سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3298
Sunan Ibn Majah 3298
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
23: بَابُ : عَرْضِ الطَّعَامِ
باب: کھانا پیش کیے جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ , فَعَرَضَ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: لَا نَشْتَهِيهِ، فَقَالَ: " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کھانے کو کہا ، ہم نے عرض کیا : ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ بھوک اور غلط بیانی کو اکٹھا نہ کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3298]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ کوئی کھانے کو کہے تو بھوک رکھ کر یوں کہتے ہیں: مجھے خواہش نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، اگر بھوک ہے تو کھانا کھا لینا چاہیے ورنہ غلط بیانی میں بھوکا رہے، اور عذاب میں مبتلا ہو۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
(سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: آداب الزفاف: 92، المشکاة: 3256)