھريرة عن النبي ﷺ قال: ((الكمأة من المن و ماؤھا شفاء للعين والعجوة من الجنة و ماؤھا شفاء من السم)) و سنده حسن و رواه الترمذي (2068) ¤ و حسنه و يأتي (الأصل: 3455) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4308، ومصباح الزجاجة: 1202) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيَّانِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اس سند سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3453M]
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ وهي شفاء من السم ق دون العجوة
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4308، ومصباح الزجاجة: 1202) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ الْكَمْأَةَ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ , وَمَاؤُهَا شِفَاءُ الْعَيْنِ".
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھمبی «من» میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا تھا ، اور اس کے پانی میں آنکھوں کا علاج ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3454]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کھمبی اس «من» کے ہم مثل ہے جو بلا محنت و مشقت آسمان سے بنی ا سرائیل کے لیے نازل ہوتا تھا، کھمبی ایک چھوٹا سا پودا ہے جو زمین سے نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 20 (5708)، صحیح مسلم/الأشربة 28 (2049)، سنن الترمذی/الطب 22 (2067)، (تحفة الأشراف: 4465)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/187، 188) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا الْكَمْأَةَ , فَقَالُوا: هُوَ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ , فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ , وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ , وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السَّمِّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گفتگو کر رہے تھے کہ کھمبی کا ذکر آ گیا ، تو لوگوں نے کہا : وہ تو زمین کی چیچک ہے ، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھمبی «منّ» میں سے ہے ، اور عجوہ کھجور جنت کا پھل ہے ، اور اس میں زہر سے شفاء ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3455]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 22 (2068)، (تحفة الأشراف: 13496)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/301، 305، 356، 357، 421، 488، 490، 511)، سنن الدارمی/الرقاق 115 (2882) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا الْمُشْمَعِلُّ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ , حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ" , قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: حَفِظْتُ الصَّخْرَةَ مِنْ فِيهِ.
رافع بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” عجوہ کھجور اور صخرہ یعنی بیت المقدس کا پتھر جنت کی چیزیں ہیں “ ۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں : لفظ «صخرہ» میں نے ان کے منہ سے سن کر یاد کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3456]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3598، ومصباح الزجاجة: 1203)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 5/31، 65) (ضعیف) (مشعمل نے کبھی الصخرة کہا اور کبھی الشجرہ اس اضطراب کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
9: بَابُ : السَّنَا وَالسَّنُّوتِ
باب: سنا اور سنوت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ سَرْحٍ الْفِرْيَابِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُبَيِّ بْنَ أُمِّ حَرَامٍ , وَكَانَ قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَتَيْنِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " عَلَيْكُمْ بِالسَّنَى وَالسَّنُّوتِ , فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ" , قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَمَا السَّامُ؟ قَالَ: " الْمَوْتُ" , قَالَ عَمْرٌو: قَالَ ابْنُ أَبِي عَبْلَةَ: السَّنُّوتُ: الشِّبِتُّ , وقَالَ آخَرُونَ: بَلْ هُوَ الْعَسَلُ الَّذِي يَكُونُ فِي زِقَاقِ السَّمْنِ , وَهُوَ قَوْلُ الشَّاعِرِ: هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ جَارَهُمْ أَنْ يُقَرَّدَا.
ابو ابی بن ام حرام رضی اللہ عنہا ( وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھ چکے ہیں ) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” «تمسنا» اور «سنوت» ۱؎ کا استعمال لازم کر لو ، اس لیے کہ «سام» کے سوا ان میں ہر مرض کے لیے شفاء ہے “ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! «سام» کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موت “ ۔ عمرو کہتے ہیں کہ ابن ابی عبلہ نے کہا : «سنوت» : «سویے» کو کہتے ہیں ، بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ وہ شہد ہے جو گھی کی مشکوں میں ہوتا ہے ، شاعر کا یہ شعر اسی معنی میں وارد ہے ۔ «هم السمن بالسنوت لا ألس فيهم وهم يمنعون جارهم أن يقردا» وہ لوگ ملے ہوئے گھی اور شہد کی طرح ہیں ان میں خیانت نہیں ، اور وہ لوگ تو اپنے پڑوسی کو بھی دھوکا دینے سے منع کرتے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3457]
💡 وضاحت:
۱؎: «سنا» : ایک مسہل (دست لانے والی) دو ا کا نام ہے، اور «سنوت» : سویا یا بعض لوگوں کے بقول شہد کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11858، ومصباح الزجاجة: 1204) (صحیح)
10: بَابُ : الصَّلاَةُ شِفَاءٌ
باب: نماز کے شفاء ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ , وَقَالَ فِيهِ: " اشكمت درد" , يَعْنِي: تَشْتَكِي بَطْنَكَ بِالْفَارِسِيَّةِ , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَ بِهِ رَجُلٌ لِأَهْلِهِ , فَاسْتَعْدَوْا عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار دوپہر کو چلے ، میں بھی چلا ، تو میں نے نماز پڑھی پھر بیٹھ گیا ، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے فرمایا : ” «اشكمت درد» کیا پیٹ میں درد ہے “ ؟ میں نے کہا : ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اٹھو اور نماز پڑھو ، اس لیے کہ نماز میں شفاء ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3458]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ذواد: ضعيف عابد (تقريب: 1844) وتابعه الصلت بن الحجاج وعامة حديثه مناكير (ديوان الضعفاء للذهبي: 1969) وليث بن أبي سليم: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ , وَقَالَ فِيهِ: " اشكمت درد" , يَعْنِي: تَشْتَكِي بَطْنَكَ بِالْفَارِسِيَّةِ , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَ بِهِ رَجُلٌ لِأَهْلِهِ , فَاسْتَعْدَوْا عَلَيْهِ.
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فارسی میں فرمایا ” «اشكمت درد» کیا تیرے پیٹ میں درد ہے “ ؟ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا : ایک آدمی نے یہ حدیث اپنے خاندان والوں کو سنائی تو انہوں نے ( قاضی سے ) اس کی شکایت کر دی ۔ ( حدیث کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ ہے ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3458M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
11: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ
باب: ناپاک دواؤں سے علاج کرنے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ , يَعْنِي: السُّمَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپاک ( یا حرام ) دوا سے منع فرمایا ، یعنی زہر سے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3459]
💡 وضاحت:
۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ حرام سے دوا مت کرو، اور زہر سب حرام ہے اس مقدار میں جس سے مرنے کا اندیشہ ہو، بیہقی نے کہا: اگر یہ دونوں حدیثیں صحیح ہوں، تو مراد خبیث حرام سے مسکر ہے، یعنی جس چیز میں نشہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطب 10 (3870)، سنن الترمذی/الطب 7 (2075)، (تحفة الأشراف: 14346)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/305، 446، 478) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ , فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالا ، تو وہ اسے جہنم میں بھی پیتا رہے گا جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3460]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 47 (175)، سنن الترمذی/الطب 7 (2044)، (تحفة الأشراف: 12466)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 56 (5778)، سنن ابی داود/الطب 11 (3872)، سنن النسائی/الجنائز 68 (1976)، مسند احمد (2/254، 478، 488)، سنن الدارمی/الدیات 10 (2407) (صحیح)
12: بَابُ : دَوَاءِ الْمَشْيِ
باب: دست لانے والی دوا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ , عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مَوْلًى لِمَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ , عَنْ مَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ , قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِمَاذَا كُنْتِ تَسْتَمْشِينَ؟" , قُلْتُ: بِالشُّبْرُمِ , قَالَ: " حَارٌّ جَارٌّ" , ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَى , فَقَالَ: " لَوْ كَانَ شَيْءٌ يَشْفِي مِنَ الْمَوْتِ , كَانَ السَّنَي وَالسَّنَي شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ".
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : ” تم مسہل کس چیز کا لیتی تھی “ ؟ میں نے عرض کیا : «شبرم» سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو بہت گرم ہے “ ، پھر میں «سنا» کا مسہل لینے لگی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر کوئی چیز موت سے نجات دے سکتی تو وہ «سنا» ہوتی ، «سنا» ہر قسم کی جان لیوا امراض سے شفاء دیتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3461]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک گرم اور سخت قسم کا چنے کے برابر دانہ ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مولي لمعمر التيمي ھو عتبة بن عبد اللّٰه ومن طريقه أخرجه الترمذي (2081) وفي سماعه من أسماء نظر وللحديث طريق آخر ضعيف عند الحاكم (200/4،201) فيه ابن جريج عنعن ¤ تنبيه: قوله: ”عن معمر التيمي“ وهم في جميع النسخ والصواب عدمه كما في تحفة الأشراف وغيره ومعمر ھذا لم أجد له ترجمة! ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 501
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 30 (2081)، (تحفة الأشراف: 15759)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/369) (ضعیف) (زرعہ بن عبد الرحمن مجہول اورمولی معمر مبہم راوی ہیں)
13: بَابُ : دَوَاءِ الْعُذْرَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْغَمْزِ
باب: حلق کے ورم کی دوا کا بیان اور حلق دبانے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِنَحْوِهِ , قَالَ يُونُسُ: أَعْلَقْتُ يَعْنِي: غَمَزْتُ.
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اور اس سے پہلے میں نے «عذرہ» ۱؎ ( ورم حلق ) کی شکایت سے اس کا حلق دبایا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” آخر کیوں تم لوگ اپنے بچوں کے حلق دباتی ہو ؟ تم یہ عود ہندی اپنے لیے لازم کر لو ، اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے ، اگر «عذرہ» ۱؎ ( ورم حلق ) کی شکایت ہو تو اس کو ناک ٹپکایا جائے ، اور اگر «ذات الجنب» ۲؎ ( نمونیہ ) کی شکایت ہو تو اسے منہ سے پلایا جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3462]
💡 وضاحت:
۱؎: «عذرہ» : ایک ورم ہے حلق میں بچوں کو اکثر ہو جاتا ہے، عورتیں دبا کر انگلی سے اس کا علاج کرتی ہیں۔
۲؎: «ذات الجنب» : ایک بیماری ہے جسے نمونیہ کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِنَحْوِهِ , قَالَ يُونُسُ: أَعْلَقْتُ يَعْنِي: غَمَزْتُ.
اس سند سے بھی ام قیس رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت مرفوعاً وارد ہے ، یونس کہتے ہیں : «أعلقت» کے معنی ہیں «غمزت» یعنی میں نے دبایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3462M]
تخریج دارالدعوہ: t
14: بَابُ : دَوَاءِ عِرْقِ النَّسَا
باب: عرق النسا کی دوا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " شِفَاءُ عِرْقِ النَّسَا , أَلْيَةُ شَاةٍ أَعْرَابِيَّةٍ تُذَابُ , ثُمَّ تُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ , ثُمَّ يُشْرَبُ عَلَى الرِّيقِ فِي كُلِّ يَوْمٍ جُزْءٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” «عرق النسا» ۱؎ کا علاج یہ ہے کہ جنگلی بکری کی ( چربی ) کی چکتی لی جائے اور اسے پگھلایا جائے ، پھر اس کے تین حصے کئے جائیں ، اور ہر حصے کو روزانہ نہار منہ پیا جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3463]
💡 وضاحت:
۱؎: «عرق النسا» ایک قسم کا درد ہے جو پیر کی ایک رگ میں ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 239، ومصباح الزجاجة: 1207)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/219) (صحیح)
15: بَابُ : دَوَاءِ الْجِرَاحَةِ
باب: زخم کے علاج کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , قَالَ: " جُرِحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ , وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ , وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ , فَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْهُ , وَعَلِيٌّ يَسْكِبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ بِالْمِجَنِّ , فَلَمَّا رَأَتْ فَاطِمَةُ أَنَّ الْمَاءَ لَا يَزِيدُ الدَّمَ إِلَّا كَثْرَةً , أَخَذَتْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهَا حَتَّى إِذَا صَارَ رَمَادًا أَلْزَمَتْهُ الْجُرْحَ , فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن زخمی ہو گئے ، آپ کے سامنے کا ایک دانت ٹوٹ گیا ، اور خود ٹوٹ کر آپ کے سر میں گھس گیا تو فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کا خون دھو رہی تھیں اور علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی لا لا کر ڈال رہے تھے ، جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی کی وجہ سے خون بجائے رکنے کے بڑھتا ہی جاتا ہے تو چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا ، جب وہ راکھ ہو گیا تو اسے زخم میں بھر دیا ، اور اس طرح خون رک گیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3464]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 73 (243)، الجہاد 85 (2911)، الطب/27 (5722)، صحیح مسلم/الجہاد 37 (1790)، سنن الترمذی/الطب 34 (2085)، (تحفة الأشراف: 4706) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ يَوْمَ أُحُدٍ مَنْ جَرَحَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَنْ كَانَ يُرْقِئُ الْكَلْمَ مِنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُدَاوِيهِ , وَمَنْ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ وَبِمَا دُووِيَ بِهِ الْكَلْمُ حَتَّى رَقَأَ , قَالَ: أَمَّا مَنْ كَانَ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ فَعَلِيٌّ , وَأَمَّا مَنْ كَانَ يُدَاوِي الْكَلْمَ فَفَاطِمَةُ , أَحْرَقَتْ لَهُ حِينَ لَمْ يَرْقَأْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ خَلَقٍ , فَوَضَعَتْ رَمَادَهُ عَلَيْهِ فَرَقَأَ الْكَلْمُ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ غزوہ احد کے دن کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو زخمی کیا تھا ؟ اور کون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے زخموں کو دھو رہا تھا ، اور ان کا علاج کر رہا تھا ؟ کون تھا جو ڈھال میں پانی بھر کر لا رہا تھا ؟ اور کس چیز کے ذریعے آپ کے زخم کا علاج کیا گیا ، یہاں تک کہ خون تھما ، ڈھال میں پانی بھر کر لانے والے علی رضی اللہ عنہ تھے ، زخموں کا علاج کرنے والی فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں ، جب خون نہیں رکا تو انہوں نے پرانی چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا ، اور اس کی راکھ زخم پر لگا دی ، اس طرح زخم سے خون کا بہنا بند ہوا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3465]
💡 وضاحت:
۱؎: مشہور یہ ہے کہ عبد اللہ بن قمیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کیا، اور بعضوں نے کہا کہ چار ملعون کافروں (یعنی عبداللہ بن قمیہ اور عتبہ بن ابی وقاص اور عبد اللہ بن شہاب زہری، اور ابی بن خلف) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا عہد کیا تھا، امام نووی تہذیب الأسماء واللغات میں کہتے ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص وہی ہے جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی کیا، اور احد کے دن آپ کا دانت توڑا میں نہیں جانتا کہ وہ مسلمان ہوا ہو، اور نہ آگے اس کو صحابہ میں ذکر کیا، اور بعضوں نے کہا وہ کافر مرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد المھيمن بن عباس ضعيف ¤ و الحديث السابق (الأصل: 3464) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4803) (صحیح) (سند میں عبدالمہیمن ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
16: بَابُ : مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ
باب: طب نہ جانتے ہوئے علاج معالجہ کرنے والے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَطَبَّبَ , وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ , فَهُوَ ضَامِنٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص علاج کرنے لگے حالانکہ اس سے پہلے اس کے طبیب ہونے کا کسی کو علم نہیں تھا ، تو وہ ضامن ( ذمہ دار ) ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3466]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر جان جاتی رہی تو اس کو آدھی دیت دینی ہو گی، اور جو کوئی عضو بیکار ہو جائے اس کی بھی دیت دینا ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (4586) نسائي (4834) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الدیات 25 (4586)، سنن النسائی/القسامة 34 (4834)، (تحفة الأشراف: 8746) (حسن) (سند میں ابن جریج مدلس راوی ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے)
17: بَابُ : دَوَاءِ ذَاتِ الْجَنْبِ
باب: ذات الجنب کی دوا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ , قَالَ: " نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ , وَرْسًا , وَقُسْطًا , وَزَيْتًا يُلَدُّ بِهِ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ذات الجنب» کے علاج کے لیے یہ نسخہ بتایا کہ «ورس» اور «قسط» ( عود ہندی ) کو زیتون کے تیل میں ملا کر منہ میں ڈال دیا جائے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3467]
💡 وضاحت:
۱؎: «ذات الجنب» : یعنی الوہ ایک ورم ہے جو پسلی میں ہوتا ہے، اور یہ مرض بہت سخت ہے جس سے اکثر موت ہو جاتی ہے۔ «ورس» : ایک زرد رنگ کی خوشبو دار گھاس، ان تینوں دواؤں کو ملا کر منہ میں ایک طرف ڈال دئیے جائیں، «لدود» اس دوا کو کہتے ہیں، جو بیمار کے منہ میں لگائی جائے تاکہ پیٹ میں چلی جائے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2078) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 28 (2078، 2079)، (تحفة الأشراف: 3684)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/369، 372)، (ضعیف) (عبدالرحمن بن میمون اور ان کے والد میمون دونوں ضعیف راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا يُونُسُ , وَابْنُ سَمْعَانَ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي: بِهِ الْكُسْتَ , فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ" , قَالَ ابْنُ سَمْعَانَ فِي الْحَدِيثِ: " فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنْ سَبْعَةِ أَدْوَاءٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے «عود ہندی» کا استعمال لازمی ہے «کست» کا اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے ، ان میں ایک «ذات الجنب» بھی ہے “ ۔ ابن سمعان کے الفاظ اس حدیث میں یہ ہیں : «فإن فيه شفاء من سبعة أدواء منها ذات الجنب» ” اس میں سات امراض کا علاج ہے ، ان میں سے ایک مرض «ذات الجنب» ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3468]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 21 (5713)، صحیح مسلم/السلام 28 (2214)، سنن ابی داود/الطب 13 (3877)، (تحفة الأشراف: 18343)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/355، 356) (صحیح)
18: بَابُ : الْحُمَّى
باب: بخار کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: ذُكِرَتِ الْحُمَّى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّهَا رَجُلٌ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبَّهَا , فَإِنَّهَا تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بخار کا ذکر آیا تو ایک شخص نے بخار کو گالی دی ( برا بھلا کہا ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے گالی نہ دو ( برا بھلا نہ کہو ) اس لیے کہ اس سے گناہ اس طرح ختم ہو جاتے ہیں جیسے آگ سے لوہے کا کچرا صاف ہو جاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3469]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ:
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12270، ومصباح الزجاجة: 1208) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 394)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ كَانَ بِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْشِرْ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا , لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخار کے ایک مریض کی عیادت کی ، آپ کے ساتھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یہ میری آگ ہے ، میں اسے اپنے مومن بندے پر اس دنیا میں اس لیے مسلط کرتا ہوں تاکہ وہ آخرت کی آگ کا بدل بن جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3470]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15439، ومصباح الزجاجة: 1209)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/440) (صحیح)
19: بَابُ : الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ
باب: بخار جہنم کی بھاپ ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ , فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بخار جہنم کی بھاپ ہے ، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3471]
💡 وضاحت:
۱؎: خود حدیث دلالت کرتی ہے کہ یہاں وہ بخار مراد ہے جو گرمی سے ہو، کیونکہ پانی سے وہی ٹھنڈا ہو گا،اور جو بخار سردی سے ہو گا اس میں تو آگ سے گرم کرنا مفید ہو گا، اور بخار جہنم کی آگ سے ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں کیونکہ دوسری حدیث میں ہے کہ گرمی اور سردی دونوں جہنم کی سانس سے ہوتی ہیں، گرمی تو اس حصہ جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہیں جو گرم انگار ہے، اور سردی اس حصے کی بھاپ سے ہے جو زمہریر ہے، اور بخار ہمیشہ یا گرمی کی وجہ سے ہوتا ہے یا سردی سے پس یہ کہنا بالکل صحیح ہوا کہ بخار جہنم کی بھاپ سے ہے کیونکہ سبب کا ایک سبب ہوتا ہے، اور علت کی علت خود علت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 26 (2210)، (تحفة الأشراف: 16987)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 28 (5725)، وبدء الخلق 10 (3263)، سنن الترمذی/الطب 25 (2074)، مسند احمد (6/50) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ , فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بخار کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3472]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 26 (2209)، (تحفة الأشراف: 7954)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 28 (5723)، بدء الخلق 10 (3264)، موطا امام مالک/العین 6 (16) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ" , فَدَخَلَ عَلَى ابْنٍ لِعَمَّارٍ , فَقَالَ: " اكْشِفِ الْبَاسَ , رَبَّ النَّاسِ , إِلَهَ النَّاسِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” بخار جہنم کی بھاپ ہے ، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمار کے ایک لڑکے کے پاس تشریف لے گئے ( وہ بیمار تھا ) اور یوں دعا فرمائی : «اكشف الباس رب الناس إله الناس» ” لوگوں کے رب ، لوگوں کے معبود ! ( اے اللہ ) تو اس بیماری کو دور فرما “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3473]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ بدء الخلق 10 (3262)، صحیح مسلم/السلام 26 (2212)، سنن الترمذی/الطب 25 (2073)، (تحفة الأشراف: 3562)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/463، 4/141)، سنن الدارمی/الرقاق 55 (2811) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالْمَرْأَةِ الْمَوْعُوكَةِ , فَتَدْعُو بِالْمَاءِ فَتَصُبُّهُ فِي جَيْبِهَا , وَتَقُولُ: إِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " ابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ" , وَقَالَ" إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس بخار کی مریضہ ایک عورت لائی جاتی تھی ، تو وہ پانی منگواتیں ، پھر اسے اس کے گریبان میں ڈالتیں ، اور کہتیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ” اسے پانی سے ٹھنڈا کرو “ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ” یہ جہنم کی بھاپ ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3474]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 28 (5724)، صحیح مسلم/السلام 26 (2211)، سنن الترمذی/الطب 25 (2074)، (تحفة الأشراف: 15744) وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 6 (15)، مسند احمد (6/346) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْحُمَّى كِيرٌ مِنْ كِيرِ جَهَنَّمَ , فَنَحُّوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بخار جہنم کی بھٹیوں میں سے ایک بھٹی ہے لہٰذا اسے ٹھنڈے پانی سے دور کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3475]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12261، ومصباح الزجاجة: 1210) (صحیح)
20: بَابُ : الْحِجَامَةِ
باب: حجامت (پچھنا لگوانے) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ , فَالْحِجَامَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جن چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر ہے تو پچھنے میں ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3476]
💡 وضاحت:
۱؎: پچھنا لگوانے کے کافی فوائد ہیں، بالخصوص جب بدن میں خون کی کثرت ہو تو یہ نہایت مفید ہوتا ہے، اور بعض امراض میں اس سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فوراً آرام ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطب 3 (3857)، (تحفة الأشراف: 10511)، وقد أخرجہ، مسند احمد (2/242، 423) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ , حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ , إِلَّا كُلُّهُمْ , يَقُولُ لِي: عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ بِالْحِجَامَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معراج کی رات میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ہوا اس نے یہی کہا : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ پچھنے کو لازم کر لیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3477]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2053) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 12 (2053)، (تحفة الأشراف: 6138)، وقد أخرجہ: (1/354) (صحیح) (سند میں عباد بن منصور صدوق اور مدلس ہیں، اور آخری عمر میں حافظہ میں تبدیلی پیدا ہو گئی تھی، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: حدیث 3479، وحدیث ابن عمر فی مسند البزار و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2263)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الْعَبْدُ الْحَجَّامُ , يَذْهَبُ بِالدَّمِ , وَيُخِفُّ الصُّلْبَ , وَيَجْلُو الْبَصَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پچھنا لگانے والا بہت بہتر شخص ہے کہ وہ خون نکال دیتا ہے ، کمر کو ہلکا اور نگاہ کو تیز کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3478]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2053) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 12 (2053)، (تحفة الأشراف: 2053) (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور صدوق اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز آخری عمر میں حافظہ میں تبدیلی آ گئی تھی، ترمذی نے حدیث کی تحسین کی ہے، اور حاکم نے تصحیح، اور ان کی موافقت ذہبی نے ایک جگہ (4؍212) کی ہے، اور دوسری جگہ نہیں (4؍410)، البانی صاحب نے اس کو ذہبی کا وہم بتایا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2036)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ , حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ , سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِمَلَإٍ , إِلَّا قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ , مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس رات معراج ہوئی میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر ہوا اس نے کہا : ” محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اپنی امت کو پچھنا لگانے کا حکم دیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3479]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ جبارة وكثير بن سليم مجروحان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1448، ومصباح الزجاجة: 1211) (صحیح) (سند میں جبارہ اور کثیر بن سلیم ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: حدیث: 3478)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ ," فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا" , وَقَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرِّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنا لگانے کی اجازت طلب کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں پچھنا لگائے ، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابوطیبہ یا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھائی تھے یا پھر نابالغ لڑکے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3480]
💡 وضاحت:
۱؎: ورنہ اجنبی مرد کو آپ پچھنے لگانے کا کیسے حکم دیتے، اگرچہ ضرورت کے وقت بیماری کے مقام کو طبیب کا دیکھنا جائز ہے بیماری کے مقام کی طرف۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 26 (2206)، سنن ابی داود/اللباس 35 (4105)، (تحفة الأشراف: 2909)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/350) (صحیح)
21: بَابُ : مَوْضِعِ الْحِجَامَةِ
باب: حجامت (پچھنا لگوانے) کی جگہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُحَيْنَةَ , يَقُولُ: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِلَحْيِ جَمَلٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَسَطَ رَأْسِهِ".
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں مقام لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3481]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 11 (1836)، الطب 14 (5698)، صحیح مسلم/الحج 11 (1203)، سنن النسائی/الحج 95 (2853)، (تحفة الأشراف: 9156)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/345)، سنن الدارمی/المناسک 20 (1861) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ سَعْدٍ الْإِسْكَافِ , عَنْ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ: " نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِجَامَةِ الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام گردن کی دونوں رگوں اور دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ پر پچھنا لگانے کا حکم لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3482]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ الأصبغ بن نباتة وسعد الأسكاف: متروكان (تقريب: 537،2241) ورميا بالرفض ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10025، ومصباح الزجاجة: 1212) (ضعیف جدا) (سند میں سوید بن سعید، سعد الاسکاف دونوں ضعیف ہیں، اور اصبغ بن نباتہ متروک ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَعَلَى الْكَاهِلِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی رگوں اور مونڈھے کے درمیان کی جگہ پچھنا لگوایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3483]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3860) ترمذي (2051) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطب 4 (3860)، سنن الترمذی/الطب 12 (2051)، (تحفة الأشراف: 1147) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ , وَيَقُولُ: " مَنْ أَهْرَاقَ مِنْهُ هَذِهِ الدِّمَاءَ , فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ لِشَيْءٍ".
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنا لگواتے اور فرماتے تھے : ” جو ان مقامات سے خون بہا دے ، تو اگر وہ کسی بیماری کا کسی چیز سے علاج نہ کرے تو اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3484]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3859) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطب 4 (3859)، (تحفة الأشراف: 12143) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1867، تراجع الألبانی: رقم: 194)۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ عَلَى جِذْعٍ , فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ" , قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلَيْهَا مِنْ وَثْءٍ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنے گھوڑے سے کھجور کے درخت کی پیڑی پر گر پڑے ، اس سے آپ کے پیر میں موچ آ گئی ۔ وکیع کہتے ہیں : مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف درد کی وجہ سے وہاں پر پچھنا لگوایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3485]
💡 وضاحت:
۱؎: «وثء» : عربی میں اس درد کو کہتے جو کسی عضو میں عضو ٹوٹنے کے بغیر پیدا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (602) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2310، ومصباح الزجاجة: 1213)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 69 (602)، الطب 5 (3863)، سنن النسائی/الحج 93 (2851)، مسند احمد (3/305، 357، 363، 382) (صحیح)
22: بَابٌ في أَيِّ الأَيَّامِ يَحْتَجِمُ
باب: کن دنوں میں پچھنا لگوایا جائے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ , عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنْ أَرَادَ الْحِجَامَةَ , فَلْيَتَحَرَّ سَبْعَةَ عَشَرَ , أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ , أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ , وَلَا يَتَبَيَّغْ بِأَحَدِكُمُ الدَّمُ فَيَقْتُلَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص پچھنا لگوانا چاہے تو ( ہجری ) مہینے کی سترہویں ، انیسویں یا اکیسویں تاریخ کو لگوائے ، اور ( کسی ایسے دن نہ لگوائے ) جب اس کا خون جوش میں ہو کہ یہ اس کے لیے موجب ہلاکت بن جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3486]
💡 وضاحت:
۱ ؎: ابوداود نے کبشہ سے روایت کی کہ ان کے باپ منگل کے دن پچھنا لگوانے کو منع کرتے تھے اور کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منگل کے دن ایک ساعت ایسی ہے جس میں خون بند نہیں ہوتا، اور منگل کا دن خون کا دن ہے، اور آگے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں آتا ہے کہ پیر اور منگل کے دن پچھنے لگواؤ، پس دونوں میں تعارض ہو گیا، اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں وہ منگل مراد ہے جو مہینے کی سترھویں تاریخ کو پڑے کیونکہ طبرانی میں معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جس نے منگل کے دن سترھویں تاریخ کو پچھنے لگوائے، وہ اس کے لئے سال بھر تک دوا ہوں گے، اور کبشہ کی حدیث میں وہ منگل مراد ہے جو سترہویں تاریخ کے سوا اور کسی تاریخ میں پڑے اور سنن ابی داود میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے جس نے پچھنے لگوائے سترھویں، یا انیسویں، یا اکیسویں کو وہ ہر بیماری سے شفا پائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ نهاس بن قھم: ضعيف ¤ وتلميذه زكريا بن ميسرة مستور،و عثمان بن مطر: ضعيف (تقريب: 2027،4519) ¤ والراوي عنه سويد بن سعيد ضعيف ¤ فالسند ظلمات ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1628، ومصباح الزجاجة: 1214)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطب 12 (2051) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 385)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ , عَنْ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: يَا نَافِعُ , قَدْ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ , فَالْتَمِسْ لِي حَجَّامًا وَاجْعَلْهُ رَفِيقًا إِنِ اسْتَطَعْتَ , وَلَا تَجْعَلْهُ شَيْخًا كَبِيرًا وَلَا صَبِيًّا صَغِيرًا , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ , وَفِيهِ شِفَاءٌ وَبَرَكَةٌ , وَتَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَفِي الْحِفْظِ , فَاحْتَجِمُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْخَمِيسِ , وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ , وَالْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ , وَيَوْمَ الْأَحَدِ تَحَرِّيًا , وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ , فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي عَافَى اللَّهُ فِيهِ أَيُّوبَ مِنَ الْبَلَاءِ , وَضَرَبَهُ بِالْبَلَاءِ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ , فَإِنَّهُ لَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ , إِلَّا يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ( اپنے غلام ) نافع سے کہا : نافع ! میرے خون میں جوش ہے ، لہٰذا کسی پچھنا لگانے والے کو میرے لیے تلاش کرو ، اور اگر ہو سکے تو کسی نرم مزاج کو لاؤ ، زیادہ بوڑھا اور کم سن بچہ نہ ہو ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” پچھنا نہار منہ لگانا بہتر ہے ، اس میں شفاء اور برکت ہے ، اس سے عقل بڑھتی ہے اور قوت حافظہ تیز ہوتی ہے ، تو جمعرات کو پچھنا لگواؤ ، اللہ برکت دے گا ، البتہ بدھ ، جمعہ ، سنیچر اور اتوار کو پچھنا لگوانے سے بچو ، اور ان دنوں کا قصد نہ کرو ، پھر سوموار ( دوشنبہ ) اور منگل کے دن پچھنا لگواؤ ، اس لیے کہ منگل وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو بیماری سے نجات دی ، اور بدھ کے دن آپ کو اس بیماری میں مبتلا کیا تھا ، چنانچہ جذام ( کوڑھ ) اور برص ( سفید داغ ) کی بیماریاں ( عام طور سے ) بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں پیدا ہوتی ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3487]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ الحسن بن أبي جعفر: ضعيف ¤ وعثمان بن مطر: ضعيف ¤ وللحديث شواهد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8421، ومصباح الزجاجة: 1215) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 474)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ نَافِعٍ , قَالَ: قَالَ بْنُ عُمَرَ: يَا نَافِعُ , تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ وَاجْعَلْهُ شَابًّا , وَلَا تَجْعَلْهُ شَيْخًا وَلَا صَبِيًّا , قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ , وَهِيَ تَزِيدُ فِي الْعَقْلِ , وَتَزِيدُ فِي الْحِفْظِ , وَتَزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا , فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا فَيَوْمَ الْخَمِيسِ عَلَى اسْمِ اللَّهِ , وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , وَيَوْمَ السَّبْتِ , وَيَوْمَ الْأَحَدِ , وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ , وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ , فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي أُصِيبَ فِيهِ أَيُّوبُ بِالْبَلَاءِ , وَمَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ , إِلَّا فِي يَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ".
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : نافع ! میرا خون جوش میں ہے ، لہٰذا کوئی پچھنا لگانے والا لاؤ ، جو جوان ہو ، ناکہ بوڑھا یا بچہ ، نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” نہار منہ پچھنا لگانا بہتر ہے ، اس سے عقل بڑھتی ہے ، حافظہ تیز ہوتا ہے ، اور یہ حافظ کے حافظے کو بڑھاتی ہے ، لہٰذا جو شخص پچھنا لگائے تو اللہ کا نام لے کر جمعرات کے دن لگائے ، جمعہ ، ہفتہ ( سنیچر ) اور اتوار کو پچھنا لگانے سے بچو ، پیر ( دوشنبہ ) اور منگل کو لگاؤ پھر چہار شنبہ ( بدھ ) سے بھی بچو ، اس لیے کہ یہی وہ دن ہے جس میں ایوب علیہ السلام بیماری سے دوچار ہوئے ، اور جذام و برص کی بیماریاں بھی بدھ کے دن یا بدھ کی رات ہی کو نمودار ہوتی ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3488]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ (ح 3489،ترمذي 2055،انظر ص 242،317) ¤ عبد اللّٰه بن عصمة:مجهول وشيخه سعيد بن ميمون: مجهول (تقريب: 3478،2402) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7667، ومصباح الزجاجة: 1216) (حسن) (سند میں عثمان و عبداللہ بن عصمہ اور سعید بن میمون مجہول ہیں، لیکن متابعات کی وجہ سے حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 766)
23: بَابُ : الْكَيِّ
باب: آگ یا لوہا سے بدن داغنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى , فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ".
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ( آگ یا لوہا سے بدن ) داغنے یا منتر ( جھاڑ پھونک ) سے علاج کیا ، وہ توکل سے بری ہو گیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3489]
💡 وضاحت:
۱؎: وہ دم (جھاڑ پھونک) ممنوع ہے جس میں شرکیہ الفاظ یا ایسے الفاظ ہوں جو معنی و مفہوم کے لحاظ سے واضح نہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 14 (2055)، (تحفة الأشراف: 11518)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/249، 251، 253) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , وَيُونُسُ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْتُ , فَمَا أَفْلَحْتُ وَلَا أَنْجَحْتُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آگ یا لوہے سے جسم ) داغنے سے منع فرمایا ، لیکن میں نے داغ لگایا ، تو نہ میں کامیاب ہوا ، اور نہ ہی میری بیماری دور ہوئی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3490]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ نہی کراہت تنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ پر محمول ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سعد بن معاذ اور اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہما کو اپنے ہاتھ سے داغا، اگر حرام ہوتا تو ایسا نہ کرتے، کراہت کی وجہ یہ ہے کہ یہ آگ کا عذاب ہے جو اللہ رب العالمین کے لیے خاص ہے، یہ عمل نہ کرنا اولیٰ و افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10809، 10814)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 7 (3865)، سنن الترمذی/الطب 10 (2049)، مسند احمد (4/427، 444، 446) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ , حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْأَفْطَسُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثٍ: شَرْبَةِ عَسَلٍ , وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ , وَكَيَّةٍ بِنَارٍ , وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الْكَيِّ , رَفَعَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شفاء تین چیزوں میں ہے : گھونٹ بھر شہد پینے میں ، پچھنا لگانے میں اور انگار سے ہلکا سا داغ دینے میں ، اور میں اپنی امت کو داغ دینے سے منع کرتا ہوں ، یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوع روایت کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3491]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 3 (5680، 5681)، (تحفة الأشراف: 5509) (صحیح)
24: بَابُ : مَنِ اكْتَوَى
باب: جو داغ لگوائے اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ , حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ , قال: سَمِعَتُ عَمِّي يَحْيَى , وَمَا أَدْرَكْتُ رَجُلًا مِنَّا بِهِ شَبِيهًا يُحَدِّثُ النَّاسَ , أَنَّ سَعْدَ بْنَ زُرَارَةَ وَهُوَ جَدُّ مُحَمَّدٍ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ , أَنَّهُ أَخَذَهُ وَجَعٌ فِي حَلْقِهِ يُقَالُ لَهُ: الذُّبْحَةُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأُبْلِغَنَّ أَوْ لَأُبْلِيَنَّ فِي أَبِي أُمَامَةَ عُذْرًا" , فَكَوَاهُ بِيَدِهِ فَمَاتَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِيتَةَ سَوْءٍ لِلْيَهُودِ , يَقُولُونَ: أَفَلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ , وَمَا أَمْلِكُ لَهُ وَلَا لِنَفْسِي شَيْئًا".
محمد بن عبدالرحمٰن بن اسعد بن زرارہ انصاری سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا یحییٰ بن اسعد بن زرارہ سے سنا ، اور ان کا کہنا ہے کہ اپنوں میں ان جیسا ” متقی و پرہیزگار “ مجھے کوئی نہیں ملا لوگوں سے بیان کرتے تھے کہ سعد بن زرارہ ۱؎ ( جو محمد بن عبدالرحمٰن کے نانا تھے ) کو ایک بار حلق کا درد ہوا ، اس درد کو «ذُبحہ» کہا جاتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ابوامامہ ( یعنی ! اسعد رضی اللہ عنہ ) کے علاج میں اخیر تک کوشش کرتا رہوں گا تاکہ کوئی عذر نہ رہے “ ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے داغ دیا ، پھر ان کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہود بری موت مریں ، اب ان کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنے ساتھی کو موت سے کیوں نہ بچا لیا ، حالانکہ نہ میں اس کی جان کا مالک تھا ، اور نہ اپنی جان کا ذرا بھی مالک ہوں “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3492]
💡 وضاحت:
۱؎: اسعد بن زرارہ یا سعد بن زرارہ اس کے لئے دیکھئے: تحفۃ الاشراف والاصابہ۔
۲؎: اسعد بن زرارہ انصار کے سردار تھے، بڑے مومن کامل تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں تک ہو سکا ان کا علاج کیا، لیکن موت میں کسی کا زرونہیں چلتا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ اختیار نہ تھا کہ کسی کی موت آئے اور وہ روک دیں، لیکن یہودیوں کو جو شروع سے بے ایمان تھے، یہ کہنے کا موقع ملا کہ اگر یہ سچے رسول ہوتے تو اپنے ساتھی سے موت کو دور کر دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا رد کیا، اور فرمایا: رسول کو اس سے کیا علاقہ؟ مجھ کو خود اپنی جان پر اختیار نہیں ہے، تو بھلا دوسرے کی جان پر کیا ہو گا، اور افسوس ہے کہ یہودی اتنا نہ سمجھے کہ اگلے تمام انبیاء و رسل جب ان کی موت آئی فوت ہو گئے بلکہ ہارون علیہ السلام جو موسیٰ کے بھائی تھے، موسیٰ کی زندگی میں فوت ہوئے اور موسیٰ علیہ السلام ان کو نہ بچا سکے،بھلا امر الٰہی کو کوئی روک سکتا ہے، ولی ہوں یا نبی، اللہ تعالی کے سامنے سب عاجز بندے اور غلام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن دون ميتة سوء
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11821، ومصباح الزجاجة: 1217)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 5 (13) (حسن) دون قولہ: '' لأبلغن ''
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: مَرِضَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ مَرَضًا ," فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَبِيبًا , فَكَوَاهُ عَلَى أَكْحَلِهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ایک بار بیمار پڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس ایک طبیب بھیجا ، اس نے ان کے ہاتھ کی رگ پر داغ دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3493]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 26 (2207)، سنن ابی داود/الطب 6 (3864)، (تحفة الأشراف: 2296)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/303، 304، 315، 371) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَوَى سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي أَكْحَلِهِ مَرَّتَيْنِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ والی رگ میں دو مرتبہ داغا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3494]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے علاج و معالجہ کے لئے اعضاء بدن کو داغنے کے سلسلہ میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں جو بظاہر باہم متعارض نظر آتی ہیں، جس کی وجہ سے اس مسئلہ میں علماء کے مابین اختلافات ہیں۔ ۱۔ بعض احادیث سے اعضاء جسم کو داغنا ثابت ہے جیسے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے زخم کو داغنے کا واقعہ۔ ۲۔ بعض میں اس سلسلہ میں آپ کی ناپسندیدگی کا ذکر ہے۔ ۳۔ بعض میں اس کے چھوڑ دینے کی تعریف کی گئی ہے۔ ۴۔ بعض احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ واضح رہے کہ جن احادیث میں اعضاء جسم کو داغنے سے علاج اور شفاء کی بات آئی ہے اس سے اس کے جواز و مشروعیت کا ثبوت ملتا ہے، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کو ناپسند کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کام ممنوع ہے، بلکہ اس کا معاملہ «ضب» کے ناپسند ہونے کی طرح ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ کھایا، لیکن یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھائی گئی، اور آپ نے اس پر سکوت اختیار کیا، اور اس کی حلت کا اقرار فرمایا، اور آپ کے «ضب» نہ کھانے کا تعلق آپ کی ذاتی ناپسندیدگی سے ہے جس کا «ضب» کی حرمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور اس کے ترک کر دینے پر پسندیدگی سے پتہ چلتا ہے کہ اعضاء جسم کو داغ کر علاج نہ کرنا زیادہ بہتر بات ہے۔ اور ممانعت کی احادیث کراہت کے قبیل سے ہیں، یا ایسی صورت سے ممانعت کی بات ہے جس کی ضرورت و حاجت نہ ہو، بلکہ بیماری کے لاحق ہونے کے خوف کی بنا پر ہو۔ اس تفصیل سے پتہ چلا کہ اعضاء جسم کے داغنے کے ذریعہ علاج بلا کراہت دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے، ایک یہ کہ اس علاج کے علاوہ اور کوئی صورت علاج کی باقی نہ ہو، بلکہ متعین طور پر اس علاج ہی کی تشخیص کی گئی ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ اعضاء جسم کا داغنا شفا اور علاج کا مستقل سبب نہیں ہے، بلکہ اس کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ ہے جو شفا دینے والا ہے، جب دوسری صورتیں علاج کی موجود ہوں تو آگ سے داغنے کا علاج مکروہ ہو گا۔ خلاصہ یہ کہ علمائے دین نے اعضاء جسم کو داغ کر اس سے علاج کے جواز کی بات کہی ہے کہ یہ بھی علاج و معالجہ کا ایک مجرب طریقہ ہے، بعض علماء نے اس اعتقاد سے صحت مند آدمی کو داغنے سے منع کیا ہے کہ وہ اس کے بعد دوبارہ بیمار نہ ہو، تو ایسی صورت حرام اور ممنوع ہے، اور دوسری علاج کی صورتیں جن میں زخم کے فساد کا علاج یا اعضاء جسم کے کٹنے کے بعد اس کے علاج کا مسئلہ ہو جائز ہے۔ یہ واضح رہے کہ زمانہ جاہلیت میں (اور آج بھی لوگوں میں یہ رواج ہے) لوگوں کا یہ اعتقاد تھا کہ صحت مند آدمی کو اس واسطے داغتے تھے کہ وہ اس کے بعد بیمار نہ ہو، اگر یہ صورت ہو تو احادیث نہی اس طرح کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں، اسلام نے اس اعتقاد کو باطل قرار دیا، اور اس بات پر زور دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی شافی و کافی ہے۔ «إذا مرضت فهو يشفين» اوپر کی وضاحت کا خلاصہ یہ ہوا کہ اعضاء جسم کے داغنے کا طریقہ علاج مختلف صورتوں میں مختلف احکام رکھتا ہے، نہ تو ہمیشہ اس کا ترک صحیح ہے، اور نہ اس علاج کا ہمیشہ اختیار کرنا ہی صحیح ہے، کبھی کراہت کے ساتھ یہ جائز ہے، کبھی یہ علاج مکروہ ہے، اور کبھی یہ حرمت کے دائرہ میں آ جاتا ہے، جواز کی صورت اس کی ضرورت کے پیش نظر ہے، بایں طور کہ علاج کی دوسری صورت باقی نہ ہو بلکہ متعین طور پر کسی بیماری میں یہی علاج موثر ہو جیسے تیزی سے جسم سے خون کے نکلنے میں داغنے کے علاوہ کوئی اس کو روکنے کی ترکیب نہ ہو، ورنہ بیمار کے مر جانے کا خدشہ ہو، اس صورت میں اس علاج کو اپنانا ضروری ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جسم سے خون نہ رکنے کی صورت میں ان کی ہلاکت کے خوف سے ان کے جسم کو داغا۔ یہ واضح رہے کہ اس علاج میں یہ اعتقاد بھی ہونا چاہئے کہ یہ ایک سبب علاج ہے، اصل شافی اللہ تعالیٰ ہے۔ کراہت کی صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ دوسرے علاج کی موجودگی میں یہ علاج کیا جائے، اس لئے کہ اس علاج میں مریض کو سخت درد بلکہ اصل مرض سے زیادہ سخت درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کراہت کی ایک صورت یہ ہے کہ بیماری آنے سے پہلے حفظان صحت کے لئے یہ طریقہ علاج اپنایا جائے، اس لئے کہ اس میں اللہ پر توکل و اعتماد میں کمی اور کمزوری آ جاتی ہے، اور مرض کے واقع ہونے سے پہلے ہی داغنے کے درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، صرف اس خدشہ سے کہ ایسا مستقبل میں ممکن ہے، آگ کا عذاب اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اس لئے اس صورت میں اس پر حرمت کا اطلاق بھی ہو سکتا ہے، داغنے کے علاج میں شفا ڈھونڈھنے میں غلو اور مبالغہ کی صورت میں آدمی حقیقی مسبب الاسباب یعنی اللہ تعالیٰ ہی کو بھول جاتا ہے، اور دنیاوی اسباب کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، اور یہ معلوم ہے کہ اسباب کی طرف توجہ و التفات توحید میں شرک ہے۔ امام ابن القیم فرماتے ہیں کہ صحیح احادیث میں علاج کا حکم ہے، جو توکل کے منافی نہیں ہے، جیسے بھوک، پیاس، سردی اور گرمی کو اس کے اضداد کے ذریعہ دور کیا جائے، بلکہ توحید کی حقیقت کا اتمام اسی وقت ہو گا جب آدمی اللہ تعالیٰ کی شریعت میں اور سنن کونیہ (کائناتی نظام) میں نتائج تک پہنچنے کے لئے جو اسباب فراہم کئے ہیں ان کو استعمال کرے، اور ان شرعی اور کونی اسباب کو معطل کر دینا دراصل نفس توکل میں قدح ہے۔ اور ایسے ہی امر الٰہی اور حکمت ربانی کا قادح اور اس میں کمزوری پیدا کرنے والا ہے کیونکہ ان اسباب کو معطل کرنے والا یہ گمان کرتا ہے کہ ان کا ترک توکل کے باب میں زیادہ قوی اور مضبوط ہے۔ پس ان اسباب کا ترک عاجزی ہے، جو اس توکل کے منافی ہے جس کی حقیقت ہی یہ ہے کہ بندہ کا دل اللہ تعالیٰ پر اپنے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں اور دینی و دنیاوی نقصانات سے دور رہنے میں اعتماد کرے۔ اس اعتماد و توکل کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسباب کو اختیار کیا جائے، ورنہ آدمی حکمت الٰہی اور شریعت کے اوامر کو معطل کرنے والا ہو گا، لہذا آدمی اپنی عاجزی کو توکل نہ بنائے، اور نہ ہی توکل کو عاجزی کا عنوان دے۔ (زاد المعاد: ۴؍۱۵) (حررہ الفریوائی)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2762، ومصباح الزجاجة: 1218)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 26 (2208)، سنن ابی داود/الطب 7 (3866)، سنن الترمذی/السیر 29 (1582)، مسند احمد (3/363)، سنن الدارمی/السیر 66 (2551) (صحیح)
25: بَابُ : الْكُحْلِ بِالإِثْمِدِ
باب: اثمد کا سرمہ لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ , فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اپنے اوپر «اثمد» ۲؎ کو لازم کر لو ، اس لیے کہ وہ بینائی تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3495]
💡 وضاحت:
۱؎: ثرمد: ایک پتھر ہے جو اصفہان (ایران) میں پایا جاتا ہے۔ اس سے تیار کردہ سرمہ بہترین اور مفید ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6771، ومصباح الزجاجة: 1219) (صحیح) (سند میں عثمان بن عبدالملک لین الحدیث ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، جب کہ باب کی احادیث میں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 724)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ عِنْدَ النَّوْمِ , فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” سوتے وقت اثمد کا سرمہ ضرور لگاؤ ، کیونکہ اس سے نظر ( نگاہ ) تیز ہوتی ہے اور بال اگتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3496]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ إسماعيل بن مسلم ضعيف ¤ و للحديث شواھد قوية دون قوله: ”عند النوم“ انظر الحديث الآتي (الأصل: 3497) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3008، ومصباح الزجاجة: 1220) (صحیح) (سند اسماعیل بن مسلم ضعیف راوی ہے، لیکن متابعت کثیرہ کی وجہ سے حدیث صحیح ہے کما تقدم)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ , يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہتر سرمہ اثمد کا ہے ، وہ نظر ( بینائی ) تیز کرتا ، اور بالوں کو اگاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3497]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/ الجنائز 18 (994)، الشمائل 51، سنن ابی داود/الطب 14 (3878)، سنن النسائی/الزینة 28 (5116)، (تحفة الأشراف: 5535)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/231، 247، 274، 328، 355، 63 3) (صحیح)
26: بَابُ : مَنِ اكْتَحَلَ وِتْرًا
باب: سرمہ طاق لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ , عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ , عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ , مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ , وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے ، اگر ایسا کرے گا تو بہتر ہو گا ، اور اگر نہ کیا تو حرج کی بات نہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3498]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (337) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطہارة 23 (35)، (تحفة الأشراف: 14938)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 1 (2)، مسند احمد (2/371، سنن الدارمی/الطہارة 5 (689) (ضعیف) (حصین حمیری اور ابوسعد الخیر دونوں مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُكْحُلَةٌ , يَكْتَحِلُ مِنْهَا ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی ، آپ اس میں سے ہر آنکھ میں تین بار سرمہ لگاتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3499]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1757) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/اللباس 23 (1757)، الطب 9 (2048)، (تحفة الأشراف: 6137)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/354) (ضعیف) (سند میں عباد بن منصور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
27: بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُتَدَاوَى بِالْخَمْرِ
باب: شراب سے علاج منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَنْبَأَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ , قَالَ: قُلْتُ: يَا َرَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا فَنَشْرَبُ مِنْهَا , قَالَ: " لَا" , فَرَاجَعْتُهُ , قُلْتُ: إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهِ لِلْمَرِيضِ , قَالَ: " إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِشِفَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ".
طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے ملک میں انگور ہیں ، کیا ہم انہیں نچوڑ کر پی لیا کریں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ ، میں نے دوبارہ عرض کیا کہ ہم اس سے مریض کا علاج کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دوا نہیں بلکہ خود بیماری ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3500]
💡 وضاحت:
۱؎: بیماری کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ ہے کہ ہر گناہ بیماری ہے، دوسرے یہ کہ شراب سے بیماری پیدا ہو تی ہے شفا نہیں ہوتی، دونوں سچ ہیں، شراب سے مسلمان کو سوائے ضرر کے کبھی فائدہ حاصل نہ ہو گا، اور بادی النظر میں جو کسی کو شراب پینے سے پہلے پہل کچھ فائدہ نظر آتا ہے، یہ فائدہ نہیں بلکہ مقدمہ ہے اس بڑے نقصان کا جو آگے چل کر پیدا ہو گا، اب تمام اطباء اتفاق کرتے جاتے ہیں کہ شراب میں نقصان ہی نقصان ہے، فائدہ موہوم ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اوپر گزری کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیث دوا سے منع کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطب 11 (3873)، (تحفة الأشراف: 4980)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/311، 5/293) (صحیح)
28: بَابُ : الاِسْتِشْفَاءِ بِالْقُرْآنِ
باب: قرآن سے شفاء حاصل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ , حَدَّثَنَا سَعَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق /a> , عَنْ الْحَارِثِ , عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الدَّوَاءِ الْقُرْآنُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہترین دوا قرآن ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3501]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث الآتي (3533) ¤ في الحديث علل منها ضعف الحارث الأعور: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10056، ومصباح الزجاجة: 1221) (ضعیف) (سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہیں)
29: بَابُ : الْحِنَّاءِ
باب: مہندی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا فَائِدٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , حَدَّثَنِي مَوْلَايَ عُبَيْدُ اللَّهِ , حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَلْمَى أُمُّ رَافِعٍ مَوْلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: كَانَ لَا يُصِيبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرْحَةٌ , وَلَا شَوْكَةٌ , إِلَّا" وَضَعَ عَلَيْهِ الْحِنَّاءَ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی سلمیٰ ام رافع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی زخم لگتا ، یا کانٹا چبھتا تو آپ اس پر مہندی لگاتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3502]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3858) ترمذي (2054) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطب 3 (3858)، سنن الترمذی/الطب 13 (2054)، (تحفة الأشراف: 15893)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/462) (حسن) (سند میں عبیداللہ لین الحدیث ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث حسن ہے)
30: بَابُ : أَبْوَالِ الإِبِلِ
باب: اونٹ کے پیشاب کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا , فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا" فَفَعَلُوا.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ آئے ، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی ، اور بیمار ہو گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیتے ( تو اچھا ہوتا ) “ ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3503]
💡 وضاحت:
۱؎: اونٹ کے پیشاب سے علاج کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مباح قرار دیا، لہذا ونٹ کے پیشاب کو شراب پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شراب کے حرام ہونے اور اونٹ کے پیشاب کے مباح ہونے کے سلسلہ میں احادیث الگ الگ وارد ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 67 (237)، الزکاة 68 (1501)، الجہاد 152 (3018)، المغازي 37 (4192، 4193)، الطب 5 (5685)، 6 (5686)، 29 (5727)، الحدود 1 (6802)، 2 (6803)، 3 (6804)، 4 (6805)، الدیات 22 (6899)، صحیح مسلم/القسامة 2 (1671)، سنن الترمذی/الحدود 3 (4364)، الأطعمة 38 (1845)، الطب 6 (2042)، سنن النسائی/الطہارة 191 (306)، (تحفة الأشراف: 728)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/161، 163، 170، 233) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2578)
31: بَابُ : الذُّبَابِ يَقَعُ فِي الإِنَاءِ
باب: برتن میں مکھی گر جائے تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " فِي أَحَدِ جَنَاحَيِ الذُّبَابِ سُمٌّ , وَفِي الْآخَرِ شِفَاءٌ , فَإِذَا وَقَعَ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فِيهِ , فَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السُّمَّ , وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاءَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہے ، اگر وہ کھانے میں گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو ، اس لیے کہ وہ زہر والا پر آگے رکھتی ہے ( اور وہی کھانے میں ڈالتی ہے ) اور شفاء والا پیچھے رکھتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3504]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الفرع والعتیرة 10 (4267)، (تحفة الأشراف: 4426، ومصباح الزجاجة: 1222)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/24، 67) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ فِيهِ , ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ , فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً , وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تمہارے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو ، پھر نکال کر پھینک دو ، اس لیے کہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفاء ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3505]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 17 (3320)، الطب 58 (5782)، سنن ابی داود/الأطعمة 49 (3844)، (تحفة الأشراف: 14126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/229، 246، 443)، سنن الدارمی/الأطعمة 12 (2081) (صحیح)
32: بَابُ : الْعَيْنِ
باب: نظر بد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى , عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْعَيْنُ حَقٌّ".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نظر کا لگنا حقیقت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3506]
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5037، ومصباح الزجاجة: 1223)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/274، 294، 2/222، 289، 319، 3/447) (صحیح متواتر)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَيْنُ حَقٌّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نظر کا لگنا حقیقت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3507]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14613)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 36 (5740)، صحیح مسلم/السلام 16 (2187)، سنن ابی داود/الطب 15 (3879)، مسند احمد (2/319) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ , فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی پناہ طلب کرو ، اس لیے کہ نظر بد حق ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3508]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو واقد صالح بن محمد بن زائدة: ضعيف ¤ والحديث السابق (الأصل: 3507) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17725، ومصباح الزجاجة: 1224) (صحیح) (سند میں ابو واقد ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہدکی بنا پر صحیح ہے، اور اصل حدیث متواتر ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ , قَالَ: مَرَّ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ , بِسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ , فَقَالَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ , فَمَا لَبِثَ أَنْ لُبِطَ بِهِ , فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ سَهْلًا صَرِيعًا , قَالَ: " مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ؟" , قَالُوا: عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ , قَالَ: " عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ , فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَةِ" , ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ , فَأَمَرَ عَامِرًا أَنْ يَتَوَضَّأَ , فَيَغْسِلْ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ , وَرُكْبَتَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ , وَأَمَرَهُ أَنْ يَصُبَّ عَلَيْهِ , قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ مَعْمَرٌ : عَنْ الزُّهْرِيِّ : وَأَمَرَهُ أَنْ يَكْفَأَ الْإِنَاءَ مِنْ خَلْفِهِ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا گزر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ ( ابوامامہ کے باپ ) کے پاس ہوا ، سہل رضی اللہ عنہ اس وقت نہا رہے تھے ، عامر نے کہا : میں نے آج کے جیسا پہلے نہیں دیکھا ، اور نہ پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی کا بدن ایسا دیکھا ، سہل رضی اللہ عنہ یہ سن کر تھوڑی ہی دیر میں چکرا کر گر پڑے ، تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا ، اور عرض کیا گیا کہ سہل کی خبر لیجئیے جو چکرا کر گر پڑے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم لوگوں کا گمان کس پر ہے “ ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ عامر بن ربیعہ پر ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کس بنیاد پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے “ ، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے جو اس کے دل کو بھا جائے تو اسے اس کے لیے برکت کی دعا کرنی چاہیئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا ، اور عامر کو حکم دیا کہ وضو کریں ، تو انہوں نے اپنا چہرہ اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک ، اور اپنے دونوں گھٹنے اور تہبند کے اندر کا حصہ دھویا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سہل رضی اللہ عنہ پر وہی پانی ڈالنے کا حکم دیا ۔ سفیان کہتے ہیں کہ معمر کی روایت میں جو انہوں نے زہری سے روایت کی ہے اس طرح ہے : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ برتن کو ان کے پیچھے سے ان پر انڈیل دیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3509]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 136، ومصباح الزجاجة: 1225)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 1 (1) مسند احمد (3/486) (صحیح)
33: بَابُ : مَنِ اسْتَرْقَى مِنَ الْعَيْنِ
باب: نظر بد لگنے پر دم کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ , قَالَ: قَالَتْ أَسْمَاءُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ , فَأَسْتَرْقِي لَهُمْ , قَالَ: " نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ , سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ".
عبید بن رفاعہ زرقی کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اللہ کے رسول ! جعفر کے بیٹوں کو نظر بد لگ جاتی ہے ، کیا میں ان کے لیے دم کر سکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اگر کوئی چیز لکھی ہوئی تقدیر پر سبقت لے جاتی تو نظر بد لے جاتی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3510]
💡 وضاحت:
۱؎: مقصد یہ ہے کہ نظر بد کا اثر نقصان دہ اور تکلیف پہنچانے والا ہوتا ہے، حتی کہ تقدیر کے خلاف اگر کوئی چیز پیش آ سکتی ہے اور وہ نقصان پہنچا سکتی ہے تو وہ نظر بد ہے، جس سے بچنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معوذتین «قُل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے جو ہر بلا اور ہر بدنظری سے بچنے کے لئے مجرب ہیں، لبید بن عاصم یہودی نے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر وہ گرہ دار بال بھی ایک اندھے کنویں سے منگوایا گیا، ایک ایک آیت ان سورتوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے جاتے تھے، اور ایک ایک گرہ کھلتی جاتی تھی، یہاں تک کہ سب گرہیں کھل گئیں، اور لبید یہودی کا سحر باطل ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 17 (2059)، (تحفة الأشراف: 15758)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/438) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَبَّادٍ , عَنْ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَعَوَّذُ مِنْ: عَيْنِ الْجَانِّ وأَعْيُنِ الْإِنْسِ , فَلَمَّا نَزَلَتِ الْمُعَوِّذَتَانِ أَخَذَهُمَا وَتَرَكَ مَا سِوَى ذَلِكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کی نظر بد سے ، پھر آدمیوں کی نظر بد سے پناہ مانگتے تھے ، پھر جب معوذتین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) نازل ہوئیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پڑھنا شروع کیا ، اور باقی تمام چیزیں چھوڑ دیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3511]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2058) نسائي (5496) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 16 (2058)، سنن النسائی/الإستعاذة 36 (5496)، (تحفة الأشراف: 4327) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , وَمِسْعَرٍ , عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر بد لگ جانے پر دم کرنے کا حکم دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3512]
💡 وضاحت:
۱؎: امام شوکانی الدرر البہیۃ میں کہتے ہیں کہ جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں، نواب صدیق حسن الرروضۃ الندیۃ میں فرماتے ہیں کہ دم کرنے (جھاڑ پھونک) میں کچھ حرج نہیں اور شرعی قواعد اس سے مانع نہیں ہیں، بشرطیکہ اس میں شرک نہ ہوں، اور بالخصوص جب وہ قرآن یا حدیث سے ہو یا ان دونوں کے مشابہ اللہ تعالیٰ سے عاجزی اور گڑگڑانے والی دعائیں تو یہ جائز ہے، اور جن احادیث میں دم (جھاڑ پھونک) تعویذ اور تِوَلہ (یعنی وہ منتر جو عورت کو اس کے شوہر کے نزدیک پسندیدہ بنا دے، اور جو جادو وغیرہ کے ذریعے سے کیا جاتا ہے) سے ممانعت ہے، وہ شرک کے مضامین پر محمول ہیں یا اسباب پر زیادہ بھروسہ کرنا، اس طرح سے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہو جائے، اور شاہ ولی اللہ دہلوی المسوی شرح الموطأ میں فرماتے ہیں کہ جھاڑ پھونک کے بارے میں احادیث کا اختلاف ہے، ان میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہو گی کہ ان کو مختلف احوال پر محمول کیا جائے گا، تو ممنوع جھاڑ پھونک وہ ہے جس میں شرک ہے، یا جس میں بدمعاش شیطانوں کا ذکر ہوتا ہے، یا جو غیرعربی زبان میں ہوتے ہیں اور جن کا معنی معلوم نہیں ہوتا، اور شاید کہ اس میں جادو یا کفر موجود ہو، اور جو دم قرآن یا اللہ کے ذکر پر مشتمل ہو، وہ مستحب ہے۔ (الروضۃ الندیۃ ۳/۱۵۸)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 35 (5738)، صحیح مسلم/السلام 21 (2195)، (تحفة الأشراف: 16199)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/63، 138) (صحیح)
34: بَابُ : مَا رُخِّصَ فِيهِ مِنَ الرُّقَى
باب: جائز دم (جھاڑ پھونک) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ بُرَيْدَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نظر بد لگنے یا ڈنک لگنے کے سوا کسی صورت میں دم کرنا درست نہیں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3513]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 94 (220)، (تحفة الأشراف: 1945) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , أَنَّ خَالِدَةَ بِنْتَ أَنَسٍ أُمَّ بَنِي حَزْمٍ السَّاعِدِيَّةَ: جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ الرُّقَى , فَأَمَرَهَا بِهَا".
ابوبکر بن محمد سے روایت ہے کہ خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، اور آپ کے سامنے کچھ منتر پیش کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3514]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15823، ومصباح الزجاجة: 1226) (ضعیف) (محمد بن عمارہ قوی نہیں ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ , آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ يَرْقُونَ مِنَ الْحُمَةِ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنِ الرُّقَى , فَأَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ قَدْ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى , وَإِنَّا نَرْقِي مِنَ الْحُمَةِ , فَقَالَ لَهُمْ: " اعْرِضُوا عَلَيَّ" , فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ , فَقَالَ: " لَا بَأْسَ بِهَذِهِ هَذِهِ مَوَاثِيقُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا آل عمرو بن حزم نامی گھرانہ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کیا کرتا تھا ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑ پھونک کرنے سے منع فرمایا تھا ، چنانچہ ان لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! آپ نے دم کرنے سے روک دیا ہے حالانکہ ہم لوگ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کرتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنا جھاڑ پھونک ( منتر ) مجھے سناؤ “ ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، یہ تو «اقرارات ہیں» ( یعنی ثابت شدہ ہیں ) “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3515]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 21 (2199)، (تحفة الأشراف: 2307)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302، 315) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَخَّصَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحُمَةِ , وَالْعَيْنِ وَالنَّمْلَةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زہریلے ڈنک ، نظر بد اور نملہ ۱؎ پر جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3516]
💡 وضاحت:
۱؎: نملہ: ایک بیماری ہے جس کے سبب پسلی میں دانے نکل آتے ہیں، اور زخم پڑ جاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 21 (2196)، سنن الترمذی/الطب 15 (2056، 2057)، (تحفة الأشراف: 1709)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 119، 127) (صحیح)
35: بَابُ : رُقْيَةِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ
باب: سانپ اور بچھو کے جھاڑ پھونک کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپ اور بچھو کے ( کاٹے پر ) دم ( جھاڑ پھونک ) کرنے کی اجازت دی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3517]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 21 (2193)، (تحفة الأشراف: 15977)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 37 (5741)، مسند احمد (6/30) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بَهْرَامَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: لَدَغَتْ عَقْرَبٌ رَجُلًا , فَلَمْ يَنَمْ لَيْلَتَهُ , فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فُلَانًا لَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ فَلَمْ يَنَمْ لَيْلَتَهُ , فَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَالَ حِينَ أَمْسَى: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ , مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ , مَا ضَرَّهُ لَدْغُ عَقْرَبٍ حَتَّى يُصْبِحَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے ، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» یعنی ” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا “ ، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3518]
💡 وضاحت:
۱؎: پھر صبح کو یہ کہہ لیتا تو شام تک کوئی کیڑا ضررنہ پہنچا سکتا سبحان اللہ کیا عمدہ موثر اور مختصر دعا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12663، ومصباح الزجاجة: 1227)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 19 (3899)، مسند احمد (2/375) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ , حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , قَالَ: " عَرَضْتُ النَّهْشَةَ مِنَ الْحَيَّةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ بِهَا".
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانپ کے ڈسے ہوئے کو پیش کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دم ( جھاڑ پھونک ) کرنے کی اجازت دے دی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3519]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو بكر لم يدرك جده (تحفة الأشراف 149/8 ح 10729) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10729، ومصباح الزجاجة: 1228) (ضعیف) (سند میں ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اور ان کے دادا کے مابین انقطاع ہے)
36: بَابُ : مَا عَوَّذَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عُوِّذَ بِهِ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (دوسروں پر) دم کی دعائیں اور آپ پر کئے جانے والے دم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي الضُّحَى , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَرِيضَ فَدَعَا لَهُ , قَالَ: " أَذْهِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ , وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي , لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے پاس آتے تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے ، اور کہتے : «أذهب الباس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ” اے لوگوں کے رب ! تو بیماری دور فرما ، اور صحت عطا کر ، تو ہی صحت عطا کرنے والا ہے ، شفاء اور صحت وہی ہے جو تو عطا کرے ، تو ایسی شفاء عطا کر کہ پھر کوئی بیماری باقی نہ رہ جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3520]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 84 (4437)، المرضی 19 (5675)، صحیح مسلم/السلام 19 (2191)، سنن الترمذی/الدعوات 77 (3496)، (تحفة الأشراف: 17638)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 15 (46) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِلْمَرِيضِ بِبُزَاقِهِ بِإِصْبَعِهِ: " بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا , لِيُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی میں تھوک لگا کر بیمار کے لیے یوں کہتے : «بسم الله بتربة أرضنا بريقة بعضنا ليشفى سقيمنا بإذن ربنا» ” اللہ کے نام سے ، ہماری زمین کی مٹی سے ، ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا مریض ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3521]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دم کو پڑھتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کلمہ شہادت کی انگلی پر تھوکتے اور اس کو مٹی سے لگا کر بیمار کے بدن پر یا بیماری کے مقام پر ملتے، اور یہ دم پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 38 (5745، 5746)، صحیح مسلم/السلام 21 (2194)، سنن ابی داود/الطب 19 (3895)، (تحفة الأشراف: 17906)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/93) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ , أَنَّهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي وَجَعٌ قَدْ كَادَ يُبْطِلُنِي , فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلْ يَدَكَ الْيُمْنَى عَلَيْهِ , وَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ , أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ" , سَبْعَ مَرَّاتٍ , فَقُلْتُ ذَلِكَ: فَشَفَانِيَ اللَّهُ.
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، مجھے ایسا درد تھا کہ لگ رہا تھا وہ مجھے ہلاک کر دے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اپنا دایاں ہاتھ اس پر رکھ کر «أعوذ بعزة الله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر» ” اللہ کے نام سے میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کی قدرت کی پناہ مانگتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس سے ڈرتا ہوں “ سات مرتبہ پڑھو “ ، میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاء عطا کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3522]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 24 (2202)، سنن ابی داود/الطب 19 (3891)، سنن الترمذی/الطب 29 (2080)، (تحفة الأشراف: 9774)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 4 (9)، مسند احمد (4/21، 217) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , أَنَّ جِبْرَائِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , اشْتَكَيْتَ؟ قَالَ: " نَعَمْ" , قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ , مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنٍ أَوْ حَاسِدٍ , اللَّهُ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اے محمد ! کیا آپ بیمار ہو گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کیا : ” ہاں “ ، جبرائیل علیہ السلام نے کہا : «بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من شر كل نفس أو عين أو حاسد الله يشفيك بسم الله أرقيك» اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں ، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے ، ہر جاندار ، نظر بند ، اور حاسد کے شر سے ، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء دے ، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3523]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 16 (2186)، سنن الترمذی/الجنائز4 (972)، (تحفة الأشراف: 4363)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/28، 56، 58، 75) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ زِيَادِ بْنِ ثُوَيْبٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي , فَقَالَ لِي: " أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ جَاءَنِي بِهَا جِبْرَائِيلُ؟ قُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي , بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ , وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ , مِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ , وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے ، تو آپ نے مجھ سے فرمایا : ” کیا میں تم پر وہ دم نہ کروں جو میرے پاس جبرائیل لے کر آئے ؟ “ ، میں نے عرض کیا : ضرور یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ پڑھا : «بسم الله أرقيك والله يشفيك من كل داء فيك من شر النفاثات في العقد ومن شر حاسد إذا حسد» ” اللہ کے نام سے میں تم پر دم کرتا ہوں ، اللہ ہی تمہیں شفاء دے گا ، تمہارے ہر مرض سے ، گرہوں پر پھونکنے والیوں کے شر سے ، اور حاسد کے حسد سے جب وہ حسد کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3524]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عاصم بن عبيد اللّٰه: ضعيف ¤ ولبعض الحديث شواهد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12901، ومصباح الزجاجة: 1229)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/446) (ضعیف) (عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ هِشَامٍ الْبَغْدَادِيُّ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ مِنْهَالٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ , يَقُولُ: " أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ , وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ" , قَالَ: " وَكَانَ أَبُونَا إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيل وَإِسْحَاق" أَوْ قَالَ: إِسْمَاعِيل وَيَعْقُوبَ , وَهَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہما ) پر دم فرماتے تو کہتے : «أعوذ بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» ” میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر شیطان سے ، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ ، بچھو وغیرہ ) اور ہر نظر بد والی آ نکھ سے “ ، اور فرماتے : ” ہمارے والد ابراہیم علیہ السلام بھی اسی کے ذریعہ اسماعیل و اسحاق علیہما السلام پر دم فرماتے تھے “ یا کہا : ” اسماعیل اور یعقوب علیہما السلام پر “ ۔ یہ حدیث وکیع کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3525]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأنبیاء 10 (3371)، سنن ابی داود/السنة 22 (4737)، سنن الترمذی/الطب 18 (2060)، (تحفة الأشراف: 5627)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/236، 270) (صحیح)
37: بَابُ : مَا يُعَوَّذُ بِهِ مِنَ الْحُمَّى
باب: بخار میں پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْأَشْهَلِيُّ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ مِنَ الْحُمَّى , وَمِنَ الْأَوْجَاعِ كُلِّهَا , أَنْ يَقُولُوا: " بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ , أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ , وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ" , قَالَ أَبُو عَامِرٍ: أَنَا أُخَالِفُ النَّاسَ فِي هَذَا أَقُولُ: يَعَّارٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بخار اور ہر طرح کے درد کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھاتے کہ اس طرح کہیں : «بسم الله الكبير أعوذ بالله العظيم من شر عرق نعار ومن شر حر النار» یعنی ” اللہ عظیم کے نام سے ، جوش مارنے والی رگ کے شر سے ، اور جہنم کی گرمی کے شر سے میں اللہ عظیم کی پناہ مانگتا ہوں “ ۔ ابوعامر کہتے ہیں کہ میں اس میں لوگوں کے برخلاف «یعّار» کہتا ہوں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3526]
💡 وضاحت:
۱؎: اور لوگ «نعارنون» سے کہتے ہیں یعنی جوش مارنے والا، اور «یعار» کے معنی بدخلق، سخت اور سرکش کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2075) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الطب 26 (2075)، (تحفة الأشراف: 6076)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3001) (ضعیف) (ابراہیم اشہلی ضعیف راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ , عَنْ عُمَيْرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ , قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ , يَقُولُ: أَتَى جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ , فَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ , مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ , مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ , وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ".
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے اس میں «یعار» ہے ( «نعار» نہیں ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3527M]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5081، ومصباح الزجاجة: 1230)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/323) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ , عَنْ عُمَيْرٍ , أَنَّهُ سَمِعَ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ , قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ , يَقُولُ: أَتَى جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ , فَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ , مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ , مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ , وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا ، تو انہوں نے کہا : «بسم الله أرقيك من كل شيء يؤذيك من حسد حاسد ومن كل عين الله يشفيك» یعنی ” اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں ، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے ، حاسد کے حسد سے ، اور ہر نظر بد سے ، اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء عطا کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3527]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5081، ومصباح الزجاجة: 1230)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/323) (حسن)
38: بَابُ : النَّفْثِ فِي الرُّقْيَةِ
باب: دم (جھاڑ پھونک) کرتے وقت پھونکنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة , وَعَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ , وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَنْفُثُ فِي الرُّقْيَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا پڑھ کر ( منتر ) کو پھونکا کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3528]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی دعا پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیتے تھے، یا دوسرے پر پڑھ کر پھونکتے تھے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جھاڑ پھونک جائزہے، بشرطیکہ وہ کتاب و سنت سے ثابت دعاؤوں کے ذریعے ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16603) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا اشْتَكَى , يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ: بِالْمُعَوِّذَاتِ , وَيَنْفُثُ , فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ , كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑے تو اپنے اوپر معوذات پڑھتے اور پھونک لیتے ، لیکن جب آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پڑھتی اور برکت کی امید سے آپ ہی کا ہاتھ آپ پر پھیرتی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3529]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فصل القرآن 14 (5016)، صحیح مسلم/السلام 20 (2192)، سنن ابی داود/الطب 19 (3902)، (تحفة الأشراف: 16589)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 4 (10)، مسند احمد (6/104، 181، 256، 263) (صحیح)
39: بَابُ : تَعْلِيقِ التَّمَائِمِ
باب: تعویذ لٹکانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ , عَنْ ابْنِ أُخْتِ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ زَيْنَبَ , قَالَتْ: كَانَتْ عَجُوزٌ تَدْخُلُ عَلَيْنَا تَرْقِي مِنَ الْحُمْرَةِ , وَكَانَ لَنَا سَرِيرٌ طَوِيلُ الْقَوَائِمِ , وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ تَنَحْنَحَ وَصَوَّتَ , فَدَخَلَ يَوْمًا فَلَمَّا سَمِعَتْ صَوْتَهُ احْتَجَبَتْ مِنْهُ , فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِي فَمَسَّنِي فَوَجَدَ مَسَّ خَيْطٍ , فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: رُقًى لِي فِيهِ مِنَ الْحُمْرَةِ , فَجَذَبَهُ وَقَطَعَهُ فَرَمَى بِهِ , وَقَالَ: لَقَدْ أَصْبَحَ آلُ عَبْدِ اللَّهِ أَغْنِيَاءَ عَنِ الشِّرْكِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ" , قُلْتُ: فَإِنِّي خَرَجْتُ يَوْمًا فَأَبْصَرَنِي فُلَانٌ فَدَمَعَتْ عَيْنِي الَّتِي تَلِيهِ , فَإِذَا رَقَيْتُهَا سَكَنَتْ دَمْعَتُهَا وَإِذَا تَرَكْتُهَا دَمَعَتْ , قَالَ: ذَاكِ الشَّيْطَانُ إِذَا أَطَعْتيِهِ تَرَكَكِ , وَإِذَا عَصَيْتِيِهِ طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي عَيْنِكِ , وَلَكِنْ لَوْ فَعَلْتِ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ خَيْرًا لَكِ وَأَجْدَرَ أَنْ تُشْفَيْنَ تَنْضَحِينَ فِي عَيْنِكِ الْمَاءَ , وَتَقُولِينَ: " أَذْهِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ , اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي , لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ , شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا".
زینب زوجہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک بڑھیا آیا کرتی تھیں ، وہ «حمرہ» ۱؎ کا دم کرتی تھیں ، ہمارے پاس بڑے پایوں کی ایک چارپائی تھی ، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ جب گھر آتے تو کھنکھارتے اور آواز دیتے ، ایک دن وہ گھر کے اندر آئے جب اس بڑھیا نے ان کی آواز سنی تو ان سے پردہ کر لیا ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آ کر میری ایک جانب بیٹھ گئے اور مجھے چھوا تو ان کا ہاتھ ایک گنڈے سے جا لگا ، پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یہ سرخ بادے ( «حمرہ» ) کے لیے دم کیا ہوا گنڈا ہے ، یہ سن کر انہوں نے اسے کھینچا اور کاٹ کر پھینک دیا اور کہا : عبداللہ کے گھرانے کو شرک کی حاجت نہیں ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” دم ، تعویذ ، گنڈے اور ٹونا شرک ہیں “ ۱؎ ، ایک دن میں باہر نکلی تو مجھ پر فلاں شخص کی نظر پڑ گئی ، تو میری اس آنکھ سے جو اس سے قریب تر تھی آنسو بہہ نکلے ، جب میں اس پر دم کرتی تو اس کے آنسو رک جاتے ، اور جب میں دم کرنا چھوڑ دیتی تو آنسو بہنے لگتے ، انہوں نے کہا : یہی تو شیطان ہے ، جب تم اس کی اطاعت کرتی ہو تو وہ تم کو چھوڑ دیتا ہے ، اور جب تم اس کی نافرمانی کرتی ہو تو وہ تمہاری آنکھ میں اپنی انگلی چبھو دیتا ہے ، لیکن اگر تم وہ عمل کرتیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے موقع پر کیا تو تمہارے حق میں بہتر ہوتا ، اور تم ٹھیک ہو جاتیں ، تم اپنی آنکھ میں پانی کے چھینٹے مارا کرو ، اور یہ دعا پڑھا کرو : «أذهب الباس رب الناس اشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما» ” اے لوگوں کے رب ، مصیبت دور فرما ، شفاء عطا کر ، تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے ، تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء ہے بھی نہیں ، ایسی شفاء دے کہ کوئی بیماری باقی رہ نہ جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3530]
💡 وضاحت:
۱؎: «حمرۃ» : ایک بیماری جس میں جسم پر سرخ دانے نکل آتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3883) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9643، مصباح الزجاجة: 1231)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 17 (3883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/381) (ضعیف) (تراجع الألبانی: رقم: 142)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مُبَارَكٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَأَى رَجُلًا فِي يَدِهِ حَلْقَةٌ مِنْ صُفْرٍ , فَقَالَ: " مَا هَذِهِ الْحَلْقَةُ؟" , قَالَ: هَذِهِ مِنَ الْوَاهِنَةِ , قَالَ: " انْزِعْهَا فَإِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں پیتل کا ایک کڑا ہے ، پوچھا : یہ کیسا کڑا ہے ، اس نے جواب دیا : یہ واہنہ ۱؎ کی بیماری سے بچنے کے لیے ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اتارو ، اس لیے کہ یہ تمہارے اندر مزید وہن ( کمزوری ) پیدا کر دے گا “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3531]
💡 وضاحت:
۱؎: «واہنہ» : وہ ریاحی درد ہے جو بازو وغیرہ میں ہوتا ہے جس سے کمزوری محسوس ہوتی ہے۔
۲؎: تعویذ گنڈا، جادو منتر اور اسی طرح کا ہر وہ عمل جو کتاب اللہ اور سنت رسول سے ثابت نہ ہو حرام و ناجائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مبارك بن فضالة مدلس و عنعن ¤ وصرح بسماع الحسن من عمران وھو شاذ،وسنده ضعيف من أجل عنعنة مبارك والحسن البصري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10807، ومصباح الزجاجة: 1232)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/445 (ضعیف) (مبارک بن فضالہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں، روایت عنعنہ سے کی ہے)
40: بَابُ : النُّشْرَةِ
باب: آسیب (جن) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ , عَنْ أُمِّ جُنْدُبٍ , قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ , ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَبِعَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ , وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا , بِهِ بَلَاءٌ لَا يَتَكَلَّمُ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ هَذَا ابْنِي وَبَقِيَّةُ أَهْلِي وَإِنَّ بِهِ بَلَاءً لَا يَتَكَلَّمُ , فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْتُونِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ" , فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ , وَمَضْمَضَ فَاهُ , ثُمَّ أَعْطَاهَا , فَقَالَ: " اسْقِيهِ مِنْهُ , وَصُبِّي عَلَيْهِ مِنْهُ , وَاسْتَشْفِي اللَّهَ لَهُ" , قَالَتْ: فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ , فَقُلْتُ: لَوْ وَهَبْتِ لِي مِنْهُ , فَقَالَتْ: إِنَّمَا هُوَ لِهَذَا الْمُبْتَلَى , قَالَتْ: فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ مِنَ الْحَوْلِ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْغُلَامِ , فَقَالَتْ: بَرَأَ وَعَقَلَ عَقْلًا لَيْسَ كَعُقُولِ النَّاسِ.
ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم النحر کو بطن وادی میں جمرہ عقبہ کی رمی کرتے دیکھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے تو آپ کے پیچھے پیچھے قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی ، اس کے ساتھ ایک بچہ تھا جس پر آسیب تھا ، وہ بولتا نہیں تھا ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ میرا بیٹا ہے اور یہی میرے گھر والوں میں باقی رہ گیا ہے ، اور اس پر ایک بلا ( آسیب ) ہے کہ یہ بول نہیں پاتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تھوڑا سا پانی لاؤ “ ، پانی لایا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور اس میں کلی کی ، پھر وہ پانی اسے دے دیا ، اور فرمایا : ” اس میں سے تھوڑا سا اسے پلا دو ، اور تھوڑا سا اس کے اوپر ڈال دو ، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے شفاء طلب کرو “ ، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے ملی اور اس سے کہا کہ اگر تم اس میں سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی دے دیتیں ، ( تو اچھا ہوتا ) تو اس نے جواب دیا کہ یہ تو صرف اس بیمار بچے کے لیے ہے ، ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اس عورت سے سال بھر بعد ملی اور اس بچے کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ٹھیک ہو گیا ہے ، اور اسے ایسی عقل آ گئی جو عام لوگوں کی عقل سے بڑھ کر ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3532]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديثان السابقان (3028،3031) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (3031) (ضعیف) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعَّادُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الدَّوَاءِ الْقُرْآنُ»
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہترین دوا قرآن مجید ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3533]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (3501) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10056) (ضعیف) (سند میں حارث الاعور ضعیف راوی ہے)
41: بَابُ : قَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ
باب: دو دھاری سانپ کو قتل کر دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ , فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ" , يَعْنِي: حَيَّةً خَبِيثَةً.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دھاری سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا ، اس لیے کہ وہ آنکھ کی بینائی کو زائل کرنے اور عورتوں کے حمل کو گرا دیتا ہے ، یہ ایک خبیث سانپ ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3534]
💡 وضاحت:
۱؎: جس کو عربی میں «ذي الطفيتين» کہتے ہیں، وہ ایک خبیث زہریلا سانپ ہے اس کی پیٹھ پر دو سفید لکیریں ہوتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 37 (2232)، (تحفة الأشراف: 17068)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 15 (3308) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ , وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ , وَالْأَبْتَرَ , فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ , وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سانپوں کو مار ڈالو ، دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو ضرور مارو ، اس لیے کہ یہ دونوں آنکھ کی بینائی زائل کر دیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3535]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 14 (3297 تعلیقاً)، صحیح مسلم/السلام 37 (2233)، (تحفة الأشراف: 6985)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 174 (5252)، موطا امام مالک/الإستئذان 12 (37)، مسند احمد (3/430، 452، 453) (حسن صحیح)
42: بَابُ : مَنْ كَانَ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ وَيَكْرَهُ الطِّيَرَةَ
باب: نیک فال لینا اچھا ہے اور بدفالی مکروہ۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ الْحَسَنُ , وَيَكْرَهُ الطِّيَرَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیک فال ( اچھے شگون ) اچھی لگتی تھی ، اور فال بد ( برے شگون ) کو ناپسند فرماتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3536]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15069)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 43 (5754)، 44 (5755)، صحیح مسلم/السلام 33 (2220) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ , وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چھوت چھات اور بدشگونی کوئی چیز نہیں ، اور میں فال نیک کو پسند کرتا ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3537]
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطب 45 (5776)، صحیح مسلم/السلام 34 (2224)، (تحفة الأشراف: 1259)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 24 (3916)، سنن الترمذی/السیر 47 (1615)، مسند احمد (3/118، 154، 130، 178، 251، 173، 275) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ سَلَمَةَ , عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ زِرٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا , وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بدشگونی شرک ہے ۱؎ اور ہم میں سے جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کی وجہ سے یہ خیال دور کر دے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3538]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کے اوپر بھروسہ کرنے سے یہ وہم جاتا رہے گا، انسان کو چاہئے کہ اگر ایسا وہم کبھی دل میں آئے، تو اس کو بیان نہ کرے، اور منھ سے نہ نکالے،اور اللہ پر بھروسہ کرے، جو وہ چاہے وہ ہو گا، امام بخاری نے کہا: سلیمان بن حرب کہتے تھے کہ میرے نزدیک یہ قول: «ومامنا۔۔۔» اخیر تک ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے، بلکہ اکثر حفاظ نے اس کو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کلام کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطب 24 (3910)، سنن الترمذی/السیر 47 (1614)، تحفة الأشراف (9207)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389، 438، 440) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ , وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چھوت چھات ۱؎ اور بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے ، اسی طرح الو اور ماہ صفر کی نحوست کوئی چیز نہیں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3539]
💡 وضاحت:
۱؎: چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہے، بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے، الو کو دن میں دکھائی نہیں دیتا ہے، تو وہ رات کو نکلتا ہے، اور اکثر ویرانوں میں رہتا ہے، عرب لوگ اس کو منحوس جانتے تھے، اور بعض یہ سمجھتے تھے کہ مقتول کی روح الو بن کر پکارتی پھرتی ہے، جب اس کا بدلہ لے لیا جاتا ہے تو وہ اڑ جاتا ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال کو باطل قرار دیا، اسی طرح صفر کے مہینے کو عوام اب تک منحوس جانتے ہیں، صفر کے مہینے کے پہلے تیرہ دن جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تھے ان ایام کو تیرہ تیزی کہتے ہیں، ان میں عورتیں کوئی بڑا کام جیسے شادی بیاہ وغیرہ کرنے نہیں دیتیں،یہ بھی لغو ہے، صفر کا مہینہ اور مہینوں کی طرح ہے، کچھ فرق نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6126، ومصباح الزجاجة: 1234)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/269، 328) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَبِي جَنَابٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى , وَلَا طِيَرَةَ , وَلَا هَامَةَ" , فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْبَعِيرُ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ , فَتَجْرَبُ بِهِ الْإِبِلُ , قَالَ: " ذَلِكَ الْقَدَرُ فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چھوت چھات ، بدشگونی اور الو دیکھنے کی کوئی حقیقت نہیں ، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اٹھ کر بولا : اللہ کے رسول ! ایک اونٹ کو جب کھجلی ہوتی ہے تو دوسرے اونٹ کو بھی اس کی وجہ سے کھجلی ہو جاتی ہے ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہی تو تقدیر ہے ، آخر پہلے اونٹ کو کس نے کھجلی والا بنایا “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3540]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ کہ امراض متعدی بھی ہوتے ہیں۔
۲؎: اور جو ڈاکٹر یا حکیم ہمارے زمانے میں بعض بیماری میں عدوی بتلاتے ہیں، ان سے جب یہ اعتراض کرو کہ بھلا اگر عدوی صحیح ہوتا تو جس گھر میں ایک شخص کو ہیضہ ہو تو چاہیے کہ اس گھر کے بلکہ اس محلہ کے سب لوگ مر جائیں، تو اس کا کوئی معقول جواب نہیں دیتے، بلکہ یوں کہتے ہیں کہ بعض مزاجوں میں اس بیماری کے قبول کرنے کا مادہ ہوتا ہے تو ان کو بیماری لگ جاتی ہے، بعض مزاجوں میں یہ مادہ نہیں ہوتا تو ان کو باوجود قرب کے بیماری نہیں لگتی، ہم یوں کہتے ہیں کہ مادے کا مزاج میں پیدا کرنے والا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ، تو پھر سب امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوئے اسی کی مرضی اور تقدیر سے پھر عدوی کا قائل ہونا کیا ضروری ہے؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ذلك القدر
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (86)، (تحفة الأشراف: 8580، ومصباح الزجاجة: 1235) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ a> , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ جانے دیا جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3541]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری متعدی ہوتی ہے، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تندرست اور غیر مریض جانوروں کو مریض اونٹوں کے قریب لے جانے سے منع کیا، بلکہ آپ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ اکثر ایسا سابقہ تقدیر اور اللہ کی مرضی کے مطابق ہو جاتا ہے، تو جانورں کا مالک تعدی کے ناحیہ سے فتنہ اور شک میں مبتلا ہو سکتا ہے، اس وجہ سے آپ نے دور رکھنے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15075)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام 33 (2221، 2223)، سنن ابی داود/الطب 24 (3911)، مسند احمد (2/434) (حسن صحیح)
43: بَابُ : الْجُذَامِ
باب: جذام (کوڑھ) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى , ومحمد بن خلف العسقلاني , قَالُوا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ مَجْذُومٍ , فَأَدْخَلَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ , ثُمَّ قَالَ: " كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَى اللَّهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی شخص کا ہاتھ پکڑا ، اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالے میں داخل کر دیا ، پھر اس سے کہا : ” کھاؤ ، میں اللہ پر اعتماد اور اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3542]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3925) ترمذي (1817) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطب 24 (3925)، سنن الترمذی/الأطعمة 19 (1817)، (تحفة الأشراف: 3010) (ضعیف) (سند میں مفضل بن فضالہ ضعیف راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ جَمِيعًا , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمَجْذُومِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جذامیوں ( کوڑھیوں ) کی طرف لگاتار مت دیکھو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3543]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6575، ومصباح الزجاجة: 1236)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/233، 299) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الشَّرِيدِ يُقَالُ لَهُ عَمْرٌو , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ فَقَدْ بَايَعْنَاكَ".
شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہلا بھیجا : ” تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3544]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ زیادہ دیکھنے سے دل میں وسوسہ اور اندیشہ پیدا ہو گا، اگر کبھی ایسے مصیبت زدہ پر نظر پڑ جائے تو یوں کہے: «الحمد لله الذى عافانى مما ابتلاك به وفضلنى على كثير ممن خلق تفضيلا» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 36 (2231)، سنن النسائی/البیعة 19 (4187)، (تحفة الأشراف: 4837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/389، 390) (صحیح)
44: بَابُ : السِّحْرِ
باب: جادو کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَحَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيٌّ مِنْ يَهُودِ بَنِي زُرَيْقٍ يُقَالُ لَهُ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ , حَتَّى كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَلَا يَفْعَلُهُ , قَالَتْ: حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ دَعَا , ثُمَّ دَعَا , ثُمَّ قَالَ: " يَا عَائِشَةُ، أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ , جَاءَنِي رَجُلَانِ، فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي , وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلِي , فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رَأْسِي لِلَّذِي عِنْدَ رِجْلِي , أَوِ الَّذِي عِنْدَ رِجْلِي لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِي: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ , قَالَ: مَنْ طَبَّهُ؟ قَالَ: لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ , قَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ , قَالَ: فِي مُشْطٍ , وَمُشَاطَةٍ , وَجُفِّ طَلْعَةِ ذَكَرٍ , قَالَ: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي بِئْرِ ذِي أَرْوَانَ" , قَالَتْ: فَأَتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , ثُمَّ جَاءَ , فَقَالَ: " وَاللَّهِ يَا عَائِشَةُ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ , وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ" , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَفَلَا أَحْرَقْتَهُ , قَالَ: " لَا , أَمَّا أَنَا فَقَدْ عَافَانِي اللَّهُ , وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ مِنْهُ شَرًّا" , فَأَمَرَ بِهَا فَدُفِنَتْ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی زریق کے یہودیوں میں سے لبید بن اعصم نامی ایک یہودی نے جادو کر دیا ، تو آپ کو ایسا لگتا کہ آپ کچھ کر رہے ہیں حالانکہ آپ کچھ بھی نہیں کر رہے ہوتے تھے ، یہی صورت حال تھی کہ ایک دن یا ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ، پھر دعا فرمائی اور پھر دعا فرمائی ، پھر کہا : ” عائشہ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتا دی جو میں نے اس سے پوچھی تھی ، میرے پاس دو شخص آئے ، ایک میرے سرہانے اور دوسرا پائتانے بیٹھ گیا ، سرہانے والے نے پائتانے والے سے کہا ، یا پائتانے والے نے سرہانے والے سے کہا : اس شخص کو کیا بیماری ہے ؟ دوسرے نے کہا : اس پر جادو کیا گیا ہے ، اس نے سوال کیا : کس نے جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا : لبید بن اعصم نے ، اس نے پوچھا : کس چیز میں جادو کیا ہے ؟ جواب دیا : کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی کرتے وقت گرتے ہیں ، اور نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں ، پہلے نے پوچھا : یہ چیزیں کہاں ہیں ؟ دوسرے نے جواب دیا : ذی اروان کے کنوئیں میں “ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ اس کنوئیں پر تشریف لائے ، پھر واپس آئے تو فرمایا : ” اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ کی قسم ! اس کا پانی مہندی کے پانی کی طرح ( رنگین ) تھا ، اور وہاں کے کھجور کے درخت گویا شیطانوں کے سر تھے “ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا آپ نے اسے جلایا نہیں ؟ فرمایا : ” نہیں ، مجھے تو اللہ تعالیٰ نے تندرست کر دیا ہے ، اب میں نے ناپسند کیا کہ میں لوگوں پر اس کے شر کو پھیلاؤں “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ سب چیزیں دفن کر دی گئیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3545]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/السلام 17 (2189)، (تحفة الأشراف: 16985)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجزیة 14 (3175)، الطب 50 (5766)، مسند احمد (6/57) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ العنسيْ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , وَمُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْمِصْرِيَّيْنِ , قَالَا: حَدَّثَنَا نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَا يَزَالُ يُصِيبُكَ كُلَّ عَامٍ وَجَعٌ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ الَّتِي أَكَلْتَ , قَالَ: " مَا أَصَابَنِي شَيْءٌ مِنْهَا , إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوبٌ عَلَيَّ , وَآدَمُ فِي طِينَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اللہ کے رسول ! آپ کو ہر سال اس زہریلی بکری کی وجہ سے جو آپ نے کھائی تھی ، تکلیف ہوتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اس کی وجہ سے کچھ بھی ہوا وہ میرے مقدر میں اسی وقت لکھ دیا گیا تھا جب آدم مٹی کے پتلے تھے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3546]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبوبكر العنسي: مجهول كما قال ابن عدي وضعفه البوصيري (!) وقال صاحب التقريب: ”وأنا أحسب أنه (أبو بكر) ابن أبي مريم الذي تقدم:7998“ وأبو بكر بن أبي مريم: ضعيف مشهور (انظر ضعيف سنن أبي داود: 4295) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 504
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8443، 8532، ومصباح الزجاجة: 1237) (ضعیف) (سند میں ابوبکر عنسی مجہول الحال راوی ہیں)
45: بَابُ : الْفَزَعِ وَالأَرَقِ وَمَا يُتَعَوَّذُ مِنْهُ
باب: گھبراہٹ کے وقت اور نیند اچاٹ ہونے پر کیا دعا پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا وَهْيبٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ , أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا , قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ , لَمْ يَضُرَّهُ فِي ذَلِكَ الْمَنْزِلِ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ".
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کسی مقام پر اترے تو وہ اس وقت یہ دعا پڑھے : «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق- لم يضره في ذلك المنزل شيء حتى يرتحل منه» ” میں پناہ مانگتا ہوں اللہ تعالیٰ کے تمام کلمات کی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا “ تو اس مقام پر کوئی چیز اسے ضرر نہیں پہنچا سکتی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3547]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء 16 (2708)، سنن الترمذی/الدعوات 41 (3437)، (تحفة الأشراف: 15826)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 337، 378، 409)، سنن الدارمی/الاستئذان 48 (2722) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنِي عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ , قَالَ: لَمَّا اسْتَعْمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الطَّائِفِ , جَعَلَ يَعْرِضُ لِي شَيْءٌ فِي صَلَاتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي , فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَحَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " ابْنُ أَبِي الْعَاصِ" , قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " مَا جَاءَ بِكَ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَرَضَ لِي شَيْءٌ فِي صَلَوَاتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي , قَالَ: " ذَاكَ الشَّيْطَانُ ادْنُهْ" , فَدَنَوْتُ مِنْهُ , فَجَلَسْتُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيَّ , قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرِي بِيَدِهِ , وَتَفَلَ فِي فَمِي , وَقَالَ: " اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ" , فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " الْحَقْ بِعَمَلِكَ" , قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ: فَلَعَمْرِي مَا أَحْسِبُهُ خَالَطَنِي بَعْدُ.
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا ، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں ، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا ، تو آپ نے فرمایا : ” کیا ابن ابی العاص ہو “ ؟ ، میں نے کہا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ نے سوال کیا : ” تم یہاں کیوں آئے ہو “ ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شیطان ہے ، تم میرے قریب آؤ ، میں آپ کے قریب ہوا ، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا ، اور ( شیطان کو مخاطب کر کے ) فرمایا : «اخرج عدو الله» ” اللہ کے دشمن ! نکل جا “ ؟ یہ عمل آپ نے تین بار کیا ، اس کے بعد مجھ سے فرمایا : ” اپنے کام پر جاؤ “ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قسم سے ! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3548]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9767، ومصباح الزجاجة: 1238) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ حَيَّانَ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أَبِيهِ أَبِي لَيْلَى , قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ , فَقَالَ: إِنَّ لِي أَخًا وَجِعًا , قَالَ: " مَا وَجَعُ أَخِيكَ؟" , قَالَ: بِهِ لَمَمٌ , قَالَ: " اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ" , قَالَ: فَذَهَبَ فَجَاءَ بِهِ , فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ , فَسَمِعْتُهُ: " عَوَّذَهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وَأَرْبَعِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الْبَقَرَةِ , وَآيَتَيْنِ مِنْ وَسَطِهَا وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ سورة البقرة آية 163 , وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ , وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ خَاتِمَتِهَا , وَآيَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ" , أَحْسِبُهُ قَالَ: " شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ سورة آل عمران آية 18 , وَآيَةٍ مِنْ الْأَعْرَافِ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سورة الأعراف آية 54 , وَآيَةٍ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ سورة المؤمنون آية 117 , وَآيَةٍ مِنْ الْجِنِّ: وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلا وَلَدًا سورة الجن آية 3 , وَعَشْرِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الصَّافَّاتِ، وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ الْحَشْرِ , وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ والمعوذتين" , فَقَامَ الْأَعْرَابِيُّ , قَدْ بَرَأَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ.
ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک اعرابی نے آ کر کہا : میرا ایک بیمار بھائی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا : ” تمہارے بھائی کو کیا بیماری ہے “ ؟ وہ بولا : اسے آسیب ہو گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اسے لے کر آؤ “ ، ابولیلیٰ کہتے ہیں کہ وہ ( اعرابی ) گیا اور اسے لے آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے سامنے بیٹھایا ، میں نے آپ کو سنا کہ آپ نے اسے دم کیا ، سورۃ فاتحہ ، سورۃ البقرہ کی ابتدائی چار آیات اور درمیان کی دو آیتیں ، اور «وإلهكم إله واحد» والی آیت ، آیت الکرسی ، پھر سورۃ البقرہ کی آخری تین آیات ، آل عمران کی آیت ( جو میرے خیال میں ) «شهد الله أنه لا إله إلا هو» ہے ، سورۃ الاعراف کی آیت «إن ربكم الله الذي خلق» ، سورۃ مومنون کی آیت «ومن يدع مع الله إلها آخر لا برهان له به» ، سورۃ الجن کی آیت «وأنه تعالى جد ربنا ما اتخذ صاحبة ولا ولدا» اور سورۃ الصافات کے شروع کی دس آیات ، اور سورۃ الحشر کی آخری تین آیات ، سورۃ «قل هو الله أحد» اور معوذتین کے ذریعے ، تو اعرابی شفایاب ہو کر کھڑا ہو گیا ، اور ایسا لگ رہا تھا کہ اسے کوئی تکلیف نہیں ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3549]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو جناب بن أبي حية: ضعيف مدلس كما قال البوصيري (انظر ضعيف سنن أبي داود: 551) ولأبي جناب لون آخر في زوائد المسند لأحمد (128/5) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 505
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12154، ومصباح الزجاجة: 1239) (منکر) (سند میں ابو جناب الکلبی کثرت تدلیس کی وجہ سے ضعیف راوی ہیں)
← پچھلی کتاب #34 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #36 →