سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3343
Sunan Ibn Majah 3343
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
48: بَابُ : خُبْزِ الْبُرِّ
باب: گیہوں کی روٹی کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ الْحِنْطَةِ , حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل تین روز تک کبھی گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3343]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی برابر تین دن تک کبھی گیہوں کی روٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ملی، اس طرح کہ پیٹ بھر کر کھائے ہوں، ہر روز بلکہ کبھی ایک دن گیہوں کی روٹی کھائی، تو دوسرے دن جو کی ملی، اور کبھی پیٹ بھر کر نہیں ملی، غرض ساری عمر تکلیف اور فقر و فاقہ ہی میں کٹی، سبحان اللہ! شہنشاہی میں فقیری یہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزہد 1 (2976)، سنن الترمذی/الزہد 38 (2358)، (تحفة الأشراف: 13440)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 1 (5374)، مسند احمد (2/434) (صحیح)