سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3454
Sunan Ibn Majah 3454
کتاب #32: کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
8: بَابُ : الْكَمْأَةِ وَالْعَجْوَةِ
باب: کھمبی اور عجوہ کھجور کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , سَمِعَ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ الْكَمْأَةَ مِنَ الْمَنِّ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ , وَمَاؤُهَا شِفَاءُ الْعَيْنِ".
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھمبی «من» میں سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل فرمایا تھا ، اور اس کے پانی میں آنکھوں کا علاج ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3454]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کھمبی اس «من» کے ہم مثل ہے جو بلا محنت و مشقت آسمان سے بنی ا سرائیل کے لیے نازل ہوتا تھا، کھمبی ایک چھوٹا سا پودا ہے جو زمین سے نکلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطب 20 (5708)، صحیح مسلم/الأشربة 28 (2049)، سنن الترمذی/الطب 22 (2067)، (تحفة الأشراف: 4465)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/187، 188) (صحیح)