سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3518
Sunan Ibn Majah 3518
کتاب #32: کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
35: بَابُ : رُقْيَةِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ
باب: سانپ اور بچھو کے جھاڑ پھونک کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بَهْرَامَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: لَدَغَتْ عَقْرَبٌ رَجُلًا , فَلَمْ يَنَمْ لَيْلَتَهُ , فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فُلَانًا لَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ فَلَمْ يَنَمْ لَيْلَتَهُ , فَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَالَ حِينَ أَمْسَى: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ , مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ , مَا ضَرَّهُ لَدْغُ عَقْرَبٍ حَتَّى يُصْبِحَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے ، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» یعنی ” میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا “ ، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3518]
💡 وضاحت:
۱؎: پھر صبح کو یہ کہہ لیتا تو شام تک کوئی کیڑا ضررنہ پہنچا سکتا سبحان اللہ کیا عمدہ موثر اور مختصر دعا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12663، ومصباح الزجاجة: 1227)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب 19 (3899)، مسند احمد (2/375) (صحیح)