📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل (كتاب الأطعمة) 🏷️ باب: باب: ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو کیا کرے؟
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3278 Sunan Ibn Majah 3278
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
13: بَابُ : اللُّقْمَةِ إِذَا سَقَطَتْ
باب: ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَتَغَدَّى , إِذْ سَقَطَتْ مِنْهُ لُقْمَةٌ , فَتَنَاوَلَهَا فَأَمَاطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى فَأَكَلَهَا، فَتَغَامَزَ بِهِ الدَّهَاقِينُ، فَقِيلَ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ، إِنَّ هَؤُلَاءِ الدَّهَاقِينَ يَتَغَامَزُونَ مِنْ أَخْذِكَ اللُّقْمَةَ وَبَيْنَ يَدَيْكَ هَذَا الطَّعَامُ، قَالَ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِهَذِهِ الْأَعَاجِمِ، " إِنَّا كُنَّا نَأْمُرُ أَحَدُنَا , إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَتُهُ , أَنْ يَأْخُذَهَا فَيُمِيطَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ أَذًى وَيَأْكُلَهَا، وَلَا يَدَعَهَا لِلشَّيْطَانِ".
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دوپہر کا کھانا کھانے کے دوران ایک لقمہ ان سے گر گیا ، تو انہوں نے اسے اٹھایا ، اور اس میں لگے کچرے کو صاف کیا ، پھر اسے کھا لیا ( یہ دیکھ کر ) عجمی کسان ایک دوسرے کو آنکھوں سے اشارے کرنے لگے ، لوگوں نے کہا : اللہ امیر کا بھلا کرے ، آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہوتے ہوئے اس لقمے کو آپ کے اٹھانے پر یہ کسان لوگ آنکھوں سے باہم اشارے کر رہے ہیں ، وہ بولے : ان عجمیوں کی ( چہ مہ گوئیوں اور اشارے بازیوں کی ) وجہ سے میں اس بات کو ترک کرنے والا نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، ہم میں سے جب کسی کا لقمہ گر جاتا تو ہم اس سے کہتے کہ وہ اسے اٹھا لے اور اس میں لگی گندگی کو صاف کر لے پھر اسے کھا لے ، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے ا؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3278]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیثیں جن میں شیطان کے کھانے کا ذکر ہے اپنے ظاہری معنوں پر ہیں، اور مجازی معنی مراد نہیں ہے، اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے جو علم اپنے نبی کو دیا تھا، اس میں یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں اور شیاطین کا حال بھی جانتے تھے، اور ان کا پھرنا زمین میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد والمرفوع منه صحيح من حديث جابر وأنس م
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”منقطع،قال أبو حاتم: الحسن لم يسمع من معقل بن يسار“ ¤ والحديث الآتي في سنن ابن ماجه (الأصل:3279) يُغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11469، ومصباح الزجاجة: 1126)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 8 (2072) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کا سماع معقل بن یسار سے نہیں ہے، اس لئے انقطاع کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، لیکن مرفوع حدیث جابر و انس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے)
سنن ابن ماجه • حدیث #3278
3276 3277 3278 3279 3280

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3279 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، ...
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے ہاتھ سے...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ