سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3336
Sunan Ibn Majah 3336
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
44: بَابُ : الْحُوَّارَى
باب: میدہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ , أَنَّ حَنَشَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ , عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ ، أَنَّهَا غَرْبَلَتْ دَقِيقًا , فَصَنَعَتْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِيفًا , فَقَالَ: " مَا هَذَا؟" , قَالَتْ: طَعَامٌ نَصْنَعُهُ بِأَرْضِنَا , فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَصْنَعَ مِنْهُ لَكَ رَغِيفًا , فَقَالَ: " رُدِّيهِ فِيهِ ثُمَّ اعْجِنِيهِ".
ام ایمن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے آٹا چھانا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کی روٹی بنائی ، آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ وہ کھانا ہے جو ہم اپنے علاقہ میں بناتے ہیں ، میں نے چاہا کہ اس سے آپ کے لیے بھی روٹی تیار کروں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے ( چھان کر نکالی گئی بھوسی ) اس میں ڈال دو ، پھر اسے گوندھو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3336]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18303، ومصباح الزجاجة: 1152) (حسن)