سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3548
Sunan Ibn Majah 3548
کتاب #32: کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
45: بَابُ : الْفَزَعِ وَالأَرَقِ وَمَا يُتَعَوَّذُ مِنْهُ
باب: گھبراہٹ کے وقت اور نیند اچاٹ ہونے پر کیا دعا پڑھے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ , حَدَّثَنِي عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ , قَالَ: لَمَّا اسْتَعْمَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الطَّائِفِ , جَعَلَ يَعْرِضُ لِي شَيْءٌ فِي صَلَاتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي , فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَحَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " ابْنُ أَبِي الْعَاصِ" , قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " مَا جَاءَ بِكَ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَرَضَ لِي شَيْءٌ فِي صَلَوَاتِي حَتَّى مَا أَدْرِي مَا أُصَلِّي , قَالَ: " ذَاكَ الشَّيْطَانُ ادْنُهْ" , فَدَنَوْتُ مِنْهُ , فَجَلَسْتُ عَلَى صُدُورِ قَدَمَيَّ , قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرِي بِيَدِهِ , وَتَفَلَ فِي فَمِي , وَقَالَ: " اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ" , فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " الْحَقْ بِعَمَلِكَ" , قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ: فَلَعَمْرِي مَا أَحْسِبُهُ خَالَطَنِي بَعْدُ.
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا عامل مقرر کیا ، تو مجھے نماز میں کچھ ادھر ادھر کا خیال آنے لگا یہاں تک کہ مجھے یہ یاد نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھتا ہوں ، جب میں نے یہ حالت دیکھی تو میں سفر کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا ، تو آپ نے فرمایا : ” کیا ابن ابی العاص ہو “ ؟ ، میں نے کہا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ نے سوال کیا : ” تم یہاں کیوں آئے ہو “ ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے نماز میں طرح طرح کے خیالات آتے ہیں یہاں تک کہ مجھے یہ بھی خبر نہیں رہتی کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شیطان ہے ، تم میرے قریب آؤ ، میں آپ کے قریب ہوا ، اور اپنے پاؤں کی انگلیوں پر دو زانو بیٹھ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھ سے میرا سینہ تھپتھپایا اور اپنے منہ کا لعاب میرے منہ میں ڈالا ، اور ( شیطان کو مخاطب کر کے ) فرمایا : «اخرج عدو الله» ” اللہ کے دشمن ! نکل جا “ ؟ یہ عمل آپ نے تین بار کیا ، اس کے بعد مجھ سے فرمایا : ” اپنے کام پر جاؤ “ عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قسم سے ! مجھے نہیں معلوم کہ پھر کبھی شیطان میرے قریب پھٹکا ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3548]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9767، ومصباح الزجاجة: 1238) (صحیح)