سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3318
Sunan Ibn Majah 3318
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
33: بَابُ : الاِئْتِدَامِ بِالْخَلِّ
باب: سرکہ کو سالن کے طور پر استعمال کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَعْدٍ , قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَأَنَا عِنْدَهَا , فَقَالَ: " هَلْ مِنْ غَدَاءٍ" , قَالَتْ: عِنْدَنَا خُبْزٌ وَتَمْرٌ وَخَلٌّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ , اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي الْخَلِّ , فَإِنَّهُ كَانَ إِدَامَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي , وَلَمْ يَفْتَقِرْ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ".
ام سعد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، میں انہیں کے پاس تھی ، آپ نے سوال کیا : ” کیا کچھ کھانے کو ہے “ ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : ہمارے پاس روٹی ، کھجور اور سرکہ ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے ، اے اللہ ! سر کے میں برکت عطا فرما ، اس لیے کہ مجھ سے پہلے انبیاء کا سالن یہی تھا ، اور ایسا گھر کبھی فقر کا شکار نہیں ہوا جس میں سرکہ موجود ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3318]
قال الشيخ الألباني:
موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ عنبسة: متروك متهم و محمد بن زاذان: متروك ¤ وأصله في صحيح مسلم (2052) دون قوله: ’’اللھم بارك في الخل فإنه كان إدام الأنبياء قبلي“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 495
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18321، ومصباح الزجاجة: 1143) (موضوع) (عنبسہ بن عبدالرحمن اور محمد بن زاذان کی وجہ سے یہ موضوع ہے، لیکن پہلا جملہ ثابت ہے، جیسا کہ اوپر گذرا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2220)