سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3457
Sunan Ibn Majah 3457
کتاب #32: کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
9: بَابُ : السَّنَا وَالسَّنُّوتِ
باب: سنا اور سنوت کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ سَرْحٍ الْفِرْيَابِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُبَيِّ بْنَ أُمِّ حَرَامٍ , وَكَانَ قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَتَيْنِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " عَلَيْكُمْ بِالسَّنَى وَالسَّنُّوتِ , فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ , إِلَّا السَّامَ" , قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: وَمَا السَّامُ؟ قَالَ: " الْمَوْتُ" , قَالَ عَمْرٌو: قَالَ ابْنُ أَبِي عَبْلَةَ: السَّنُّوتُ: الشِّبِتُّ , وقَالَ آخَرُونَ: بَلْ هُوَ الْعَسَلُ الَّذِي يَكُونُ فِي زِقَاقِ السَّمْنِ , وَهُوَ قَوْلُ الشَّاعِرِ: هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا أَلْسَ فِيهِمْ وَهُمْ يَمْنَعُونَ جَارَهُمْ أَنْ يُقَرَّدَا.
ابو ابی بن ام حرام رضی اللہ عنہا ( وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھ چکے ہیں ) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” «تمسنا» اور «سنوت» ۱؎ کا استعمال لازم کر لو ، اس لیے کہ «سام» کے سوا ان میں ہر مرض کے لیے شفاء ہے “ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! «سام» کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موت “ ۔ عمرو کہتے ہیں کہ ابن ابی عبلہ نے کہا : «سنوت» : «سویے» کو کہتے ہیں ، بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ وہ شہد ہے جو گھی کی مشکوں میں ہوتا ہے ، شاعر کا یہ شعر اسی معنی میں وارد ہے ۔ «هم السمن بالسنوت لا ألس فيهم وهم يمنعون جارهم أن يقردا» وہ لوگ ملے ہوئے گھی اور شہد کی طرح ہیں ان میں خیانت نہیں ، اور وہ لوگ تو اپنے پڑوسی کو بھی دھوکا دینے سے منع کرتے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3457]
💡 وضاحت:
۱؎: «سنا» : ایک مسہل (دست لانے والی) دو ا کا نام ہے، اور «سنوت» : سویا یا بعض لوگوں کے بقول شہد کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11858، ومصباح الزجاجة: 1204) (صحیح)