سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3495
Sunan Ibn Majah 3495
کتاب #32: کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
25: بَابُ : الْكُحْلِ بِالإِثْمِدِ
باب: اثمد کا سرمہ لگانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ , فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اپنے اوپر «اثمد» ۲؎ کو لازم کر لو ، اس لیے کہ وہ بینائی تیز کرتا ہے اور بال اگاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3495]
💡 وضاحت:
۱؎: ثرمد: ایک پتھر ہے جو اصفہان (ایران) میں پایا جاتا ہے۔ اس سے تیار کردہ سرمہ بہترین اور مفید ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6771، ومصباح الزجاجة: 1219) (صحیح) (سند میں عثمان بن عبدالملک لین الحدیث ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، جب کہ باب کی احادیث میں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 724)