سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3261
Sunan Ibn Majah 3261
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
5: بَابُ : الْوُضُوءِ عِنْدَ الطَّعَامِ
باب: کھانے کے وقت وضو کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا صَاعِدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا آتِيكَ بِوَضُوءٍ؟ قَالَ: " أُرِيدُ الصَّلَاةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو کھانا لایا گیا ، ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں آپ کے لیے وضو کا پانی نہ لاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں نماز ادا کرنا چاہتا ہوں “ ؟ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3261]
💡 وضاحت:
۱؎: جو وضو ضروری ہو، معلوم ہوا کہ کھانے سے پہلے وضو ضروری نہیں صرف ہاتھ دھونا ہی کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14229، ومصباح الزجاجة: 1120) (حسن صحیح) (سند میں صاعد بن عبید مقبول ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)