سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3365
Sunan Ibn Majah 3365
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
59: بَابُ : أَكْلِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ
باب: لہسن، پیاز اور گندنا کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا أَبُو شُرَيْحٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نِمْرَانَ الْحَجْرِيِّ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ نَفَرًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ مِنْهُمْ رِيحِ الْكُرَّاثِ , فَقَالَ: " أَلَمْ أَكُنْ نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ هَذِهِ الشَّجَرَةِ , إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسَانُ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ کو ان کی جانب سے گندنے کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا : ” کیا میں نے تمہیں اس پودے کو کھانے سے نہیں روکا تھا ؟ یقیناً فرشتوں کے لیے وہ چیزیں باعث اذیت ہوتی ہیں ، جو انسان کے لیے باعث اذیت ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3365]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 787)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 160 (854، 855)، الأطعمة 49 (5452)، الاعتصام 24 (7359)، صحیح مسلم/المساجد 17 (564)، سنن ابی داود/الأطعمة 41 (3822)، سنن الترمذی/الأطعمة 13 (1806)، سنن النسائی/المساجد 16 (708)، مسند احمد (3/374، 387) (صحیح)