سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3467
Sunan Ibn Majah 3467
کتاب #32: کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل
17: بَابُ : دَوَاءِ ذَاتِ الْجَنْبِ
باب: ذات الجنب کی دوا کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ , قَالَ: " نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ , وَرْسًا , وَقُسْطًا , وَزَيْتًا يُلَدُّ بِهِ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ذات الجنب» کے علاج کے لیے یہ نسخہ بتایا کہ «ورس» اور «قسط» ( عود ہندی ) کو زیتون کے تیل میں ملا کر منہ میں ڈال دیا جائے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3467]
💡 وضاحت:
۱؎: «ذات الجنب» : یعنی الوہ ایک ورم ہے جو پسلی میں ہوتا ہے، اور یہ مرض بہت سخت ہے جس سے اکثر موت ہو جاتی ہے۔ «ورس» : ایک زرد رنگ کی خوشبو دار گھاس، ان تینوں دواؤں کو ملا کر منہ میں ایک طرف ڈال دئیے جائیں، «لدود» اس دوا کو کہتے ہیں، جو بیمار کے منہ میں لگائی جائے تاکہ پیٹ میں چلی جائے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2078) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطب 28 (2078، 2079)، (تحفة الأشراف: 3684)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/369، 372)، (ضعیف) (عبدالرحمن بن میمون اور ان کے والد میمون دونوں ضعیف راوی ہیں)