سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3333
Sunan Ibn Majah 3333
کتاب #30: کتاب: کھانوں کے متعلق احکام و مسائل
42: بَابُ : تَفْتِيشِ التَّمْرِ
باب: اچھی اچھی کھجوریں تلاش کر کے کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ , عَنْ هَمَّامٍ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُتِيَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ , فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے پاس پرانی کھجوریں لائی گئیں ، تو آپ اس میں سے اچھی کھجوریں چھانٹنے لگے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3333]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس میں سے اچھی اچھی کھجوریں نکال کر کھاتے تھے، ابوداود کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کیڑے سسریاں نکالتے تھے، دوسری روایت میں کھجور چھانٹنے سے منع فرمایا، اور یہ محمول ہے اس حالت پر جب نئی کھجور ہو تو اس وقت چھانٹنے کی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأطعمة 43 (3832، 3833)، (تحفة الأشراف: 215) (صحیح)