سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3292
Sunan Ibn Majah 3292
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
20: بَابُ : الأَكْلِ عَلَى الْخِوَانِ وَالسُّفْرَةِ
باب: میز اور دستر خوان پر کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ الْإِسْكَافِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ، وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ، قَالَ: فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: عَلَى السُّفَرِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوان ( میز ) پر کبھی نہیں کھایا ، اور نہ «سکرجہ» ( چھوٹی طشتری ) ۱؎ میں کھایا ۔ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے ؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : دستر خوان پر ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3292]
💡 وضاحت:
۱؎: «سکرجہ» (چھوٹی طشتری) میں چٹنی اور کھٹائی وغیرہ رکھی جاتی ہے جس سے کھانے کی خواہش بڑھتی ہے یہ عیش پسندوں کا طریقہ ہے آپ کو یہ چیز پسند نہیں تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 8 (5386)، 23 (5415)، سنن الترمذی/الأطعمة 1 (1788)، (تحفة الأشراف: 1444)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/130) (صحیح)