سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3398
Sunan Ibn Majah 3398
کتاب #31: کتاب: مشروبات کے متعلق احکام و مسائل
12: بَابُ : صِفَةِ النَّبِيذِ وَشُرْبِهِ
باب: نبیذ بنانے اور پینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , حَدَّثَتْنَا بُنَانَةُ بِنْتُ يَزِيدَ الْعَبْشَمِيَّةُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ , فَنَأْخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ أَوْ قَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ فَنَطْرَحُهَا فِيهِ , ثُمَّ نَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ , فَنَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً , وَنَنْبِذُهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً" , وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: نَهَارًا فَيَشْرَبُهُ لَيْلًا , أَوْ لَيْلًا فَيَشْرَبُهُ نَهَارًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ تیار کرتے اس کے لیے ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی انگور لے لیتے ، پھر اسے مشک میں ڈال دیتے ، اس کے بعد اس میں پانی ڈال دیتے ، اگر ہم اسے صبح میں بھگوتے تو آپ اسے شام میں پیتے ، اور اگر ہم شام میں بھگوتے تو آپ اسے صبح میں پیتے ۔ ابومعاویہ اپنی روایت میں یوں کہتے ہیں : ” دن میں بھگوتے تو رات میں پیتے اور رات میں بھگوتے تو دن میں پیتے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3398]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ بنانة (أوتبالة) لا تعرف (تقريب: 8545) ¤ و للحديث شواھد ضعيفة عند أبي داود (3706،3707) و غيره ¤ و حديث مسلم (2005) و أبي داود (3711) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 499
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17824)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة 9 (2005)، سنن ابی داود/الأشربة 10 (3711)، سنن الترمذی/الأشربة 7 (1871)، مسند احمد (6/46، 124) (صحیح) (سند میں نبانة بنت یزید غیر معروف ہیں، لیکن یہ حدیث ابن عباس کی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے)