سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3439
Sunan Ibn Majah 3439
کتاب #32: کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
1: بَابُ : مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلاَّ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً
باب: اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , حَدَّثَنَا عَطَاءٌ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً , إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج نہ اتارا ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3439]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر بیماری کی دوا ہے پھر جب وہ دوا جسم میں پہنچتی ہے تو بیمار اللہ تعالی کے حکم سے اچھا ہو جاتا ہے، یہ کہنا کہ دوا کی تاثیر سے صحت ہوئی شرک ہے، اور اگر یہ سمجھ کر دوا کھائے کہ اللہ تعالی کے حکم سے یہ موثر ہوتی ہے تو شرک نہیں ہے، اسی طرح ہر چیز کے بارے میں اعتقاد رکھنا چاہئے کہ اس کا نفع اور نقصان اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے، اور جو کوئی نفع و نقصان کے بارے میں یہ اعتقاد رکھ کر کہے کہ فلاں چیز سے نفع ہوا یعنی اللہ کے حکم سے تو وہ شرک نہ ہو گا، اور جب اس چیز کو مستقل نفع بخش سمجھے گا تو وہ شرک ہو جائے گا، مشرکین یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بعض اپنے مقبول بندوں کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ جو چاہیں کریں، اب وہ جس کو چاہیں اپنے اختیار سے نفع پہنچاتے ہیں، اور اللہ تعالی کا حکم ہر معاملہ میں نہیں لیتے یہ اعتقاد شرک ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطب 1 (5678)، (تحفة الأشراف: 14197) (صحیح)