سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3487
Sunan Ibn Majah 3487
کتاب #32: کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
22: بَابٌ في أَيِّ الأَيَّامِ يَحْتَجِمُ
باب: کن دنوں میں پچھنا لگوایا جائے؟
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ , عَنْ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: يَا نَافِعُ , قَدْ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ , فَالْتَمِسْ لِي حَجَّامًا وَاجْعَلْهُ رَفِيقًا إِنِ اسْتَطَعْتَ , وَلَا تَجْعَلْهُ شَيْخًا كَبِيرًا وَلَا صَبِيًّا صَغِيرًا , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ , وَفِيهِ شِفَاءٌ وَبَرَكَةٌ , وَتَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَفِي الْحِفْظِ , فَاحْتَجِمُوا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْخَمِيسِ , وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ , وَالْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ , وَيَوْمَ الْأَحَدِ تَحَرِّيًا , وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ , فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي عَافَى اللَّهُ فِيهِ أَيُّوبَ مِنَ الْبَلَاءِ , وَضَرَبَهُ بِالْبَلَاءِ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ , فَإِنَّهُ لَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ , إِلَّا يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ( اپنے غلام ) نافع سے کہا : نافع ! میرے خون میں جوش ہے ، لہٰذا کسی پچھنا لگانے والے کو میرے لیے تلاش کرو ، اور اگر ہو سکے تو کسی نرم مزاج کو لاؤ ، زیادہ بوڑھا اور کم سن بچہ نہ ہو ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” پچھنا نہار منہ لگانا بہتر ہے ، اس میں شفاء اور برکت ہے ، اس سے عقل بڑھتی ہے اور قوت حافظہ تیز ہوتی ہے ، تو جمعرات کو پچھنا لگواؤ ، اللہ برکت دے گا ، البتہ بدھ ، جمعہ ، سنیچر اور اتوار کو پچھنا لگوانے سے بچو ، اور ان دنوں کا قصد نہ کرو ، پھر سوموار ( دوشنبہ ) اور منگل کے دن پچھنا لگواؤ ، اس لیے کہ منگل وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو بیماری سے نجات دی ، اور بدھ کے دن آپ کو اس بیماری میں مبتلا کیا تھا ، چنانچہ جذام ( کوڑھ ) اور برص ( سفید داغ ) کی بیماریاں ( عام طور سے ) بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں پیدا ہوتی ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3487]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ الحسن بن أبي جعفر: ضعيف ¤ وعثمان بن مطر: ضعيف ¤ وللحديث شواهد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8421، ومصباح الزجاجة: 1215) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 474)