سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3371
Sunan Ibn Majah 3371
کتاب #31: کتاب: مشروبات کے متعلق احکام و مسائل
1: بَابُ : الْخَمْرُ مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ
باب: شراب ہر برائی کی کنجی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ , حَدَّثَنَا بْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ جَمِيعًا , عَنْ رَاشِدٍ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيِّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا تَشْرَبْ الْخَمْرَ , فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ( جگری دوست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی : ” شراب مت پیو ، اس لیے کہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3371]
💡 وضاحت:
۱؎: آدمی ہر ایک برائی سے عقل کی وجہ سے بچتا ہے جب عقل ہوتی ہے تو اللہ کا خوف ہوتا ہے، شراب پینے سے عقل ہی میں فتور آ جاتا ہے، پھر خوف کہاں رہا شرابی سے سینکڑوں گناہ سرزد ہوتے ہیں، اس لئے اس کو ام الخبائث کہتے ہیں، یعنی سب برائیوں کی جڑ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10985، ومصباح الزجاجة: 1168) (صحیح)